حیدرآباد پولیس کا فلیٹ پرچھاپہ، مغویہ سمیت6 خواتین بازیاب

نمائندہ ایکسپریس  اتوار 11 نومبر 2012
حیدرآباد: فلیٹ پر چھاپے میںبازیابخواتین کو عدالت میں پیشی کے بعد دارالامان لے جایا جارہا ہے۔ فوٹو : عدیل احمد / ایکسپریس

حیدرآباد: فلیٹ پر چھاپے میںبازیابخواتین کو عدالت میں پیشی کے بعد دارالامان لے جایا جارہا ہے۔ فوٹو : عدیل احمد / ایکسپریس

حیدر آباد: لطیف آباداے سیکشن پولیس نے فلیٹ پر چھاپہ مار کر مغویہ سمیت 6خواتین کو بازیاب جبکہ ایک خاتون کو گرفتار بھی کر لیا۔

تھانہ اے سیکشن میں لاہور کے رہائشی محمد ساگر نے مقدمہ درج کرایا تھا کہ اس کی اہلیہ کرن کو عذرا انجم نامی خاتون بہلا پھسلاکر لے آئی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد یونٹ نمبر7 میں واقع ایک پلازے کے فلیٹ پر چھاپہ مارا تو وہاں کرن کے علاوہ دیگر 5 لڑکیاں مہوش، کشمالہ، فرح، نازیہ بھی موجود تھیں۔ پولیس نے ایک خاتون عذرا انجم کو گرفتارکرلیا۔ بازیاب ہونے والی کرن اور دیگر5 لڑکیوں کو قائم مقام سول جج وجوڈیشل مجسٹریٹ نمبر6 کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے 5 لڑکیوں کو دارالامان بھیج دیا جبکہ کرن کی حوالگی کے لیے شوہر محمد ساگر نے درخواست دی لیکن وہ نکاح نامہ یا اپنا اور اپنی بیوی کا شناختی کارڈ تک عدالت میں پیش نہ کرسکا جس کے باعث عدالت نے اسے بھی دارالامان بھیج دیا اور اسکے شوہر کو ہدایت کی کہ وہ بیوی کی حوالگی کیلیے ضروری قانونی لوازمات پورے کرے۔ عدالت نے عذرانجم کو 3 روز کے ریمانڈ پر تفتیش کیلیے پولیس کی تحویل میں دے دیا جسے ویمن جیل بھیج دیا گیا ۔ مہوش نے میڈیا کو بتایا کہ بازیاب ہونیوالی5 لڑکیوںمیں سے ایک کو اغوا کر کے جبکہ دیگر 4 کو نوکر ی کے بہانے عذرا انجم حیدرآباد لائی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔