تیمم کی فضیلت

ایکسپریس اردو  جمعـء 20 جولائ 2012
تیمم کی فضیلت: مٹی کو ہاتھ لگا کر منہ پر پھیرنے میں عاجزی اور خاکساری پائی جاتی ہے۔ (فوٹو ایکسپریس)

تیمم کی فضیلت: مٹی کو ہاتھ لگا کر منہ پر پھیرنے میں عاجزی اور خاکساری پائی جاتی ہے۔ (فوٹو ایکسپریس)

کتاب ہدایت میں اﷲ تبارک و تعالیٰ ’تیمم‘ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:’’اور اگر تم بیمار ہو (اور پانی کا استعمال مضر ہو) یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص استنجے سے فارغ ہوا ہو یا تم نے بیبیوں کو چھوا، اور تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو (یعنی مٹی پر دونوں ہاتھ مار کر) اپنے چہرے اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو۔ اﷲ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور بڑا بخشنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ النساء)

اس فرمان الٰہی سے تیمم کی اہمیت کا بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے یعنی اگر پانی کی بہت کمی ہو اور یہ اندیشہ پیدا ہوجائے کہ اگر یہ خرچ ہوگیا تو پیاس بجھانے کے لیے پانی نہیں ملے گا یا اس کے استعمال سے بیمار ہوجانے یا بیماری بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو شریعت نے غسل اور وضو کے بجائے تیمم کرنے کی اجازت دی ہے۔

یہ اپنے بندوں پر اﷲ کریم کا احسان عظیم ہے۔ مٹی اور پتھر سے تیمم کرنے کے حکم میں رب العزت کی بڑی حکمتیں موجود ہیں۔ انسان کی تخلیق بھی پانی اور مٹی سے ہوئی ہے، اسی مٹی میں انسان کو جانا ہے۔ مٹی کو انسان ہر جگہ پاسکتا ہے۔ مٹی کو ہاتھ لگا کر منہ پر پھیرنے میں عاجزی اور خاکساری بھی پائی جاتی ہے۔

پاک مٹی، مٹی کے کچے یا پکے برتن جن پر روغن نہ لگا ہو، ریت چونا، پتھر، ملتانی مٹی، مٹی کی کچی پکی اینٹیں چونے یا اینٹوں کی دیوار پر تیمم جائز ہے۔ دھات کی اقسام لکڑی، لوہا، سونا، چاندی، غلے کی اقسام شیشہ، گندم ، جو، راکھ وغیرہ یعنی جو اشیاء آگ میں پگھل جائیں اور اپنی حیثیت تبدیل کرلیں، ان پر تیمم جائز نہیں۔

تیمم کے تین فرائض ہیں:
٭پہلا فرض یہ ہے کہ یہ نیت کریں کہ میں ناپاکی دور کرنے اور نماز پڑھنے کے لیے تیمم کر رہا ہوں یا کر رہی ہوں۔

٭دوسرا فرض یہ ہے کہ دونوں ہاتھ مٹی یا پتھر وغیرہ پر ماریں (زیادہ مٹی لگ جائے تو منہ سے پھونک مار کر چھاڑ لیں) اور پھر دونوں ہاتھوں کو منہ پر اس طرح پھیریں کہ بال برابر جگہ بھی چھٹ نہ جائے۔

٭ تیسرا فرض یہ ہے کہ دونوں ہاتھ مٹی پر ماریں اور انہیں جھاڑ کر پہلے دائیں ہاتھ پر کہنی تک اور پھر بائیں ہاتھ پر کہنی تک دوسرا ہاتھ اسی طرح پھیریں کہ پورے ہاتھ کا مسح ہوجائے۔

اس کے ساتھ ہی انگلیوں کا خلال کریں، تاکہ دونوں ہاتھوں کا کوئی بھی حصہ رہ نہ جائے۔ اگر انگلی یا انگلیوں میں انگوٹھی پہنے ہوئے ہوں تو اس کا اتارنا یا ہلانا بھی ضروری ہے جیسے وضو میں ضروری ہے۔

فرض نماز کی نیت سے تیمم کیا ہو تو سنت و نوافل ادا کرنا، نماز جنازہ پڑھنا اور قرآن پاک کی تلاوت کرنا جائز ہے، لیکن قرآن مجید کی تلاوت یا اذان وغیرہ جیسے امور کے لیے تیمم کیا ہو تو نماز ادا کرنے کے لیے دوسرا تیمم کرنا ہوگا۔ جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے ان سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جس عذر کے سبب تیمم کی اجازت تھی، جب وہ عذر جاتا رہے یا ختم ہوجائے تو اس کے بعد تیمم ٹوٹ جاتا ہے۔

مثال کے طور پر پانی کی کمی یا عدم دست یابی کے سبب تیمم کیا تھا اور بعد میں پانی مل گیا تو اب پانی سے وضو کرنا ہوگا، تیمم خود ختم ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کسی بیماری کے سبب تیمم کیا تھا اور وہ بیماری دور ہوگئی تو تیمم جاتا رہا۔ ایک تیمم سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ جب تک تیمم رہے، نمازیں وغیرہ سب کچھ ادا ہوسکتی ہیں۔

اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ وضو کرتے کرتے نماز عید یا جنازے کی نماز ختم ہوجائے گی تو نماز سے محروم رہ جانے کے بجائے تیمم کرلینا جائز ہے (شامی) اگر کپڑا بھی ناپاک ہو اور وضو کی ضرورت بھی ہو، لیکن پانی تھوڑا ہو تو پانی سے کپڑا پاک کرے اور وضو کی جگہ تیمم کرلے۔

ایک اور مقام پر باری تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے:’’اﷲ تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا، بلکہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے، تاکہ تم شکر گزار بن جائو۔‘‘ (سورۃ المائدہ) تیمم کے حوالے سے حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت ہے کہ دو صحابی سفر پر گئے۔ اس دوران نماز کا وقت آگیا اور ان کے ساتھ پانی نہیں تھا، اس لیے دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کرکے نماز ادا کرلی۔

نماز کا وقت ختم ہونے کے بعد پانی مل گیا تو ایک صحابی نے وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھ لی اور دوسرے نے نماز کا اعادہ نہیں کیا۔ اس کے بعد جب وہ دونوں آنحضرت  کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس واقعے کا ذکر کیا۔ جن صحابی نے نماز کا اعادہ نہیں کیا تھا، آپ نے ان سے ارشاد فرمایا:’’تم نے ٹھیک کیا، تم نے تیمم کرکے جو نماز پڑھی، وہ ادا ہوگئی۔‘‘

لیکن جن صحابی نے وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھی تھی، ان سے آپ نے ارشاد فرمایا:’’تمہیں دہرا ثواب ملے گا۔‘‘ (سنن ابی داؤد، مسند، دارمی)

اس صورت میں دوسری نماز، نفل نماز میں شمار ہوگی۔

خدائے بزرگ و برتر ہمیں دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔