کمال گروپ 15 دن بعد بھی واضح پالیسی دینے میں ناکام؟؟

عمیر علی انجم  منگل 22 مارچ 2016
 اگر قائد متحدہ کے خلاف ان کے پاس ثبوت ہیں تو وہ میڈیا کے سامنے پیش کیوں نہیں کررہے؟  فوٹو: فائل

اگر قائد متحدہ کے خلاف ان کے پاس ثبوت ہیں تو وہ میڈیا کے سامنے پیش کیوں نہیں کررہے؟ فوٹو: فائل

 کراچی: ایم کیوایم کے باغی قافلے نے متحدہ کی وکٹوںپرکھیلنے کوترجیح دیتے ہوئے اس بات کوبھلادیاہے کہ وہ آئے کیوںہیں؟اوراب کریں گے کیا ؟

کم و بیش 15دن گزرجانے کے باوجوداس نئی جماعت کے کسی بھی رہنمانے عملی طورپراب تک عوامی رابطہ مہم کاآغازنہیں کیااور کراچی کے عوام سے مختلف علاقوں میں جاکر ملاقاتیں بھی نہیں کیں۔عملی طورپر یہ رہنماعوام کواپنا منشوردینے سے قاصر رہے ہیں جس کے باعث عوام کے دلوںمیں کئی سوال جنم لے رہے ہیں جن کااظہارانھوںنے سوشل میڈیااوردیگرذرائع سے کرناشروع کردیاہے۔ سیاسی حلقوں کاکہناہے کہ اس باغی قافلے نے تنقیدبرائے تنقیدکی ایک نئی ریت ڈال دی ہے اور ابھی تک اس دائرے سے باہر نہیں نکل سکا ۔دوسری طرف متحدہ کے قائد گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے ملک سے باہرہیں اورمقامی رہنمااس جماعت کوپاکستان میں چلا رہے ہیں اورزمینی حقائقبھی جانتے ہیں ۔

مصطفیٰ کمال کے نئے قافلے میں شامل ہونے والا ہر رہنما دلیل کے طور پر قائد متحدہ کے خلاف زبانی ثبوت لیکر آتا ہے اورعوام کی ہمدرد یا ںاکھٹی کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے لیکن سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر قائد متحدہ کے خلاف ان کے پاس ثبوت ہیں تو وہ میڈیا کے سامنے پیش کیوں نہیں کررہے؟ ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔