ہدایات ِ رسول کریم

ایکسپریس اردو  جمعـء 20 جولائ 2012
ماہ ِ شعبان کا آخری خطبہ (فوٹو ایکسپریس)

ماہ ِ شعبان کا آخری خطبہ (فوٹو ایکسپریس)

رسول کریم، خاتم النبیین  نے ماہ شعبان کے آخری روز ماہ رمضان المبارک کی اہمیت، اس کی فضیلت اور برکات کے حوالے سے ایک نہایت جامع خطبہ ارشاد فرمایا جو حکمت نبوی کا ایک عظیم خزانہ ہے۔ رمضان المبارک گزارنے کے لیے ذہن کی تیاری کے حوالے سے یہ خطبہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ نیکیوں کے اس موسم بہار سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں پورے شعور اور ادراک کے ساتھ تیاری کرنی چاہیے۔

رسول کریم  نے ارشاد فرمایا:’’اے لوگو! تم پر ایک بہت عظمتوں والا مہینہ سایہ فگن ہوا چاہتا ہے جو بہت بابرکت ہے۔‘‘

یہاں برکت سے مراد کسی چیز میں بڑھوتری اور اضافہ ہے۔ اس برکت کا مظہر یہ بھی ہے کہ ’’اس مہینے میں ایک رات وہ آتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘ یہاں قرآن مجید کی سورۃ القدر کا حوالہ ہے۔ ہزار مہینوں کی عبادت ایک طرف اور اس رات کی عبادت ایک طرف ہے۔ یہ موقع اﷲ نے دیا ہے، لیکن یہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔ انسان ارادہ کرے تو اﷲ بھی راستے کھولتا ہے۔

’’اﷲ تعالیٰ نے اس مہینے میں روزہ رکھنا فرض قرار دیا ہے اور اس کی راتوں میں قیام باعث اجر و ثواب ہے۔‘‘

چوں کہ اﷲتعالیٰ نے مسلمانوں پر نرمی رکھی ہے، اس لیے دن کا روزہ تو فرض کردیا گیا، جب کہ رات کے قیام کی ترغیب دلائی گئی۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ متوازی پروگرام ہے اور دونوں ہی اہتمام ضروری ہیں۔ قیام اللیل سے مراد قرآن کے ساتھ جاگنا ہے، جس کی سب سے اعلیٰ شکل یہ ہوسکتی ہے کہ ایک شخص رات کا بڑا حصہ اﷲ کے سامنے حاضر ہوکر تہجد یا تراویح میں قرآن کو پڑھتے ہوئے گزارے۔ رات کو صرف کھڑے رہنا یا نوافل پڑھتے چلے جانا مقصود نہیں ہے، بلکہ قیام اللیل سے مراد نوافل میں زیادہ سے زیادہ قرآن حکیم کا پڑھنا ہے۔ شب قدر کی بنیاد بھی یہی ہے کہ اس میں قرآن نازل کیا گیا۔

’’جس کسی نے اس مہینے میں کسی ایک نیکی (غیر فرض عبادت) کے ذریعے اﷲ کا قرب حاصل کرنا چاہا تو وہ ایسے ہے جیسے سال کے دوسرے مہینوں میں اس شخص نے فرض ادا کیا۔ اور جس شخص نے ایک فرض ادا کیا ، اس نے گویا سال کے دوسرے مہینے میں ستر فرائض ادا کیے۔‘‘

یہاں فرض سے مراد صرف نماز، روزہ ہی نہیں، بلکہ اس میں مسلمانوں پر عاید فرائض اور واجبات کی طویل فہرست شامل ہے۔

’’یہ صبر کا مہینہ ہے‘‘ روزے کی حالت میں انسان کو بھوک اور پیاس لگی ہو، بہترین کھانے اور ٹھنڈے مشروبات سامنے ہوں، لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو روک کر رکھتا ہے۔ اسی طریقے سے جنسی خواہش کو پورا کرنے کی بھی ممانعت ہے۔ ایک صبر تو یہ ہے، لیکن ایک دوسری قسم کا صبر بھی ہے جس سے مراد جھوٹ بولنے اور گناہ کے کاموں سے بچنا ہے۔ اس کے بغیر بھی روزہ مکمل نہیں ہوتا۔ احادیث کی رو سے جس شخص نے روزے کے دوران بھی جھوٹ بولنا اور گناہ کے کاموں کو ترک نہ کیا تو اﷲ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے، اس طرح درحقیقت اس نے فاقہ کیا ہے۔

حضور نبی کریم  نے ارشاد فرمایا:’’کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں کہ انہیں اپنے روزے سے سوائے بھوک و پیاس کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اور کتنے ہی رات کو قیام کرنے والے بھی ایسے ہیں جنہیں سوائے شب بیداری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ اگر کوئی شخص قرآن توسن رہا ہے، لیکن اپنے ضمیر کے دروازے کھولنے کے لیے تیار نہیں ہے تو اس کے لیے یہ محض شب بیداری ہے۔ چناں چہ اس مہینے کی برکات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ذہنی اور نفسیاتی تیاری بھی ضروری ہے۔

’’اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔‘‘ اصل میں پورے دین کا بھی ایک جامع عنوان ’’صبر‘‘ ہے۔ اگر صبر کے مفہوم کو کھولا جائے تو گناہوں سے رکنا بھی صبر ہے، اطاعت پر کاربند ہونے کے لیے بھی صبر اور استقامت درکار ہے، جب کہ توکل کو بھی اس عنوان کے تحت واضح کیا جاسکتا ہے۔ سب سے بڑا صبر یہ ہے کہ آدمی دنیا کے بجائے آخرت کو اپنی منزل بنالے، سارا صبر اس کے اندر سمٹ آتا ہے۔

قرآن مجید میں بعض جگہوں پر بیان ہوا ہے:
’’اہل جنت اس وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے کہ انہوں نے دنیا میں صبر کیا تھا۔‘‘

ایک اور جگہ ارشاد ہے:’’اور یہ باہمی ہمدردی اور غم گساری کا مہینہ ہے۔‘‘

وہ لوگ جن کے کھانے کے اوقات مقرر ہیں، جب روزہ رکھتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بھوک اور فاقہ کسے کہتے ہیں۔ جن لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں، ان کی کیفیت کیا ہوتی ہے!

ارشاد ہوتا ہے:’’اور یہ مہینہ وہ ہے جس میں مومن کے رزق میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔‘‘

یہ وہ پہلو ہے جو مادہ پسند اور مادیت پرست لوگوں کو نظر ہی نہیں آسکتا۔ ان کے نزدیک تو قوت کار کم ہوتی ہے، دفتر کے اوقات کار بھی کم ہوتے ہیں لہٰذا آمدنی میں بھی کمی ہوگی۔ لیکن یہ ساری باتیں سطحی ہیں۔ اﷲتعالیٰ ان چیزوں کا محتاج نہیں ہے۔ وہ مسبب الاسباب ہے۔ وہ وہاں سے رزق پہنچا تا ہے جہاں سے ہمیں گمان بھی نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروادے، صرف یہی نہیں کہ اپنے دوست احباب کو بلایا جائے، بلکہ غرباء، مساکین اور محتاجوں کا روزہ افطار کروادے تو اس کا یہ عمل اس کے گناہوں کی بخشش اور اس کی گردن کو آگ سے چھڑانے کا موجب بنے گا۔ اور اسے روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔ گویا دونوں پہلوؤں سے وضاحت کردی گئی کہ افطار کروانے والے کو روزہ دار کے برابر اجر ملے گا، جب کہ روزہ دار کا اجر اپنی جگہ پورا محفوظ ہے۔

نبی پاک سے عرض کیا گیا:’’اے اﷲ کے رسول! ہم میں سے ہر شخص میں تو اتنی استعداد نہیں کہ وہ کسی روزہ دار کو افطار کروائے!‘‘

رسول کریم  نے ارشاد فرمایا:’’اﷲ تعالیٰ یہ اجر و ثواب اس شخص کو بھی عطا کرے گا جو دودھ یا پانی کے ایک گھونٹ سے کسی روزہ دار کو افطار کرائے۔‘‘ یعنی جسے اور کچھ میسر نہیں ہے، وہ صرف پانی یا دودھ کے ایک گلاس میں ہی اپنے روزہ دار بھائی کو شریک کرلے تو اسے پورا اجر ملے گا۔ اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ افطاری میں اپنے لیے تو انواع و اقسام کی اشیا ہوں، جب کہ روزہ دار کو دودھ کے ایک گھونٹ سے افطار کروا دیا جائے۔

’’اور جو روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے، اﷲ تعالیٰ اسے میرے حوض (کوثر) سے ایسا مشروب پلائے گا کہ پھر جنت میں داخلے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔‘‘

محتاجوں کو افطار کرانے اور پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرے سے طبقاتی کشمکش ختم ہوجاتی ہے۔

’’اور یہ مہینہ وہ ہے جس کا پہلا حصہ رحمت ہے، اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ جہنم سے نجات ہے۔‘‘

یہ وہ ہدف ہے جسے اﷲتعالیٰ نے ہمارے لیے معین فرمایا ہے کہ اپنے آپ کو اس عذاب الیم سے بچائو جو ہر انسان کا منتظر ہے۔ اپنے خطبے کے آخر میں اﷲ کے حبیب نے ارشاد فرمایا:’’اور جو شخص اس مہینے میں اپنے غلام اور خادم کے کام میں تخفیف کرے گا‘‘ یعنی اس خیال سے کام کے بوجھ کو ہلکا کرے گا کہ یہ روزہ دار ہے اور معمول کی مشقت گھٹا دے ’’تو اﷲتعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور اسے جہنم سے چھٹکارا دلا دے گا۔‘‘

٭ روزہ اور رمضان کا باہمی تعلق:
رمضان کا مہینہ وہ ہے جسے اﷲ نے سال کے بارہ مہینوں میں سے روزے کی عبادت کے لیے مخصوص کردیا ہے، جب کہ رمضان کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں قرآن نازل ہوا تھا۔ لہٰذا ان کا آپس میں کوئی تعلق ضرور ہے۔ روزہ اصل میں انسان کی روحانی بالیدگی کا ذریعہ ہے۔

یہ روح ہی ہے جس کے باعث انسان اشرف المخلوقات ٹھہرا اور مسجود ملائک بنا، لیکن اسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے انسان حیوانوں کی سطح پر آگیا۔ روزے کے ذریعے روح کی تقویت کا سامان کیا گیا ہے، تاکہ انسان اپنے حیوانی تقاضوں کو لگا م دے۔اپنی روح پر سے کھانے پینے اور شہوت کی گرفت کو ڈھیلا کرے۔ قرآن مجید میں روزے کی فرضیت بیان کرتے ہوئے اس کا مقصد انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرنا بیان کیا گیا ہے۔ تقویٰ کی حقیقت یہی ہے کہ انسان کو ہر وقت اﷲ کی موجودگی کا احساس رہے۔ اسی سے روح بیدار ہوکر اﷲ کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔

انسانی روح کی اصل غذا اﷲ کا ذکر ہے جس کی اعلیٰ ترین شکل قرآن حکیم ہے۔چناںچہ روح کی بالیدگی کا طریقہ یہ ہے کہ دن میں روزہ رکھے تاکہ روح بیدار ہو اور اس کے اندر طاقت آئے، جب کہ رات کے اوقات میں اس پر کلام الٰہی کا فیضان ہو۔ یہ روحانی بالیدگی کا دو گونہ پروگرام ہے، اسی لیے روزے کی عبادت کے لیے وہ مہینہ منتخب کیا گیا جس میں قرآن نازل ہوا تھا۔

رمضان میں رات کے قیام کی خصوصی فضیلت ہے۔ رسول عربی  کا ارشاد پاک ہے:’’روزہ اور قرآن بندے کے حق میں سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا، اے پروردگار! میں نے تیرے اس بندے کو کھانے پینے اور شہوت سے روکے رکھا۔ پس، اس کے حق میں میری سفارش قبول فرمالے۔ اور قرآن یہ کہے گا، اے پروردگار! میں نے اسے رمضان کی راتوں میں سونے سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میر ی سفارش قبول فرمالے۔ اﷲ تعالیٰ ان دونوں کی سفارش قبول فرمالے گا۔‘‘

گویا رمضان کا پروگرام یہ ہے: دن میں روزہ اور رات میں قیام مع القرآن۔ قیام مع القرآن کا اطلاق رات کے کم از کم ایک تہائی حصے پر ہوگا۔ اگرچہ رات کا قیام فرض نہیں ہے، لیکن ہر شخص کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اس کی فضیلت اور اس کے اجر و ثواب سے محروم نہ رہے۔ تراویح کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ قلب و روح پر قرآن کا فیضان ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔