محسن کشی کی روایات

مقتدا منصور  جمعرات 17 مارچ 2016
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

ایک ملک کا شہزادہ اپنے والد (بادشاہ) سے ناراض ہوکر شاہی محل چھوڑ دیتا ہے اور جنگل کا رخ کرتا ہے۔ کچھ روز میں کپڑے تار تار ہوجاتے ہیں، داڑھی مونچھیں بے ہنگم انداز میں بڑھ جاتی ہیں۔ اسی دوران ایک دوسرے ملک کا بادشاہ جو شکار کے لیے نکلا تھا، راستہ بھٹک کر اپنے قافلے سے بچھڑ جاتا ہے۔

شدید پیاس کے عالم میں پانی کی تلاش میں ہوتا ہے کہ اسے پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک ملنگ نما شخص نظر آتا ہے۔ وہ اس سے پوچھتا ہے کہ یہاں قریب کہیں پانی مل سکے گا۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ خود بھی پانی ہی کی تلاش میں ہے۔ اتنے میں ایک بندر بھاگتا ہوا وہاں سے گزرتا ہے۔ ملنگ بادشاہ سے کہتا ہے کہ چند لمحے توقف فرمائیے اور بندر کے پیچھے دوڑ لگا دیتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں وہ ایک مشکیزے میں پانی لے کر آتا ہے اور بادشاہ کو پیش کردیتا ہے۔

بادشاہ اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے سوال کرتا ہے کہ کیا تم کسی ملک کے شہزادے ہو۔ وہ شخص جواباً کہتا ہے کہ حضور میں تو اس بیاباں میں بھٹکتا ایک درویش ہوں۔ آپ پانی پیجئے اور میرے حق میں دعا کیجیے۔ بادشاہ اصرار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں اس وقت تک پانی نہیں پیؤں گا جب تک تم یہ اعتراف نہیں کرلیتے کہ تم ایک شہزادے ہو۔ زچ ہوکر وہ شخص تسلیم کرلیتا ہے کہ واقعی وہ پڑوسی ملک کا شہزادہ ہے، جو اپنے والد سے ناراض ہوکر جنگل کی طرف آنکلا ہے۔

پھر وہ بادشاہ سے سوال کرتا ہے کہ انھیں یہ کیسے گمان گزرا کہ وہ شہزادہ ہے۔ اس پر بادشاہ نے جواب دیا کہ محسن کشی ہم اہل اقتدار کا شیوہ ہے۔ ہم سب سے پہلے اپنے محسن کو مارتے ہیں۔ بندر کو بھاگتے دیکھ کر تمہیں اندازہ ہوگیا کہ وہ پانی کی تلاش میں جارہا ہے۔ لہٰذا تم نے اس کا پیچھا کیا اور اسے مارکر اس کی کھال کا مشکیزہ بناکر پانی لے آئے۔ دراصل بندر تمہارا محسن تھا، جسے مار کر اپنا مقصد پورا کیا۔ یہی تمہارے شاہی خاندان سے وابستگی کا ثبوت ہے۔

اس کہانی میں بیان کردہ طرز عمل صرف اہل اقتدار تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہر اس انسان کے روش اور رویے کا اظہار ہے، جس پر اقتدار و اختیار کے حصول کا بھوت سوار ہو۔ ایسا شخص اچھے برے اور اپنے پرائے کی تمیز کھو دیتا ہے۔ اس قسم کے ان گنت واقعات سے دنیا کی تاریخ بھری ہوئی ہے، مگر آج ہم اپنی 68 برس کی تاریخ سے صرف چیدہ چیدہ چند واقعات کو نقل کیے لیتے ہیں۔ ملک غلام محمد جو بھی تھے اور جس طرح انھیں گورنر جنرل بنایا گیا، وہ ایک الگ کہانی ہے۔

وہ دو افراد پر آنکھ بند کرکے تکیہ کیا کرتے تھے اور انھیں اپنے دائیں بائیں بٹھا کر وزرائے اعظم کو گالیاں دیا کرتے تھے۔ یہ دونوں اصحاب اسکندر مرزا اور کمانڈر انچیف ایوب خان تھے۔ مگر جس طرح تذلیل کرکے اسکندر مرزا نے ان سے استعفیٰ لیا، وہ تاریخ کا ایک عبرت ناک باب ہے۔

ایوب خان اور اسکندر مرزا میں گاڑھی چھنتی تھی۔ اسکندر مرزا ایوب خان کو اپنا مخلص دوست اور راز دان تصور کرتے تھے۔ فروری 1959 میں ہونے والے عام انتخابات میں نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کی متوقع کامیابی سے خوفزدہ اسکندر مرزا نے اپنے ہم نوالہ و ہم پیالہ ایوب خان کو اکسا کر 7 اکتوبر 1958 کو ملک بھر میں مارشل لا نافذ کردیا۔ اب وہ مطمئن تھے ملک مکمل طور پر ان کی گرفت میں ہے۔ ایوب خان کی معاونت سے کئی دہائیوں تک اس ملک کے سپید و سیاہ پر قابض رہ سکیں گے۔

مگر اقتدار کی ہوس بری بلا ہوتی ہے، ایوب خان، جن کے ہاتھ میں بندوق تھی، وہ کس طرح کسی دوسرے کے اقتدار کو دوام بخشنے کا ذریعہ بنتے۔ انھوں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور خود ہی ملک کے سپید و سیاہ کے مالک بننے کا فیصلہ کرلیا۔ چنانچہ مارشل لا لگائے جانے کے 20 دن بعد ہی انھوں نے اسکندر مرزا کو معزول کرکے اقتدار پر مکمل قبضہ جما لیا۔ اس واقعے کا مفصل احوال ائیر مارشل اصغر خان کی کتاب Generals in Politics میں موجود ہے، جس میں کچھ اور چہروں کا بھی تذکرہ ہے، جنھوں نے آگے چل کر محسن کشی کی روایت کو آگے بڑھایا۔

ائیر مارشل لکھتے ہیں کہ ’’26 اکتوبر کی شام چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے دفتر سے ٹیلیفون کال آئی کہ ایوب خان مجھے اپنے گھر بلا رہے ہیں۔ میں تیار ہوکر جب وہاں پہنچا، تو ڈرائنگ روم میں جنرل اعظم خان، جنرل برکی اور جنرل شیخ کے علاوہ بریگیڈیئر یحییٰ پہلے سے موجود تھے۔ ایوب خان نے مختصراً اپنے منصوبے سے آگاہ کیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ میں اسکندر مرزا سے استعفیٰ لینے والی ٹیم کے ساتھ جاؤں۔ میں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اسکندر مرزا میرا محسن ہے، جس نے مجھے فضائیہ کا سربراہ بنایا، اس لیے میرا وہاں جانا مناسب نہیں ہے۔

البتہ انھیں یہ یقین دلایا کہ فضائیہ ان کے فیصلے کی مخالفت نہیں کرے گی۔ اس پر ایوب خان نے اصرار کیا کہ جب تک ٹیم استعفیٰ لے کر واپس نہ آجائے، میں وہیں ٹھہروں۔ شاید انھیں میری بات پر مکمل یقین نہیں تھا۔ خیر تین جرنیلوں پر مشتمل قافلہ ایک جیپ میں ایوان صدر کی جانب روانہ ہوا، جسے بریگیڈیئر یحییٰ ڈرائیو کررہے تھے۔ واپسی پر بریگیڈیئر یحییٰ نے چہک چہک کر اسکندر مرزا سے استعفیٰ لینے کی روداد سنائی، جس میں یہ ٹکڑا بھی شامل تھا کہ مزاحمت کرنے پر جنرل اعظم خان مرحوم نے کس طرح ملک کے صدر کے ساتھ دست اندازی کی۔ پھر چند برس بعد انھی اعظم خان کے ساتھ جو برتاؤ ہوا، پورا پاکستان اس سے واقف ہے‘‘۔

ایئر مارشل آگے لکھتے ہیں کہ بھٹو کا دور حکومت تھا،  میجر اب لیفٹیننٹ جنرل ہوچکا تھا اور ملتان کا کور کمانڈر تھا۔ وہ بھٹو مرحوم کے خوشامدی کے طور پر مشہور تھا۔ اکثر بھٹو مرحوم سے کہتا کہ سر آپ میرا رول ماڈل ہیں۔ ایک روز جب بھٹو مرحوم ملتان کے دورے پر آئے ہوئے تھے، تو سرکٹ ہاؤس میں یونیفارم میں بھٹو مرحوم کے قدموں میں بیٹھ گیا، جو وہاں موجود بعض افراد کو معیوب لگا۔ کچھ دیر بعد کہا کہ سر اجازت دیں تو ذرا نماز ادا کر آؤں۔ بھٹو مرحوم نے فخریہ انداز میں دائیں بائیں دیکھا اور اسی لمحہ فیصلہ کرلیا کہ اگلا آرمی چیف یہی ہوگا۔

پھر انھوں نے 8 سینئر جرنیلوں پر سبقت دے کر اسے آرمی چیف بنا دیا۔ اس واقعے کی تصدیق سابق IGP پنجاب راؤ رشید کی کتاب ’’جیسا میں نے دیکھا‘‘ سے کی جاسکتی ہے۔ مگر پھر کیا ہوا؟ بھٹو مرحوم کو اپنا آئیڈیل اور رول ماڈل کہنے والے جرنیل نے 4 اور 5 جولائی 1977 کی شب ان کی حکومت کا خاتمہ کردیا اور پونے دو برس بعد انھیں پھانسی پر لٹکا دیا۔ اسی طرح  میاں نواز شریف نے چار جرنیلوں پر سبقت دے کر پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا اور پھر جو کچھ ان کے ساتھ ہوا، وہ بھی  سب کے سامنے ہے۔

بہرحال ایک اور قصہ کی طرف آتے ہیں۔ لوئر مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے والا ایک ذہین اور اسمارٹ نوجوان اربن سندھ کی ایک مقبول جماعت کے مرکز پر بطور ٹیلیفون آپریٹر تعینات کیا جاتا ہے۔ نوجوان کو وقتاً فوقتاً دیگر ذمے داریاں بھی سونپی جاتی ہیں، جنھیں وہ مستعدی اور چابکدستی کے ساتھ نبھاتا ہے۔ جماعت کے قائد اس نوجوان کی فرمانبرداری، لگن اور مستعدی سے متاثر ہوکر اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے پارٹی خرچ پر بیرون ملک بھیجتے ہیں، جہاں سے وہ MBA کی ڈگری لے کر واپس آتا ہے۔

واپسی پر اس نوجوان کو پہلے صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کراکے وزیر بنوایا جاتا ہے، پھر استعفیٰ دلوا کر کراچی جیسے شہر کی نظامت اس کے حوالے کی جاتی ہے۔ یوں پارٹی قیادت کی سرپرستی اور کارکنوں کی شب و روز محنت اور مستعدی کے نتیجے میں جو کامیابیاں ملتی ہیں، ان کا سہرا اس کے سر بندھتا ہے۔

جماعت کا قائد بھی خوش ہوکر اسے گلے لگا کر پیار کرتا ہے۔ لیکن جب چند نادیدہ قوتیں اسے کراچی کی قیادت سونپنے کا سنہرا خواب دکھاتی ہیں، تو وہ سارے احسانات بھول کر ہوس اقتدار میں اپنے ہی محسن کی کردار کشی پر اتر آتا ہے اور دشمن سے بڑھ کر دشمن کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس محاورے کو درست ثابت کردیتا ہے کہ گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھاتا ہے۔  خود اس کی اپنی جماعت سے انحراف کرنے والے آفاق احمد آج کس حال میں ہیں۔

قول علیؓ ہے کہ انسان کے ظرف کی شناخت دو مواقع پر ہوتی ہے۔ اول، جب وہ مصیبت میں گھرا ہو۔ دوئم، جب وہ طاقتور اور صاحب ثروت ہو۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو۔ حالیہ دنوں میں جو کردار سامنے آرہے ہیں، انھوں نے اقوال علیؓ پر یقین کو مزید پختہ کردیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔