ہم بہت فریب کھا چکے

آفتاب احمد خانزادہ  ہفتہ 19 مارچ 2016

رابندر ناتھ ٹیگور لکھتا ہے ’’جہاں دماغ خوف سے آزاد ہو، جہاں سر اونچے اٹھے رہیں، جہاں علم پر پابندی نہ ہو، جہاں مقامی حد بندیوں کی دیواروں سے دنیا کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کردیا گیا ہو، جہاں الفاظ صداقت کی گہرائیوں سے نکلے ہوں، جہاں عقل کا شفاف سرچشمہ مردہ عادات کے ریگستان کی ریت میں اپنا راستہ نہ کھو بیٹھا ہو، آزادی کی اس جنت میں میرے ملک کو جاگنا نصیب ہو‘‘۔ ٹیگور کی طرح آپ کی اور میری بھی یہی خواہش اور تمنا ہے کہ ہم سب کو بھی ایسی ہی جنت میں جاگنا نصیب ہو۔ لیکن کیا کریں آپ اور میں اتنے خوش نصیب واقع نہیں ہوئے ہیں، بلکہ ہمیں ایسی دوزخ میں جاگنا نصیب ہوتا ہے جہاں ہر طرف آدمی کا شکار آدمی ہے۔

ہمیں تلاش رہتی ہے ایسے شخص کی جس پر ایمانداری کا الزام لگایا جاسکے، تلاش رہتی ہے ایسے شخص کی جسے سچ بولنے کے جرم میں سولی پر چڑھایا جاسکے، تلاش رہتی ہے ایسے شخص کی جسے وفاداری کے صلے میں 14 سال قید بامشقت سنائی جاسکے۔ ایسی بنجر زمین پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، جہاں وعدوں اور دعوؤں کی یلغار ہو اور پوری کبھی نہ ہوسکیں۔

ہرطرف مردار خور چیلوں اور گدھوں کی اڑانیں ہیں، ہر طرف جاہل، اقتدار کے بھوکے، کلنک کے ٹیکے، لوگوں کے کھولتے جذبات و احساسات سے بے خبر مسخرے گھوم رہے ہیں۔

ہم سب تہذیب و تمدن سے دور، دور وحشت کی وحشت انگیز تاریکیوں کے مسافر بن گئے ہیں۔ انسانوں کی ایسی حیوانی خصلتوں، ایسے بربرانہ رویوں اور ایسے سفاکانہ مظالم دیکھ کر بے اختیار جھرجھری آجاتی ہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ لوگ اپنے نامہ اعمال پر شرمندہ کیوں نہیں ہوتے، انھیں انسانیت کا سامنا کرنے کی جرأت کیسے ہوتی ہے، یہ اپنا چہرہ آئینے میں دیکھ کر ڈرتے کیوں نہیں ہیں، یہ اپنے آپ سے نظریں کیوں کر ملاتے پاتے ہیں، یہ اپنے اندر سے اٹھنے والی چیخوں کا گلا کس طرح گھونٹ دیتے ہیں، کیا انھیں اپنے آپ سے گھن نہیں آتی، کیا انھیں اپنے آپ سے بدبو کے اٹھتے بھبکوں سے نفرت نہیں ہوتی؟

شیکسپیئر نے کہا تھا ’’دوزخ خالی پڑی ہے، سارے شیطان زمین پر ہیں‘‘۔ یہاں پر ایک بہت ہی سیدھا سادہ سا سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس سارے بگاڑ، افراتفری، بے حسی کا اصل ذمے دار کون ہے؟ کیا ہم خود اصل ذمے دار ہیں؟ کیا ریاست ذمے دار ہے یا ریاست کو چلانے والے سیاست دان اس کے اصل ذمے دار ہیں؟ ارسطو کے نزدیک ریاست مختلف خاندانوں اور دیہات کے ایسے منظم اجتماع کو کہتے ہیں، جس کا مقصد ایک خوشحالی اور آزاد زندگی کے قیام کے لیے سہولتیں بہم پہنچانا ہے۔

سنڈوک کے نزدیک ریاست کے لازمی عناصر تین ہیں، یعنی آبادی، علاقہ اور حکومت۔ لاک کہتا ہے کہ حکومت کا مقصد انسانیت کی بھلائی ہے، یعنی ریاست اور حکومت دونوں کا واحد مقصد تمام شہریوں کی فلاح و بہبود ہے، ہر فرد کی مادی ضروریات کم و بیش ایک جیسی ہوتی ہیں۔ سماج کی ابتدا اس غرض سے ہوئی تھی کہ ضروریات زندگی کے حصول و تقسیم میں آسانی ہو۔ سیاست کو سمجھنے کے لیے بدقسمتی سے نفسیات کو سمجھنا پڑتا ہے۔ انسان اور مملکت میں مشابہت ہے، حکومتوں میں بھی ایسا ہی فرق ہوتا ہے جیساکہ انسان کی سیرتوں میں ہوتا ہے۔

مملکت فطرت انسانی کی بنی ہوئی ہوتی ہیں، جو اس کے اندر ہوتی ہیں، اس لیے ہم اس وقت تک بہتر مملکتوں کی توقع نہیں کرسکتے جب تک ہمارے پاس بہتر آدمی نہ ہوں۔ ہماری اصل بدقسمتی ہمیشہ یہی رہی کہ ہمیں اپنی مملکت چلانے کے لیے بہتر آدمی میسر نہ ہوسکے۔  پاکستان کے عوام 68 سال سے اپنے لیے خوشحالی، ترقی، آزادی، مساوات کے جو بند دروازے کھول نہ سکے، اس کی بھی اصل وجہ یہی ہے۔ جب ہم اپنے سیاست دانوں کے کردار، عزائم اور اعمال کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پر وحشت ناک انکشاف ہوتا ہے کہ وہ سب اپنے لیے تو آزادی، خوشحالی، ترقی اور معاشی آسودگی کو پسند کرتے ہیں، مگر عوام کے لیے غلامی، مفلسی، بدحالی، بے اختیاری کے خواہاں ہوتے ہیں۔ ان میں انتہائی نیچ کی حد تک خودغرضی نظر آتی ہے۔ یہ دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے بدصورتوں کی ایک فوج آئینے توڑتی پھررہی ہو۔

چار سو سال سے بھی زیادہ مدت گزر گئی ہے جب سے ’’میکیاولیت‘‘ کو دنیا ابلیسیت، دغابازی، بدقماشی، بے دردی اور بدالحواری کا مترادف سمجھ رہی ہے، اس اصطلاح کا بانی نکولو میکیاولی تھا، جو عام طور پر سازشی، حیلہ باز، ریاکار، بداخلاق اور ایمان و شرافت سے عاری سیاستدان کی تمثیل سمجھا جاتا ہے، جس کا مسلک یہ ہو کہ حصول مقصد کے لیے ہر طریقے سے کام لے لینا جائز ہے، خواہ وہ کتنا ہی قابل اعتراض ہو۔ میکیاولی کی بدنامی ایک ہی کتاب کا نتیجہ ہے، یعنی ’’بادشاہ‘‘ جو 1513 میں لکھی گئی۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیںکرسکتا کہ ہر دور کے ڈکیٹیٹر اور استبداد پرست ’’بادشاہ‘‘ سے مفید مشورے اخذ کرتے رہے ہیں، اسے شوق سے پڑھنے والوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔

شہنشاہ چارلس پنجم اور کیتھرائن دی میڈیچی اس کتاب کو بہت پسند کرتے تھے، ہنری سوم اور ہنری چہارم قتل ہوئے تو اس کتاب کے نسخے ان کے پاس تھے، فریڈرک اعظم نے پروشیا کے لیے پالیسی وضع کر تے وقت ’’بادشاہ ‘‘ سے مدد لی تھی۔ ہٹلر نے خود لکھا ہے کہ ’’بادشاہ‘‘ میرے بستر پر رہتی تھی۔ مسولینی نے بیان کیا ہے کہ میں میکیاولی کی ’’بادشاہ‘‘ کو مدبروں کا بہترین رہنما سمجھتا ہوں۔ ’’بادشاہ‘‘ کے تمام اصول آج بھی زندہ ہیں اور ہمارے سیاست دان ان ہی اصولوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔ میکیاولی لکھتا ہے کہ ’’کوئی حکمران ایسا نہیں گزرا جس نے بدعہدی پر پردہ ڈالنے کے لیے خوشنما دلیلیں پیدا نہ کی ہوں، انسان ہمیشہ سے سادہ لوح رہے ہیں، وہ فوری ضروریات میں اس طرح محصور رہتے ہیں کہ ادھر ادھر دیکھ ہی نہیں سکتے اور اگر کوئی شخص انھیں فریب دینا چاہے تو ایسے سادہ لوگ یقیناً مل جائیں گے جو فریب کھانے پر آمادہ ہوں‘‘۔

پاکستان کے عوام چونکہ بہت سادہ لوح واقع ہوئے ہیں، اسی لیے وہ 68 سال سے فریب کھاتے چلے آرہے ہیں، اسی لیے ان کی زندگی کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ہمارے سیاست دان دراصل جمہوریت کے نام پر کاروبار کرتے آئے ہیں، سب نے اپنی اپنی دکانیں کھول رکھی ہیں، ان کی نہ تو سوچ جمہوری ہے اور نہ ہی ان کے رویے جمہوری ہیں اور نہ ہی انھیں جمہوریت سے کوئی سروکار ہے، انھیں صرف اور صرف اپنے کاروبار سے دلچسپی اور سروکار ہے۔

آپ سب باتیں چھوڑیں، ذرا موجودہ سیاست دانوں کے 30 سال پہلے رہن سہن، طور واطوار، جائیدادیں، بینک بیلنس اور ذرائع آمدنی اور موجودہ جائیدادیں، رہن سہن، طور واطوار، بینک بیلنس، کاروبار کی تحقیقات خود کرکے دیکھ لیں، تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ اگر اسے جمہوریت کہتے ہیں تو پھر دنیا کے دیگر ممالک میں جہاں اصل جمہوریت ہے اسے کیا کہتے ہیں۔  جناب اعلیٰ معاف کیجئے گا، بس بہت فریب دے چکے۔ اب جمہوریت جمہوریت کا کھیل کھیلنا بند کریں۔ بہت ہوچکا۔ ہم بہت فریب کھا چکے۔ اب آپ کی جمہوریت کے نام پر لوٹ مار اور کرپشن نہیں چلے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔