اپنے اُس رویے پر آج تک افسوس ہوتا ہے

محمود الحسن  اتوار 11 نومبر 2012
معروف ادیب اور صحافی مسعود اشعر یادوں کی بزم سجاتے ہیں۔ فوٹو : فائل

معروف ادیب اور صحافی مسعود اشعر یادوں کی بزم سجاتے ہیں۔ فوٹو : فائل

 معروف ادیب، صحافی اور مترجم مسعود اشعر نے اپنی یادوں کو کھنگالتے ہوئے، ایکسپریس کے سلسلے’’بھلانہ سکے‘‘ کے لیے، جو واقعات ہمارے گوش گزار کئے وہ یوں ہیں:

1953 : لاہور میں تحریک ختم نبوت زوروں پر تھی۔ حالات اس قدر بگڑے کہ شہر میں مارشل لا لگاتے ہی بنی اور ساتھ کرفیو بھی لگ گیا۔ جنرل اعظم خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ میں اس زمانے میں میکلوڈ روڈ پر رہتا تھا۔ ایک دن شام کو میں سائیکل پر نسبت روڈ پر واقع لکشمی بلڈنگ کے پاس پہنچا تو فوجی چوکی پر مجھے فوجی افسر نے پکڑلیا۔ اس وقت گولیاں چلنے کی آوازآرہی تھی۔ فوجی نے درشتی سے کہاکہ ’’کہاںجارہے ہو؟ معلوم نہیں حالات کیا ہیں؟ اس اثناء میں گولیوں کی بوچھاڑ نے میری طرف رخ کیا، تو اس فوجی افسر نے بڑی تیزی سے میرا سر نیچے دبادیا، اور وہ گولیاں میرے سر کے اوپر سے گزرگئیں۔ اس صورت حال نے مجھے خاصا خوف زدہ کردیا۔ اس فوجی افسر کا میں شکرگزار ہوں، جس کی وجہ سے میری جان بچ گئی۔

٭اس برس کا ایک اور واقعہ مجھے ہمیشہ یاد رہا۔ میں ’’زمیندار‘‘ اخبار میں نیوزایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ ظفرعلی خان ان دنوں بستر سے لگے تھے اوراخبار کے معاملات ان کے بیٹے اختر علی خان کے سپرد تھے۔ انہیں خیال سوجھا کہ اخبار کا دوسرا ایڈیشن نکلنا چاہیے۔ میرے ساتھ انہوں نے مشورہ کیا تو میں نے انہیں صاف صاف بتادیا کہ موجودہ اسٹاف کے ساتھ ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ کاتبوں کی کمی کے باعث اخبار پہلے ہی مشکل سے وقت پر تیار ہوتا۔ ایسے میں نئے ایڈیشن کا ڈول ڈالنا اور بھی پریشانی کا باعث بنتا۔ اخترعلی خان کی عجیب عادت تھی کہ وہ سب کو تنخواہ اپنے ہاتھ سے دیتے۔ ان کا رویہ ایسا ہوتا، جیسے وہ کسی پر احسان کررہے ہیں۔

تنحواہ کی ادائیگی کے دن انہوں نے پھر سے نئے ایڈیشن کی بات چھیڑ دی۔ میں نے اپنا موقف دہرایا، تو وہ کہنے لگے، نہیں نہیں، تم بہت باصلاحیت ہو، تم کرلوگے۔ وہ اس طرح کی باتیں کرتے رہے، جن سے میں زچ ہوگیا اور وصول شدہ تنخواہ ان کے سامنے پھینک کردفتر سے نکل آیا۔ اس کو آپ منہ پر مارنا نہیں کہہ سکتے۔ اس وقت جوانی کا جوش ہوگا، جو میں نے ایسا طرز عمل اختیار کیا۔ آج جب اس واقعے کو ساٹھ برس ہونے کو ہیں، میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے رویے پر افسوس ہوتا ہے۔

٭ملتان۔1978: کالونی ٹیکسٹائل مل میں مزدوروں نے ہڑتال کررکھی تھی، ایک دن جب وہ احتجاج کررہے تھے تو پولیس نے گولی چلادی، جس کے نتیجے میں کئی مزدور ہلاک ہوگئے۔ مارشل لا حکام کے دبائو کی وجہ اخبارات نے اس خبر کو چھاپنے سے گریز کیا، مگر ہم نے ’’امروز ‘‘ میں یہ خبر چھاپ دی، جس پر حکومت ہم سے ناراض ہوگئی۔ ملتان کے کور کمانڈر نے مجھے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے ہاتھوں مجھے کوئی تکلیف پہنچے۔ یہ ایک طرح سے ملفوف دھمکی تھی۔ اس واقعے کے بعد ہارون سعد کو میرے اوپر لگاکر بھیج دیا گیا، جس پر اسٹاف نے ہڑتال کردی۔ نتیجتاً میرا تبادلہ لاہور کردیا گیا۔ ملتان میں کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔ مجھے فوراً لاہور آنا پڑا۔

بچے ملتان میں پڑھ رہے تھے، میرے پیچھے مالک مکان نے بچوں کو تنگ کرنا شروع کردیا۔ یہ سب میرے لیے تکلیف دہ رہا۔ یہ سب ضیاء دور میں ہورہا تھا، جن سے میرا تعلق اس وقت سے تھا، جب وہ ملتان میں لیفٹیننٹ کرنل تھے۔1965 ء کی جنگ کے بعد وہ ایک روز کرنل حامد علی کے ساتھ مجھ سے ملنے آئے اور کہنے لگے کہ ہم ’’امروز‘‘ کے پریس سے کچھ چھپوانا چاہتے ہیں، جس کو دیکھنے کی اجازت آپ کو بھی نہیں ہوگی، اور کسی دوسرے کو بھی بھنک نہ پڑے۔ جنگ کے بعد ہم پُرجوش تھے، حب الوطنی کے جذبات عروج پر تھے۔ اس لیے میں نے کہا کہ ہمارا پریس آپ کے لیے حاضر ہے۔

آنے والے برسوں میں وہ ملتان کے کور کمانڈر بنے، تب بھی ان سے خاصا ملنا جلنا رہا۔ خاندانی تعلقات قائم ہوگئے۔ بھٹو کا تختہ الٹنے سے دس دن قبل ان سے میری ملاقات ہوئی۔ احمد فراز نے فوج سے متعلق کوئی نظم لکھ دی ، جس پر وزیر دفاع ٹکا خان نے انہیں گرفتار کرادیا۔ کشور ناہید اب فراز کی رہائی کے لیے سرگرم ہوئی، اور مجھے کچھ کرنے کو کہا۔ فراز کی رہائی کے سلسلے میں26 جون1977ء کو ضیاء الحق سے میری ملاقات ہوئی۔ میرے ساتھ سوشل ورکر عفت ذکی بھی تھیں، جن کا تعلق ملتان سے تھا اور ضیاء الحق ان سے بھی واقف تھے۔ ضیاء الحق نے ہمیں فراز کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس وقت پی این اے کی تحریک اپنے عروج پر تھی، میں نے ضیاء الحق سے پوچھا کہ ’آپ کا کیا ارادہ ہے‘ تو کہنے لگے کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ حالات نارمل ہوجائیں، اور الیکشن ہوں۔ اس وقت ان کی باتوں سے بالکل اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کن خطوط پر سوچ رہے ہیں۔ 5 جولائی 1977ء کو انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔

٭سرور سکھیرا نے رسالہ ’’دھنک ‘‘ بند کردیا، تو 1983ء میں پیپلزپارٹی کے سابق راہ نما ناصر رضوی نے اس کا ڈیکلریشن حاصل کرلیا اور مجھ سے کہا کہ تم ’’دھنک‘‘ نکالو۔ میری تھوڑی بہت جو جمع پونجی تھی، وہ میں نے اس رسالے پر لگادی۔ ’’دھنک‘‘ میرے مزاج سے لگا نہیں کھاتا تھا۔ اس لیے زیادہ دیر میں اسے چلا نہیں سکا اور میرا سارا پیسہ برباد ہوگیا۔ ’’دھنک ‘‘ نکالنے کے فیصلے کو میں صحافتی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تصور کرتا ہوں۔

٭ 1948ء میں رام پور سے میں نے ’’نقوش‘‘ میں اشاعت کے لیے نظم بھجوائی۔ اس زمانے میں احمد ندیم قاسمی اور ہاجرہ مسرور ’’نقوش‘‘ کی ادارت کررہے تھے۔ چند دن بعد ہاجرہ مسرور کا خط موصول ہوا، جس میں بتایا گیا تھا کہ میری نظم مروجہ معیار پر پوری نہیں اترتی، اس لیے ناقابل اشاعت ہے۔ مجھے اس خط پر بہت غصہ آیا اور میں نے ہاجرہ مسرور کے نام سخت خط لکھ ڈالا۔ اس کے جواب میں قاسمی صاحب نے مجھے خط لکھا اور سرزنش کی کہ کسی خاتون کو ایسے لہجے میں خط لکھنا ہرگز مناسب طرز عمل نہیں۔ اب بات میری سمجھ میں آگئی اور میں نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔ جوانی میں انسان جذباتی ہوتا ہے، اس لیے اکثر بنا سوچے سمجھے ردعمل ظاہر کردیتا ہے، تو میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔