ریاستی ستون اور میڈیا

نصرت جاوید  جمعـء 9 نومبر 2012
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

پنجابی عام لوگوں اور گلی محلے کی زبان ہے۔ چونکہ اسے کبھی دربارداری کے لیے استعمال نہیں کیا گیا، اس لیے اس میں بہت زیادہ استعارے موجود نہیں ہیں۔ فصاحت اور بلاغت بھی اتنی زیادہ نہیں۔ پنجابی شاعری میں محبوب کے دانت، دانت ہی رہتے ہیں، دُر دنداں نہیں بن جاتے۔ محبوبہ شمع کی طرح نظر نہیں آتی جو پروانوں کو اپنے گرد جمع کرنے کے بعد راکھ بنا ڈالتی ہے۔

سیدھی سادی مگر دلکش عورت ہی رہتی ہے۔ جو ’’نکّی جئی ہاں‘‘ کہہ دینے سے ہی کمال کر دیتی ہے۔ لیکن اب عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مجھے پنجابی شاعری سے زیادہ اس کے محاورے حیران کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ روزمرہ کے عام مشاہدات کے حوالے سے ایک فقرے میں بڑے ہی عام الفاظ میں چونکا دینے والی حقیقتیں سمو دی جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر ایک باتونی بچہ ہوتے ہوئے میں جب کبھی ناممکن نظر آنے والے امکانات کے حصول کا اظہار کرتا تو میری مرحومہ ماں فوراََ مجھے اس چھپکلی کی یاد دلا دیتی جو شہتیر کو جپھی ڈال کر اپنے ہاتھوں میں سمو لینے کی لاحاصل کوشش میں مصروف رہا کرتی ہے۔ چھپکلی کو پنجابی میں ’’کوڑھ کِلی‘‘کہتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ اس جانور کا بھر پور صوتی اثر والا نام ہے جو آپ کے جسم میں کراہت کی سنسنی دوڑا دیتا ہے۔ شہتیر کو گلے لگانے والا محاورہ مگر کراہت نہیں لطافت کا احساس اُجاگر کرتا ہے۔ کمزور انسانوں کی بے بسی پر ماتم کرنے کے بجائے مسکرا کر سچائیوں کا اعتراف کرنے کے بعد آگے بڑھ جاتا ہے۔

ریاست عام انسانوں سے ماورا ایک وسیع و عریض ڈھانچہ ہے جس کی اپنی ہیت ہوا کرتی ہے۔ اس ریاست کے تین ستون مانے جاتے ہیں۔ انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ وغیرہ۔ ستونوں کو پنجابی میں شہتیر ہی کہا جائے گا اور وہ اپنی اپنی جگہ قائم رہیں تو ریاست کا کاروبار سکون سے چلتا رہتا ہے۔

ہمارے ہاں 2005ء سے ایک اور شہتیر بھی نمودار ہو گیا ہے۔ لوگ اسے آزاد، بے باک اور مستعد میڈیا کہا کرتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنی نمو کے بعد یہ شہتیر اپنی جگہ قائم رہ کر ریاست کے توازن کو قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہو۔ مگر ہوا اس کے برعکس۔ شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک ٹی وی اسکرینوں پر نمودار ہو کر میرے جیسے کچھ اینکروں نے بجائے اپنا کام کرنے کے ریاست کے پہلے سے موجود تین شہتیروں میں سے کسی ایک کو ’’جپھا‘‘ ڈال کر باقی شہتیروں کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔ سب سے پہلا اور مسلسل نشانہ انتظامیہ بنی۔ مگر انتظامیہ کو رگیدنے کے لیے ان لوگوں کا انتخاب کیا گیا جو میرے اور آپ کے ووٹوں سے منتخب ہو کر پارلیمان میں پہنچ کر ہماری ریاست کے ’’دوامی مالکوں‘‘ کے لکھے پر انگوٹھے لگایا کرتے ہیں۔ ’’چور لٹیرے اور جعلی ڈگریوں والے‘‘ ان لوگوں کو ’’بے نقاب‘‘ کرنے کے بعد ہم نے عدلیہ پر زور دینا شروع کر دیا کہ وہ انھیں ٹھکانے لگائے۔

ہماری داد فریاد کی وجہ سے دنیا کے کسی بھی ملک کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب وزیر اعظم کو جسے قومی اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے اعتماد کا ووٹ بھی دیا تھا، اس کی پارلیمانی پارٹی کے ووٹوں یا کسی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نہیں بلکہ ایک عدالتی حکم کے ذریعے یوں فارغ کر دیا گیا جیسے آپ گھریلو ملازموں کو چٹکی بجانے کے بعد کیا کرتے ہیں۔ اپنی واضح تحقیر اور ذلت کے باوجود ’’چور، لٹیرے اور جعلی ڈگری والوں‘‘ نے سر جھکا کر خاموشی اختیار کر لی۔ کسی شخص یا ادارے پر کوئی جوابی وار نہ کیا اور ہم شیر ہو گئے۔

ہماری مدد کو سپریم کورٹ کا ایک اور ’’تاریخی فیصلہ‘‘ تفصیل سے آ گیا اور ہم نے ’’چور، لٹیرے اور جعلی ڈگریوں والوں‘‘ سے یہ مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ وہ ایف آئی اے کے انسپکٹر بھیج کر اسلم بیگ اور اسد درانی جیسے جرنیلوں کو گرفتار کرے۔ کسی سیف ہائوس میں لے جا کر ان کی ’’چھترول‘‘ کرے اور ان کے ’’اعترافی بیانات‘‘ کی روشنی میں مزید ’’چوروں، لٹیروں اور جعلی ڈگریوں والوں‘‘ کی گرفتاریاں شروع کرے۔ یہ مطالبہ کرتے ہوئے ہم میں سے کسی نے یاد ہی نہ رکھا کہ ہم نے تو ایف آئی اے یا احتساب بیورو اور ان اداروں کے سیاسی سربراہوں کا خون تو پہلے ہی نچوڑ لیا ہے۔ ان میں سکت ہی نہیں رہی کہ کسی بھی معاملے پر آگے بڑھ سکیں۔ اگر ان اداروں کی کوئی ساکھ یا وقار باقی رہ گیا ہوتا تو سپریم کورٹ کو احتساب بیورو یا ایف آئی اے کے بجائے ڈاکٹر شعیب سڈل کو ملک ریاض اور ارسلان افتخار کے درمیان معاملات کی تحقیق کے لیے حکم دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ میری دیانتدارانہ رائے ہے کہ ڈاکٹر شعیب سڈل سے رجوع کرنے کے بعد ایف آئی اے اور احتساب بیورو کے دفاتر پر تالے ڈال دینا چاہیے تھے۔

مگر ایسا نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ ہی کے ایک اور حکم کی روشنی میں احتساب بیورو والوں نے تین ریٹائرڈ جرنیلوں کو لاہور میں ریلوے کی اراضی کے معاملے پر طلب کر لیا۔ جب وہ جرنیل اس ادارے سے باہر آئے تو بے چارے رپورٹر مائیک لے کر ان کی طرف اسی طرح لپکے جیسے ’’چور، لٹیروں اور جعلی ڈگریوں والوں‘‘کی طرف بڑھا کرتے ہیں۔ انھیں ’’شٹ اپ یو ایڈیٹ‘‘ کہہ کر فارغ کر دیا گیا اور میرے جیسے سات بجے سے رات بارہ بجے تک ٹی وی اسکرینوں پر انقلابیوں کا روپ دھارے اینکروں نے واویلا مچا دیا۔ اس کے بعد جو بیان آیا اسے آنا ہی تھا۔

اس بیان کا سہارا لیتے ہوئے مگر جنرل بیگ جیسے لوگوں کو ہمیں ’’بساط لپیٹے جانے‘‘ کی باتیں کر کے خوفزدہ کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے تھی۔ ان سے میری درخواست ہے کہ جنرل کیانی کے جامع مگر مختصر بیان کو دوبارہ پڑھ لیں۔ اس کے آغاز میں ہی اعتراف کیا گیا ہے کہ ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں اور سنگین غلطیاں کرنیوالوں میں جرنیل بھی شامل تھے۔ موجودہ سپہ سالار کے واضح الفاظ میں اس اعتراف کے بعد جنرل بیگ کو اس گمان میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ اگر اس ملک میں ایک بار پھر ’’بساط لپیٹی‘‘ گئی تو یہ ان کے ’’ناموس‘‘ کے تحفظ کی خاطر کیا جائے گا۔

ایسا ہر گز نہ ہو گا۔ جنرل کیانی نے ایک جامع اور مختصر بیان اپنی کمان کے تحت کام کرنے والے ’’حاضر سروس‘‘ لوگوں کے تحفظ کی خاطر دیا ہے۔ اس کا مقصد ان جوانوں اور افسروں کو حوصلہ دینا ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے کئی علاقوں میں ہماری ریاست کی رٹ بحال کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ ان کی حکمت عملی اور طریقہ کار پر مجھے بھی بہت اعتراضات ہیں اور میں ان کا برملا اظہار کرنے کے مواقعے بھی ڈھونڈتا اور استعمال کرتا رہتا ہوں۔ مگر اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتا کہ ہمارے ملک میں ایک خوفناک جنگ برپا ہے۔ اسے ’’امریکا کی جنگ‘‘ کہہ کر جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ بہتر یہی ہے کہ اس جنگ کو کھلے ذہن سے سمجھ کر اس کو جیتنے کے راستے نکالنے میں ریاست کی تھوڑی بہت مدد کی جائے۔ کسی ایک ستون کو جپھا ڈال کر باقی ستونوں کو گرانے کی کوششوں سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ سپریم کورٹ کا جمعرات کو جاری ہونے والا تفصیلی فیصلہ ایک حوالے سے اسی سمت بڑھتا نظر آتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔