صلوٰۃ التسبیح

ایکسپریس اردو  جمعـء 20 جولائ 2012
صلوٰۃ التسبیح: اس نماز کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ ممنوعہ اوقات کو چھوڑ کر کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے (فوٹو ایکسپریس)

صلوٰۃ التسبیح: اس نماز کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ ممنوعہ اوقات کو چھوڑ کر کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے (فوٹو ایکسپریس)

نفل نمازوں میں صلوٰۃ التسبیح کا بہت بلند مقام ہے۔ احادیث میں اس کی بے حد فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس نماز کو صلوٰۃ التسبیح کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ہر رکعت میں پچھتر مرتبہ درج ذیل تسیبحات پڑھی جاتی ہیں:

٭ سبحان اﷲ والحمدﷲ ولا الہ الا اﷲ و اﷲ اکبر

٭ سبحان اﷲ و الحمد ﷲ ولا الہ الا اﷲ و اﷲ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم

٭ فضائل صلوٰۃ التسبیح:
صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث ملتی ہیں۔ بعض تابعین اور تبع تابعین نے بھی صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت بیان کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نماز کا علما، فقہا، محدثین اور صوفیائے کرام سب ہی اس کا اہتمام کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین، تاکید اور تعلیم دیتے ہیں۔

٭صلوٰۃ التسبیح کے لیے شرائط و ہدایات:
اس نماز کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ ممنوعہ اوقات کو چھوڑ کر کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے البتہ زوال کے بعد ظہر سے پہلے یہ نماز پڑھنا بہتر ہے۔ یہ نماز روزانہ پڑھی جاسکتی ہے ورنہ ہفتے میں ایک بار یا مہینے میں ایک مرتبہ یا سال میں ایک مرتبہ پڑھی جائے۔ یہ بھی نہ ہوسکے تو عمر بھر میں ایک دفعہ ضرور پڑھی جائے۔ (ابودائود، ان ماجہ، بیہقی)

حضرت ابن عباسؓ ہر جمعے کو زوال کے بعد، نماز جمعہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ اس نماز کے بارے میں یہی درمیانی درجہ ہے۔ چار رکعت نماز نفل صلوٰۃ التسبیح کی نیت سے ایک سلام سے پڑھی جائے۔ یہ نماز کھڑے ہوکر بھی پڑھی جاسکتی ہے اور بیٹھ کر بھی۔ چوں کہ یہ نفل نماز ہے، اس لیے بلاعذر بیٹھ کر پڑھنا بھی جائز ہے، گو ثواب میں کچھ کمی ہوجاتی ہے۔ ہر رکعت میں پچھتر مرتبہ تسبیح جاتی ہے۔
تسبیحات میں کمی و بیشی ہوجانے سے سجدۂ سہو لازم نہیں آتا البتہ نماز کے کسی رکن میں کمی بیشی ہونے پر سجدہ سہو کرنا ہوگا۔ سجدہ سہو میں تسبیحات نہیں پڑھی جاتیں، کیوں کہ اس نماز میں تین سو مرتبہ سے زیادہ تسبیحات ثابت نہیں ہیں۔

کسی رکن میں تسبیح پڑھنا بھولنے پر یا کم یا زیادہ ہونے پر دوسرے رکن میں ان کو پڑھ کر کمی دور ہوجاتی ہے۔ بھولی ہوئی تسبیح رکوع سے اٹھ کر قومہ میں یا دونوں سجدوں کے درمیان جلسے میں پوری نہ کی جائے، ان میں صرف ان ارکان کی تسبیح کو پڑھا جائے مثلاً: قیام میں بھول جانے پر رکوع میں پڑھ لی جائیں۔

رکوع میں بھول جانے پر (قومہ میں نہ پڑھیں) سجدے میں پڑھ لی جائیں۔ قومہ میں بھول جانے پر سجدے میں پڑھ لیں۔ سجدے میں بھول جانے پر دوسرے سجدے میں پڑھی جائیں۔ جلسے میں بھول جانے پر سجدے میں پڑھی جائیں گی۔

یہ بھول دونوں کی طرح کی ہوسکتی ہے: تسبیحات میں کمی ہونے پر اور تسبیحات میں زیادتی ہونے پر۔
اسی لیے اسی کے مطابق کریں یعنی کمی پر اگلے رکن میں اتنی مقدار میں زیادہ پڑھی جائیں گی اور زیادتی ہونے پر اگلے رکن میں اتنی مقدار میں کم پڑھی جائیں گی۔ مختصراً چار رکعت میں تین سو مرتبہ تسبیح پڑھنی ہے یعنی ہر رکعت میں پچھتر مرتبہ۔ ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ صلوٰۃ التسبیح کی رکعات میں سورۂ فاتحہ کے بعد کون سی سورتوں کا پڑھنا افضل ہے:

اس کی چاروں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی سی بھی سورت (جو یاد ہو) پڑھی جاسکتی ہے البتہ سورۃ العصر، سورۃ الکوثر، سورۃ الکافرون اور سورۂ اخلاص کا پڑھنا افضل ہے۔ بعض روایتوں میں اذا زلزلت، والعادیات، اذاجاء اور سورہ اخلاص کا پڑھنا بھی آیا ہے۔ بعض علماء کے مطابق سورۂ حدید، سورۂ حشر، سورۂ صٰف اور سورۂ تغابن کے پڑھنے کو افضل کہا گیا ہے۔

٭صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کا طریقہ:
احادیث کے مطابق صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کے دو طریقے ہیں۔ یہ دونوں روایات ترمذی میں موجود ہیں۔ ان طریقوں میں بعض علما نے حضرت عباس کے طریقے کو افضل قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے حضرت عبداﷲ بن مبارک کے طریقے کو ترجیح دی ہے ۔ یہ دونوں طریقے درست ہیں، اس لیے اس نماز کو کسی بھی طریقے سے پڑھا جا سکتا ہے۔

٭حضرت عباس کا طریقہ: (ابن عباس سے منقول)
نیت: یا اﷲ تیری رضا حاصل کرنے کے لیے صلوٰۃ التسبیح کی چار رکعت کی نیت کرتا / کرتی ہوں۔
پہلی رکعت: سبحانک اللھم، اعوذ باﷲ، بسم اﷲ، سورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھنے کے بعد رکوع سے پہلے پندرہ مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ رکوع میں (سبحان ربی العظیم پڑھنے کے بعد) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ قومہ میں (رکوع کے بعد کھڑے ہونے پر) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ پہلے سجدے میں (سبحان ربی الاعلیٰ پڑھنے کے بعد) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔

جلسے میں (دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے پر) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔

دوسرے سجدے میں (سبحان ربی الاعلیٰ پڑھنے کے بعد) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ دوسرے سجدے کے بعد بیٹھنے پر دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ کل ملاکر پچھتر مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ دوسری اور تیسری اور چوتھی رکعت میں کھڑے ہوتے ہی پندرہ مرتبہ تسبیحات پڑھی جائیں گی (کیوں کہ ان میں سبحانک اللھم اور اعوذ باﷲ نہیں ہے) پھر سورۂ فاتحہ اور دوسری سورت پڑھیں۔

دوسری اور چوتھی رکعت میں (دوسرے سجدے کے بعد جلسے میں) پہلے دس تسبیحات پڑھی جائیں گی۔ اس کے بعد التحیات پڑھی جائیں گی۔ اسی ترتیب سے چاروں رکعات پڑھی جائیں گی۔ چاروں رکعات میں تسبیحات کی کل تعداد تین سو بار ہے۔

٭صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کا طریقہ:
(حضرت بن عبداﷲ بن مبارک سے منقول)
چار رکعات نماز صلوٰۃ التسبیح کی نیت:
پہلی رکعت: کھڑے ہو کر سبحانک اللھم پڑھنے کے بعد (اعوذ باﷲ، بسم اﷲ اور سورۂ فاتحہ پڑھنے سے پہلے) پندرہ مرتبہ تسبیح پڑھی جائے۔

اس کے بعد (اعوذ باﷲ، بسم اﷲ سورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھنے کے بعد (قیام میں) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھنے کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ قومہ میں (سمع اﷲ لمن حمدہ ربنا لک الحمد پڑھنے کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ پہلے سجدے میں (سبحان ربی الاعلیٰ) کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ پہلے سجدے کے بعد (بیٹھ کر جلسے میں) دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ دوسرے سجدے میں (سبحان ربی الاعلیٰ) کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔ کل تعداد، پچھتر۔

اﷲ اکبر کہہ کر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اس ترتیب سے باقی رکعات ادا کریں۔ یعنی ایک رکعت میں پچھتر مرتبہ چار رکعات میں تین سو مرتبہ۔

نوٹ: پہلی رکعت کے بعد دوسری، تیسری اور چوتھی رکعت میں چوں کہ سبحانک اللھم اور اعوذ باﷲ نہیں ہے، اس لیے ان رکعات میں کھڑے ہوتے ہی پندرہ مرتبہ تسبیحات پڑھی جائیں گی، پھر سورۂ فاتحہ اور دوسری سورت پڑھی جائے۔ اسی ترتیب سے چاروں رکعات ادا کی جائیں گی۔ چاروں رکعات میں تسبیحات کی کل تعداد تین سو ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔