بھارت کو تڑپا کرآخر’’ اجازت ‘‘ مل ہی گئی

سلیم خالق  ہفتہ 12 مارچ 2016
ایسا  لگ رہا ہے کہ ہم اپنے کرکٹرز کو کھیلنے نہیں بلکہ کسی محاذ جنگ پر بھیج رہے ہیں جہاں ہر وقت ان کی فکر لاحق رہے گی،:فوٹو:فائل

ایسا لگ رہا ہے کہ ہم اپنے کرکٹرز کو کھیلنے نہیں بلکہ کسی محاذ جنگ پر بھیج رہے ہیں جہاں ہر وقت ان کی فکر لاحق رہے گی،:فوٹو:فائل

’’اگر کوئی تم کو ستائے یا نقصان پہنچائے اور ایسا لگے کہ تم اس وقت کوئی جواب نہیں دے سکتے تو بجائے جلنے کڑھنے کے خاموش بیٹھ جاؤ،آج نہیں تو کل حساب برابر کرنے کا موقع ملے گا تب کرلینا، یاد رکھو موقع دیکھ کر چوکا لگانے والا ہی عظیم بیٹسمین بنتا ہے، بغیر دیکھے شاٹ کھیلا تو آؤٹ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے‘‘

میرے ایک کرم فرما نے کئی برس قبل مجھ سے یہ بات کہی تھی، اس وقت تو میں نے زیادہ غور نہیں کیا لیکن بعد میں احساس ہوا کہ وہ درست کہہ رہے تھے موقع سب کو ملتا ہے بس انتظار کرنا چاہیے، جیسے حال ہی میں پاکستان کو ملا اور اس نے کسی حد تک بھارت کا حساب چکتا کر دیا،کم از کم اسے یہ احساس تو ہو ہی گیا ہو گا کہ کسی کو انتظار کی سولی پر لٹکانے سے کیا ہوتا ہے،زیادہ وقت نہیں گذرا چند ماہ قبل کی ہی بات ہے جب ہمارا بورڈ سیریز کیلیے بھارت کی منت سماجت کر رہا تھا مگر وہ لفٹ کرانے کو تیار نہ ہوا، اس سے بڑی توہین کیا ہو گی کہ ہاں یا ناں میں جواب تک نہ دیا، بیچارے شہریارخان نے کوششیں خوب کیں مگر بدلے میں انھیں بھارتی سرزمین پر رسوائی ملی اور ملک میں میڈیا نے ان کی خوب خبر لی، وہ سیریز تو نہ ہو سکی۔

مگر اب ورلڈٹوئنٹی 20 سے قبل جو کچھ ہوا اس سے پی سی بی حکام بھی دل ہی دل میں سوچ رہے ہوں گے کہ ’’بھارت کے ساتھ ایسا ہی کرنا چاہیے تھا‘‘، کم از کم اس کی ہوائیاں تو اڑی ہوں گی، نقصان اگر ہمارا ہوتا تو آئی سی سی اور بھارت کو بھی ٹی وی رائٹس اور اسپانسر شپ میں کروڑوں گنواتا پڑتے،ہر کرکٹ شائق کی طرح میری بھی یہی خواہش ہے کہ ہماری ٹیم  میگا ایونٹ میں حصہ لے مگر اس کیلیے اپنے کھلاڑیوں کی جان خطرے میں ڈالنا بھی مناسب نہ تھا، خراب کارکردگی پر چاہے ہم جتنی تنقید کریں مگر ٹیم کے تمام کرکٹرز ہمارے ہم وطن ہیں کرکٹ ان کی زندگیوں سے زیادہ اہم نہیں ہے۔

بھارت میں ان دنوں انتہا پسندی عروج پر ہے، پاکستانیوں کو اب عام لوگ بھی نفرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگے ہیں،اسی لیے آئی سی سی نے بی سی سی آئی کی مشاورت سے پاکستان کے میچز نئی دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں رکھنے سے گریز کیا جہاں گڑبڑ کا خطرہ تھا، دھرم شالہ کے بارے میں یہ سوچا گیا کہ ٹھنڈے پہاڑی علاقے کے لوگوں کے مزاج میں گرمی نہیں ہو گی، مگر یہ نہ سوچا کہ انتہا پسندی کا وائرس ایک بار پھیل جائے تو سرد یا گرم ہر جگہ کے لوگ اس سے متاثر ہو جاتے ہیں، بھارتی بورڈ کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر نے یہ سوچ کروہاں میچ رکھا کہ اس بہانے کچھ آمدنی بھی ہو جائے گی کیونکہ وہ ہماچل کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں۔

مگر انھوں نے نفرت کا  جو پودا کچھ عرصے قبل لگایا تھا وہ اب درخت بننے لگا ہے، مجھے میڈیا  پر ٹھاکر صاحب کے حالیہ بیانات دیکھ کر  بڑی ہنسی آئی جس میں وہ مخالف پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ کو کھیل کو سیاست سے دور رکھنے کا درس  دے رہے تھے، حالانکہ چند ماہ قبل  پاکستان سے سیریز کے معاملے پر انھوں نے بھی ایسی ہی باتیں کی تھیں کہ ’’لاشیں سامنے رکھی ہوں تو کرکٹ نہیں کھیلی جا سکتی‘‘ بہرحال میچ  کولکتہ منتقل ہو چکا، جب شہریار خان کی بی سی سی آئی چیف سے دہلی میں انتہاپسندوں نے ملاقات نہیں ہونے دی تھی تب بھی وہاں کی چیف منسٹر ممتا  بینرجی نے پیشکش کی تھی کہ دونوں  کولکتہ آ جائیں، مگر ’’بغل میں چھری  منہ میں رام رام‘‘ کی مثال کا عملی نمونہ ششانک منوہر نے کوئی جواب نہ دیا تھا۔

امید تو ہے کہ کولکتہ میں گرین شرٹس کیلیے حالات بہتر رہیں گے،مگر دل میں منفی خیالات بھی آ رہے ہیں کہ ایڈن گارڈنز میں ماضی میں  کئی ناخوشگوار واقعات ہو چکے، بہرحال حکومت نے اچھی طرح سوچ سمجھ کر ہی ٹیم کو بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا ہو گا،ایسا  لگ رہا ہے کہ ہم اپنے کرکٹرز کو کھیلنے نہیں بلکہ کسی محاذ جنگ پر بھیج رہے ہیں جہاں ہر وقت ان کی فکر لاحق رہے گی،اس سارے قصے سے دنیا میں بھارت کا انتہاپسندانہ چہرہ بھی بے نقاب ہو گیا، ’’پاکستانیوں کو آنے نہیں دیں گے۔

احتجاج کریں گے، پچ کھود دیں گے‘‘، ایسے بیانات نے سب کو حقیقت کا ادراک کرا دیا کہ ’’ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا‘‘وزیر داخلہ چوہدری  نثار نے جس طرح بھارتیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی وہ قابل تعریف ہے  چاہے اس  کیلیے انھیں ہدایت کہیں اور سے ہی کیوں نہ ملی ہو، ایسے میں قومی کرکٹرز کو بھی سراہنا چاہیے جو کسی بھی لمحے خوف کا شکار نہ ہوئے، کپتان شاہد آفریدی سے جب میں نے ازراہے مذاق کہا کہ ’’ٹیم کی جو حالت ہے اچھا ہے نہ جاؤ‘‘ اس پر انھوں نے جو جواب دیا مجھے ان سے اسی کی توقع تھی، آفریدی کا کہنا تھا کہ ’’فیصلہ تو حکومت کرے گی لیکن ہم فائٹر ہیں ہار کے ڈر سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، مجھے یقین ہے کہ میری ٹیم ایونٹ میں حریفوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرے گی‘‘ ویسے ہونا بھی یہی چاہیے بھارتی پچز بنگلہ دیش سے مختلف ہیں امید ہے کہ وہاں کارکردگی بھی ایشیا کپ سے مختلف رہے گی۔

آخر میں آئی سی سی حکام سے یہ سوال پوچھنا  ہے کہ جناب  ہم جانتے ہیں کہ آپ کرکٹ کی اقوام متحدہ ہیں  اور بھارت آپ کیلیے امریکا جیسا مقام رکھتا ہے، اسے خوش کرنے کیلیے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی  2016 کی میزبانی سونپ دی ، 2023 کا ورلڈکپ بھی وہاں ہونا ہے، ابھی ٹریلر تو سب نے دیکھ ہی لیا،آئندہ بھی اس طرح کے مسائل سامنے آتے رہیں گے،بھارتی انتہا پسند اپنے گراؤنڈ پر ہماری ٹیم کو کھیلتے دیکھنا پسند نہیں کرتے،اس مسئلے کا مستقل حل نکالنا چاہیے۔

یو اے ای قریب ہے کم ازکم دونوں روایتی حریفوں کا مقابلہ تو وہاں رکھ دیا کریں تاکہ کچھ تو تناؤ کم ہو سکے، ایک بات کا افسوس رہے گا کہ ڈیو رچرڈسن نے بھارتی سیکیورٹی پر کوئی تنقید نہ کی، یقین مانیں اگر یہ صورتحال پاکستان میں ہوتی تو آئی سی سی کب کا ایونٹ منتقل کر  چکی ہوتی مگر کیا کریں ’’پیسے میں بڑی طاقت ہے‘‘ بھارت کو کوئی ناراض نہیں کرنا چاہتا اس لیے سب خاموش ہیں، پہلے شائقین ٹیم کی فتح کیلیے دعائیں کرتے تھے اب اس میں سلامتی کی ایک دعا اور بڑھا لیں، امید ہے کہ ایونٹ میں سب اچھا ہی رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔