برائے مہربانی اپنا منہ بند رکھیں

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 23 مارچ 2016

’’صوفیوں نے کہا ہے بولنے سے پہلے اپنے الفاظ کو تین دروازوں سے گزارو، پہلے دروازے پر اپنے آپ سے پوچھو کیا یہ سچ ہے؟ دوسرے دروازے پر پوچھو کیا یہ ضروری ہے؟ اور تیسرے دروازے پر پوچھو کیا یہ نیکی ہے؟‘‘ اگر آپ کا ذہن بند ہے تو برائے مہربانی اپنا منہ بھی بند رکھیں ہونا تو ایسا ہی چاہیے اسی ہدایت میں ہی ہم سب کی بھلائی چھپی ہوئی ہے لیکن کیا کیجیے دیکھنے میں اس کے بالکل الٹ آ رہا ہے جن کا منہ بند ہونا چاہیے ان کا منہ ضرورت سے زیادہ کھلا ہوا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف بولنے کا حق ان ہی کو حاصل ہے۔

اسی لیے انھیں بولنے کا سرطان لاحق ہو گیا ہے مسلسل بغیر رکے بغیر وقفہ دیے لگاتار بس بولے ہی جا رہے ہیں۔ چاہے وہ سماجی معاملہ ہو یا سیاسی یا معاشرتی یا مذہبی بس اپنے بولنے کی ٹانگ اڑائے بغیر وہ رہ نہیں سکتے ہیں۔ بعض اوقات انھیں یہ تک احساس یا معلوم نہیں ہوتا ہے کہ وہ بول کیا رہے ہیں، کیوں بول رہے ہیں، بولنے کی ضرورت کیا ہے انھیں کس نے بولنے کی اجازت دی ہے وہ ہیں کہ بس بولے ہی جا رہے ہیں۔

بالکل اسی قسم کی صورتحال سننے والوں کی ہی ہے جن کے ذہن بند ہیں وہ سننے ہی جا رہے ہیں انھیں یہ تک احساس یا معلوم نہیں ہے کہ وہ کیا سن رہے ہیں اور کیوں سن رہے ہیں انھیں بس سننے کی ایک عادت سے ہو گئی ہے۔

اس لیے بس سننے ہی جا رہے ہیں اور مزے دار بات تو یہ ہے کہ جن کے ذہن کھلے ہوئے ہیں انھوں نے اپنا منہ بند رکھا ہوا ہے کچھ بھی نہیں بول رہے ہیں اور انھیں اس بات سے بھی کوئی سروکار نہیں ہے کہ لوگ کیا سن رہے ہیں کیا کیا سن رہے ہیں، کیوں سن رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ دونوں ہی مدہوش ہیں جنھیں یہ تک احساس نہیں ہے کہ ان کے اس عمل سے معاشرے میں کتنی ہولناک، دہشت ناک اور وحشت ناک بیماریاں پھیل چکی ہیں۔

نجانے کتنی ہی خرابیوں اور برائیوں نے نہ صرف جنم لیا ہے بلکہ اب وہ تیزی کے ساتھ جوان ہو رہی ہیں انھیں اس بات کا بھی احساس نہیں ہے کہ پورا سماج یرغمال بن چکا ہے، پورے سماج میں اب ہم سمیت کوئی بھی ایسی ایک چیز باقی نہیں بچی ہے جو یرغمال نہ ہو چکی ہو۔ اب ہم سب اَن دیکھی زنجیروں اور بیڑیوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ جن سے باہر نکلنا تو دور کی بات ہے اب تو انھیں توڑنے کا سوچنا بھی محال ہو چکا ہے۔ اب ہم سب قیدی ہیں۔

حضرت فرید الدین گنج بخش ؒ ایک گاؤں سے گزر رہے تھے اور ا ن سے عقیدت رکھنے والے چند دوست بھی ان کے ساتھ تھے فرید ؒ اچانک بازار میں میں رک گئے اور کہنے لگے ’’دیکھو میں ایک سوال اٹھاتا ہوں اور آپ اس کا جواب سوچ کر دیں وہ دیکھو ایک آدمی گائے کو باندھ کر لے جا رہا ہے مجھے بتاؤ یہ گائے آدمی سے بندھی ہے یا پھر آدمی گائے سے بندھا ہے۔ ان کے ساتھیوں نے کہا یہ کون سا بڑا سوال ہے آپ جیسے عظیم آدمی کو ایسا سوال پوچھنا کہاں زیب دیتا ہے۔

صاف ظاہر ہے کہ گائے آدمی سے بندھی ہے کیونکہ بندھن آدمی کے ہاتھ میں ہے اور گائے کے گلے میں ہے۔ اس پر فرید ؒ نے کہا میرا دوسرا سوال ہے کہ اگر ہم یہ بندھن درمیان سے توڑ دیں تو کیا گائے آدمی کے پیچھے بھاگی گی یا پھر آدمی گائے کے پیچھے بھاگے گا۔ اس بار فرید ؒ کے دوست سوچ میں پڑ گئے کیونکہ صاف ظاہر تھا کہ بندھن توڑ دینے سے آدمی نے گائے کے پیچھے بھاگنا تھا یہ کوئی مذاق نہیں تھا۔

اس پر فرید ؒ نے کہا ’’میں تم سے کہتا ہوں کہ آدمی کے ہاتھ میں بندھن نہیں ہے، آدمی کے گلے میں ہے اوپر سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ گائے آدمی سے بندھی ہے لیکن اگر اندر سے دیکھ پاؤ گے تو الٹا ہی معاملہ پاؤ گے۔‘‘ بھلا کوئی کسی کو کیسے باندھ سکتا ہے جب تم خود بندھنا چاہتے ہو لیکن بندھن کی ذمے داری بھی اپنے اوپر نہیں لینا چاہتے اس سے بندھنا آسان ہو جاتا ہے، کیونکہ آپ سوچتے ہیں ’’ہم کر ہی کیا سکتے ہیں ہر طرف سے بندھے ہوئے ہیں جائیں تو جائیں کہاں آزادی ملے تو کیسے ملے۔

اصل میں تو کسی نے بھی آپ کو نہیں باندھ رکھا، آپ اصل میں چالاک ہیں اور آپ کی چالاکی اس حد تک گہری ہو چکی ہے کہ آپ اپنے سامنے بھی سچ بولنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ اصل میں اپنے آپ کو دھوکا دینے سے بندھے رہنے میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے یہ تصویر کا ایک پہلو ہے جب کہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ بندھے رہنے میں کتنی اذیت، تکلیف اور گھٹن ہوتی ہے یہ وہ ہی لوگ جانتے ہیں جنھیں اس قسم کے حالات کا تجربہ رہا ہو کہ ان حالات میں زندگی گزارنا کیسا ہوتا ہے خسارے میں وقت گزارنا کیسا ہوتا ہے خوف میں اور بدگمانیوں میں زندگی گزارنا کیسا ہوتا ہے۔

ڈبلیو بی ییٹس نے کہا تھا کہ ’’لمبے عرصے کی قربانی دل پتھر کر دیتی ہے اور جب سماج میں صرف پتھر باقی رہ جاتے ہیں تو سماج بکھر جاتا ہے۔ یاد رہے ریاستیں بکھرتی ہیں تو دوبارہ بن جاتی ہیں لیکن اگر سماج بکھر جائیں تو ان کا دوبارہ جڑنا ناممکن ہے۔ سماج اور ریاست دو الگ الگ چیزوں کا نام نہیں ہے جب سماج بکھرتا ہے تو ریاست کو بکھرنے سے کوئی روک نہیں سکتا ہے جڑا سماج ہی ریاست کو مضبوط رکھتا ہے۔

کہتے ہیں عقل بادام کھانے سے نہیں بلکہ دھکے کھانے سے آتی ہے نہیں جناب نہیں نہ عقل بادام کھانے سے آتی ہے اور نہ ہی دھکے کھانے سے، اکثر اوقات تو ساری زندگی گزر جاتی ہے لیکن عقل نہیں آتی ہے۔

عقل اس وقت آتی ہے جب آپ اسے آنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن اگر آپ ساری زندگی اکڑے رہیں تو پھر اور بات ہے یا پھر آپ کی عقل کے ساتھ کوئی دشمنی نہ ہو گئی ہو۔ ہمارا شمار ان خوش نصیب لوگوں میں ہوتا ہے جو ایک تو اپنی ساری عمر اکڑ اکڑ کر گزار رہے ہیں تو دوسری یہ کہ ہماری عقل سے پہلے ہی روز دشمنی ہو گئی تھی۔ اکڑ اور دشمنی کا نتیجہ آج ہماری سامنے کھڑا قہقہے لگا رہا ہے اور اگر ہم نے اب بھی اپنی اکڑ اور دشمنی ختم نہ کی تو انجام کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے اور اگر ہم نے اپنے لیے وہ ہی انجام پسند کر رکھا ہے تو پھر آئیں سب کچھ اسی طرح سے جس طرح سے ہو رہا ہے ہونے دیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔