معیشت بہتر بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے

ایڈیٹوریل  جمعـء 9 نومبر 2012
ان مزارات اور تاریخی مقامات پر زیادہ سے زیادہ سہولتیں بہم پہنچائی جائیں تو یہ زائرین اور سیاحوں کے لیے پر کشش ثابت ہوسکتے ہیں۔ فوٹو: آن لائن/ فائل

ان مزارات اور تاریخی مقامات پر زیادہ سے زیادہ سہولتیں بہم پہنچائی جائیں تو یہ زائرین اور سیاحوں کے لیے پر کشش ثابت ہوسکتے ہیں۔ فوٹو: آن لائن/ فائل

مقدس مذہبی مقامات کی زیارت اور تاریخی مقامات کی سیاحت اس وقت دنیا کی ایک بڑی صنعتوں میں شمار ہوتی ہے۔

امریکا‘ برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک‘ چین‘ ملائیشیا‘ تھائی لینڈ حتی کہ بھارت اور سری لنکا بھی اس صنعت سے اربوں روپے سالانہ کما رہے ہیں۔ جس ملک کی یہ صنعت جس قدر زیادہ مضبوط ہو گی وہاں معاشی اور کاروباری نظام اتنا ہی زیادہ پائیدار ہوتا چلا جائے گا۔ زائرین اور سیاحوں کی آمد سے نہ صرف ہوٹل اور ریسٹورنٹ کی صنعت فروغ پاتی ہے بلکہ مقامی مارکیٹ میں بھی اشیا کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ تمام ممالک مقدس مقامات کی تزئین و آرائش پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔سیاحت کی صنعت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لیے اپنے ملک میں تفریحی اور تاریخی مقامات پر بھی زیادہ سے زیادہ سہولتیں بہم پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر ملک کا محکمہ سیاحت اور وزارت مذہبی امور مختلف کتابچوں اور پمفلٹ کے ذریعے اپنے تفریحی، قدیم اور مقدس مقامات کی تشہیر کرتے اور زائرین اور سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنے کے لیے سستے اور پر کشش پیکیجز دیتے ہیں۔

زائرین اور سیاحوں کو سستے، معیاری اور پر آسائش ہوٹل‘ ریسٹورنٹ اور آرام دہ ٹرانسپورٹ کی سہولتوں کی ترغیبات دی جاتی ہیں۔ اس طرح زائرین اور سیاحوں کی زیادہ سے زیادہ آمد سے سالانہ خطیر رقم حاصل ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مذہبی مقامات اور درگاہیں بھی زائرین کی کشش کا باعث بنتی ہیں۔ یہاں پر منعقد ہونے والی مذہبی تقریبات سے کاروبار کو بھی مہمیز ملتی ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری ذرایع کے مطابق سعودی عرب نے اس سال حج اور عمرہ سے 16.5 بلین ڈالر کمائے۔ امسال 48 لاکھ افراد نے حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کی۔ پاکستان بھی اگر اپنے ہاں سیاحتی صنعت کو فروغ دے تو اس سے ہر سال اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حکومتی آمدن میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ سندھ اور ملتان میں قائم مزارات فن تعمیر کا شاندار نمونہ ہیں علاوہ ازیں یہاں تاریخی مقامات بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اگر ان مزارات اور تاریخی مقامات پر زیادہ سے زیادہ سہولتیں بہم پہنچائی جائیں تو یہ زائرین اور سیاحوں کے لیے پر کشش ثابت ہوسکتے ہیں۔

بھارت مسلمان بزرگان دین کے مزارات پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔ ہر سال دوسرے ممالک سے بھی ہزاروں لوگ اجمیر شریف، درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء اور دیگر مزارات پر حاضری دیتے ہیں جس سے بھارت کے معاشی اور کاروباری معاملات کو بڑھاوا ملتا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات نے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کراچی جو پاکستان کا تجارتی حب ہے آج خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ایسی خوفناک صورتحال میں کون زائر یا سیاح پاکستان کا رخ کرے گا۔زائر اور سیاح ہمیشہ پر امن ممالک کا رخ کرتے ہیں جہاں دہشت گردوں کی کارروائیوں سے بے گناہ شہریوں کی لاشیں گرتی ہوں وہاں سیاح تو دور کی بات مقامی افراد بھی اس علاقے میں رہنے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ حکومت امن و امان کی صورتحال بہتر بنائے تو پاکستان بھی زائرین اور سیاحوں کی آمد سے اربوں ڈالر کما کر خوشحالی کی جانب قدم بڑھا سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔