نواز شریف ایجنسیوں کی مدد کے بغیر الیکشن لڑنے سے گھبرا رہے ہیں، قمر کائرہ

اسٹاف رپورٹر  اتوار 11 نومبر 2012
 کراچی: قمرزمان کائرہ پیپلز میڈیا سیل میں پریس کانفرنس کررہے ہیں،شرجیل میمن بھی موجود ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی: قمرزمان کائرہ پیپلز میڈیا سیل میں پریس کانفرنس کررہے ہیں،شرجیل میمن بھی موجود ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی: وفاقی وزیراطلاعات قمرزمان کائرہ نے کہاہے کہ عام انتخابات 18 مارچ 2013کے بعد 45 دنوں کے دوران ہوں گے۔

نواز شریف پہلی بارآئندہ الیکشن میں ایجنسیوں کے سہارے کے بغیرانتخابی مہم میں حصہ لینے والے ہیں،اس لیے انھیں گھبراہٹ ہورہی ہے،ضمنی الیکشن سے بھاگنے والے عام انتخابات میں کیامقابلہ کریں گے،ملالہ یوسفزئی اس سوچ کی نمائندہ ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی، ملک کی جمہوری قوتوں اور سول سوسائٹی کی ہے، نواز شریف طالبان کے ساتھ کھڑے ہیں،شہیدبینظیر بھٹوکے قتل کی تحقیقات سے بلاول بھٹوزرداری مطمئن ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ تحقیقات درست سمت میں ہورہی ہے۔یہ بات انھوں نے پیپلزپارٹی سندھ میڈیاسیل کلفٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پروزیراطلاعات سندھ شرجیل امیمن،وزیر ایکسائزاینڈٹیکسیشن مکیش کمارچائولہ،پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل تاج حیدراوردیگررہنمابھی موجودتھے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ ملک میں ملالہ یوسف زئی کی سوچ آگے بڑھ رہی ہے،ملالہ کے واقعے کے بعدنئی بحث چھڑ گئی ہے،ایک بھٹو کی روشن خیالی اورعلم کی روشنی کی اور دوسری طرف ضیاالحق کے سیاسی وارثوں کی سوچ آگے بڑھ رہی ہے،ملالہ کی آئیڈیل بے نظیربھٹو ہیں جبکہ ضیاء الحق کے سیاسی وارثوں کی سوچ جبراورطاقت کے زور پر خاص فکر کی سوچ دوسرے پرڈالنے کی کوشش ہورہی ہے۔

اصغر خان کیس نے تاریخ کاایک ورق الٹا ہے جس سے یہ ثابت ہواکہ پہلے بھٹو کے قتل کے بعدضیاالحق کے سیاسی وارثوں نے ان کی فکراور سوچ ختم کرنے کی کوشش کی جبکہ بی بی کے قتل کے بعدظالمان کی صورت میں پیپلزپارٹی کو ایک بار پھر ختم کرنے کوشش کی جارہی ہے،اصغر خان کیس میں صرف1990 کے انتخابات کا ذکرہے جبکہ پیپلز پارٹی کیخلاف1986سے ہی تعصب شروع ہوگیاتھا اور اس کے لیے باقاعدہ مہم شروع کی گئی،1988 کے انتخابات میں جب وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تو سازش کے تحت صوبوں میں صوبائی تعصب پھیلانے کی کوشش کی گئی جس کی سرپرستی ضیاالحق کے سیاسی وارثوں نے کی،1988 میں ہی تعصب کے ذریعے ہی جاگ پنجابی جاگ کانعرہ لگایا گیا اورپیپلز پارٹی سے صوبائی طاقت چھیننے کی کوشش کی گئی، نوازشریف ابھی ہم پر الزام لگارہے ہیں۔

لیکن انھیں اسامہ بن لادن کاساتھ دینے اورآئی جے آئی بنانے کے الزامات کاجواب دیناہے۔انھوں نے کہا کہ1990 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے خلاف اشتہاری مہم چلائی گئی،1990 کے انتخابات میں ہمارے ووٹرزکی تعدادمیں اضافہ ہوالیکن ہمیں نشستیں کم ملیں پوری کی پوری ریاستی مشینری ہمارے خلاف استعمال ہوئی جعلی شناختی کارڈبنوائے گئے،اپنی مرضی کی نگراں حکومت تشکیل دی گئی،90ء کے انتخابات کے بعد وجودمیں آنے والی حکومت کی آئینی حیثیت ختم ہو گئی،نوازشریف نے اس دور میں پیسے لے کر یونس حبیب کومہران بینک کالائسنس جاری کیا۔انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عدالتوں کا احترام کرتی ہے،اگر عدالت کی جانب سے کوئی بات آئے گی توپیپلز پارٹی کا ترجمان ہونے کی حیثیت سے اس کاجواب دینا لازم ہے،میں نے پہلے بھی کہا تھاکہ حتمی فیصلہ عدالت کا نہیں صدرکاکام ہے۔

اگر کسی کو پھانسی کی سزا ہوتی ہے تواس پر اپیل کی معافی کاحق بھی صدر کے پاس ہی ہے،ایوان صدر کومنتخب کرتاہے اورایوان کو عوام منتخب کرتی ہے،یہ ملک کا قانون ہے ہم کسی ادارے کوچھوٹا یا بڑے نہیں کررہے ہیں،سب کے اختیارات آئین میں طے شدہ ہیں،پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے ملک کے لیے قربانیاں دیں لیکن پیپلز پارٹی پرہی سیکیورٹی رسک کے الزامات عائدکیے جارہے ہیں اورجو لوگ حکمرانی آمریت کومنتقل کرکے گیے وہ ملک کے وفاداربن گئے ہیں جولوگ صوبائیت کو ہوا دیتے رہے وہ اب وفادار بنے ہیں اورجو لوگ پاکستان کھپے کا نعرہ لگاتے رہے وہ سیکیورٹی رسک بن چکے،جس عدالت نے سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کو طلب کیا اسی عدالت نے شریف برادران کے خلاف فیصلہ دیا ہے تواس پر برا ماننے کی کیابات ہے؟ ن لیگ اور کچھ جماعتیں آپس میں صرف اس بات پرلڑ رہی ہیں کہ طالبان ہمارے ہیں اورہم ان کے نمائندے ہیں۔

انھوں نے کہاکہ ہم سیاست کرتے ہیں مذاق نہیں کرتے،انتخابات کا اعلان وقت آنے پرہی ہوگا،ملک میں پہلی بار جمہوری حکومت مدت پوری کررہی ہے،ن لیگ جعلی سروے کے ذریعے پیپلز پارٹی کے خلاف مہم چلا رہی ہے وہ راہ فرار اختیار نہ کریں اورصرف لاہور شہر میں ہی 3 سال سے ملتوی کشمیرکی نشست پر انتخاب ہی کرواکردیکھ لیں انھیں اپنی عوامی حیثیت کاپتہ لگ جائے گا،ہم ن لیگ کو عام انتخابات میں فرار ہونے کا راستہ نہیں دیں گے، پیپلز پارٹی نے کبھی انتخابات میں تاخیر نہیں کی،میاں صاحب نئے نئے انقلابی بنے ہیں انقلاب میں جاکر پتہ لگتاہے کہ انقلاب کیسا ہوتاہے۔قمرزمان کائرہ نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے تقریباً تمام ہی قاتل گرفتار ہوچکے ایک ملزم فرار ہے جبکہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں اصل محرک ڈرون حملے میں مارا جاچکاہے،بینظیر بھٹو کے شوہر اس ملک کے صدرہیں اور ان کے بچے بی بی کے قتل کی تفتیش سے واقف ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم کسی کی نااہلی پر بات نہیں کرسکتے یہ عدالت کا کام ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔