ملک میں اب کوئی بھی ماورائے آئین اقدام نہیں ہوگا،چیف جسٹس

ویب ڈیسک  ہفتہ 10 نومبر 2012
عدلیہ اپنے فرض کی ادائیگی میں ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹے گی,چیف جسٹس  فوٹو: فائل

عدلیہ اپنے فرض کی ادائیگی میں ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹے گی,چیف جسٹس فوٹو: فائل

ایبٹ آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ آئین کے تابع ہیں،اب کوئی بھی ماورائے آئین اقدام نہیں ہوگا۔

ایبٹ آباد بار میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری  نے  کہا کہ قانون کی نظر میں ہر شخص برابر ہے عدلیہ اپنے فرض کی ادائیگی کے سلسلے میں ذرا بھی پیچھے نہیں  ہٹے گی۔ گو کہ صرف عدالتیں انصاف فراہم کرنے کی ذمہ دار ہیں تاہم وکلا کی مدد کے بغیر وہ اکیلی انصاف مہیا نہیں کرسکتیں۔ وکلا کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی بالا  دستی کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں انہیں بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے اواز اٹھانی چاہئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یقینا انصاف حاصل کرنا لوگوں  کا بنیادی حق ہے اور جج صاحبان اپنی تمام تر صلاحیتوں  کو بروئے کار لا کر انصاف مہیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں  اگر چہ پورے ملک میں مقدموں  کے التواکا مسئلہ شدید نوعیت کا رہا ہے لیکن عدلیہ کی بحالی کے بعد مقدموں  کے التواکو نمٹانے کے لئے خاص اہمیت دی گئی ہے۔

افتخار محمد چوہدری نے مزید کہا اعلیٰ عدلیہ اور خاص طور پر سپریم کورٹ آئین کی طرف سے تفویض شدہ ذمہ داری سےمتعلق پوری طرح آگاہ ہیں اور ججز اپنی تربیت اور حلف کے تحت مجبور ہیں  کہ وہ آ ئین کو تحفظ فراہم کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔