قیام پاکستان کے مقاصد کوبھولنا نہیں چاہیے،اشرف لیاقت علی خان

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 10 نومبر 2012
  پاکستان کے لیے ہزاروں مسلمانوں نے جانیں قربان کیں، بھارت سے ہجرت کی.  فوٹو: فائل

پاکستان کے لیے ہزاروں مسلمانوں نے جانیں قربان کیں، بھارت سے ہجرت کی. فوٹو: فائل

کراچی: پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے صاحبزادے اشرف لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ آج پاکستان کے قیام کے 65 سال کے بعد بھی ہم وطن عزیزکو قائداعظم کے خوابوں کی تعبیر میں ڈھالنے میں ناکام رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے ایک بیان میں کیا ، انھوں نے کہا کہ میرے والد جنھیں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اپنا دایاں بازو کہتے تھے انھوں نے 20 فروری 1949کو خالق دینا ہال کراچی میں پاکستان مسلم لیگ کے پہلے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قائداعظم اور میں نے پاکستان کا مطالبہ اس لیے کیا تھا۔

کیونکہ ہم برصغیر میں مسلمانوں کیلیے ایک ایسا خطہ چاہتے تھے جہاں مسلمان سکون سے رہ سکیں اور اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں اس مقصد کے حصول کیلیے برصغیر کے70 ہزار مسلمانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور بھارت سے پاکستان ہجرت کی آج یہ ہم سب کی ذمے داری بنتی ہے کہ ہم پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی ریاست بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، ہمیں پاکستان کے قیام کے ان مقاصد کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے جن کی بنیاد پرپاکستان کی تشکیل ہوئی میرے والد لیاقت علی خان نے مرتے وقت کہا تھا کہ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔