لاہورخودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 72 ہوگئی

ویب ڈیسک  پير 28 مارچ 2016
زخمی ہونے والوں میں خواتین اوربچے بھی شامل ہیں جس میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

زخمی ہونے والوں میں خواتین اوربچے بھی شامل ہیں جس میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

لاہور: گلشن اقبال پارک کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت جاں بحق افراد کی تعداد 72 ہوگئی جب کہ 300 سے زائد افراد اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق گزشتہ روزگلشن اقبال پارک کے گیٹ نمبرایک پر  ہونے والے خودکش حملے میں 29 بچوں اور خواتین سمیت جاں بحق افراد کی تعداد 72 تک جا پہنچی جب کہ 300 سے زائد افراد اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے جناح اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی جب کہ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لئے 10،10 لاکھ، شدید زخمیوں کے لئے 3،3 لاکھ اور معمولی زخمیوں کے لئے ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ روز دھماکے کے بعد لوگوں کے ہاتھ ، پائوں اور ٹانگوں سمیت مختلف اعضا جسموں سے الگ ہوکر زمین پر بکھر گئے،ہر طرف خون ہی خون دکھائی دے رہا تھا ، زخمیوں کی کربناک چیخیں فضا میں گونجتی رہیں، وسیع و عریض پارک میں افراتفری کا عالم تھا ،جاں بحق اور زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ امدادی ٹیموں نے لاشوں اورزخمیوں کو ایمبیولینسوں کے ذریعے جناح ، شیخ زید ،فاروق و دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا، لوگ اپنے پیاروں کو رکشوں میں ڈال کر بھی اسپتال منتقل کرتے رہے، دھماکے کے بعد لاہور کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ،چھٹی کرکے گھروں کو جانے والے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو دوبارہ ڈیوٹی پر بلا لیا گیا۔

فاروق اسپتال میں بستروں کی کمی کے باعث زخمیوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں 50 سے زائد افراد کی لاشیں موجود ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ جناح اسپتال میں چھٹیوں پرگئے ڈاکٹروں کو بھی دوبارہ طلب کرلیا گیا اور انتظامیہ کی جانب سے عوام سے خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے اور شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اسپتال میں جمع نہ ہوں کیوں کہ شدید رش کے باعث امدادی کاموں میں دشواری کا سامنا ہے۔

دوسری جانب دھماکے کے بعد شہر بھرکے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جب کہ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری نے پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنا شروع کردئے۔ ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹرحیدر اشرف کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے گلشن اقبال پارک کے گیٹ نمبر ایک پر خود کو دھماکے سے اڑایا اوردھماکے کی نوعیت انتہائی شدید تھی جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق خود کش حملے میں 5 سے 8 کلو دھماکا خیزمواد اور بال بیرنگ استعمال ہوا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گلشن اقبال پارک کا کنٹرول پاک فوج نے سنبھالتے ہوئے ریسکیو آپریشن شروع کردیا جب کہ ملٹری پولیس کے دستوں نے بھی پارک کو گھیرے میں لے لیا۔

لاہور میں خودکش حملے کی ابتدائی تحقیقات کے دوران پولیس نے جائے وقوعے کے قریب سے سر اور شناختی کارڈ قبضے میں لے لیا جس سے متعلق کہا جارہا ہے کہ یہ شناختی کارڈ اور سر مبینہ خودکش بمبار کا ہوسکتا ہے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن حسن مشتاق سکھیرا کے مطابق تحقیقات کے دوران جائے وقوعہ سے 30 فٹ دوری سے ایک سر ملا ہے جو مبینہ خودکش بمبار کا ہوسکتا ہے جب کہ ایک شناختی کارڈ بھی جائے وقوعہ سے ملا ہے جس پر یوسف نامی شخص کا نام درج ہے اور شناختی کارڈ والے شخص کا جسم 75 فیصد محفوظ رہا ہے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ یوسف نامی شخص سے متعلق تفتیش کر رہے ہیں جو مظفر گڑھ کا رہائشی ہے جب کہ اس حوالے سے مظفر گڑھ پولیس سے رابطے میں ہیں جس نے یوسف کے اہلخانہ سے پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت سیکیورٹی سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے مشیروں نے شرکت کی۔ چار گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والے اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو لاہورخودکش حملے سے متعلق بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سانحہ لاہورپردل خون کے آنسو رو رہا ہے، میرے بچے بچیوں، بہن بھائیوں کو نشانہ بنایا گیا تاہم دہشت گرد اپنا انجام دیکھ کر بزدلانہ کارروائیاں کر رہے ہیں اس لئے بحیثیت قوم ہمیں تمام تفرقات بھلا کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت قومی یکجہتی کا متقاضی ہے، ہرحال میں دہشت گردوں کو شکست دیں گے اور ہرحال میں دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق لاہور کے گلشن اقبال پارک کے قریب خودکش حملے کے بعد  آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرصدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، ڈی جی ایم آئی سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران آرمی چیف کو لاہور دھماکے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سربراہ پاک فوج جنرل راحیل شریف نے ہدایت کی کہ خفیہ ادارے لاہور دھماکے کے ذمہ داروں کا پتہ لگائیں اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جلد از جلد پکڑا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وحشی درندوں کو اپنی زندگی  اور آزادی کا خاتمہ نہیں کرنے دیں گے اور معصوم لوگوں کے قاتلوں کوانصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

صدر ممنون حسین کا دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ بزدلانہ کارروائیوں سے دہشت گردی کے خلاف عزم متذلزل نہیں ہوگا جب کہ وزیراعظم نوازشریف نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے سانحہ گلشن اقبال پارک پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جس کے دوران تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے جب کہ وزیراعلی بلوچستان نواب ثنااللہ زہری اور وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔