بولی وُڈ :علاقائی کلچر کو پردے پر پیش کرنے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے

م ۔ ع  پير 12 نومبر 2012
 ودیا بالن کی ’’ کہانی‘‘ میں بنگالی کلچر چھایا ہوا تھا۔  فوٹو : فائل

ودیا بالن کی ’’ کہانی‘‘ میں بنگالی کلچر چھایا ہوا تھا۔ فوٹو : فائل

 ہندی فلموں میں پنجابی کلچر کو متعدد بار دکھایا جاچکا ہے لیکن اب بولی وڈ کے فلم سازوں میں دیگر علاقائی ثقافتوں کو بھی پردے پر پیش کرنے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔

اب فلموں میں پنجابی منڈوں اور کڑیوں کی جگہ مراٹھی ’مُلگیاں‘ اور پارسی ’ڈکرے‘ لے رہے ہیں۔ علاقائی ثقافت کے نام پر ہندی فلموں میں پنجابی کلچر ہی نظر آتا تھا مگر اب پارسی سے لے کر مراٹھی، گجراتی اور بنگالی کلچر کو بھی ہندی کا تڑکا لگاکر پیش کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ فلم بینوں کا بدلتا ہوا مزاج ہے جو ہندی فلموں میں اپنی مخصوص علاقائی ثقافت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ناظرین کی غیرمعمولی دل چسپی کی وجہ سے یہ فلمیں کاروباری نقطۂ نظر سے بہترین ثابت ہورہی ہیں۔

اس کی ایک مثال ڈائریکٹر سوجے گھوش کی فلم ’’ کہانی‘‘ ہے جس میں ودیا بالن نے مرکزی رول کیا تھا۔ ہندی زبان میں بنائی گئی اس فلم میں بنگالی کلچر چھایا نظر آرہا تھا۔ علاوہ ازیں یہ فلم کولکتہ میں فلمائی گئی تھی۔ ان وجوہ کی بنا پر یہ فلم بنگالی کمیونٹی میں بے حد پسند کی گئی۔ نتیجتاً اس فلم نے 75 کروڑ روپے کمائے۔ یہ آمدنی اس فلم کی تکمیل پر آنے والی لاگت سے تقریباً دس گنا زیادہ تھی۔

اس رجحان کے بارے میں سوجے گھوش کا کہنا ہے،’’فلم بینوں کے بدلتے رجحانات نے ہمیں طرح طرح کے تجربے کرنے کے قابل بنادیا ہے۔ میں چوں کہ خود بنگالی ہوں اس لیے مجھے اپنی تہذیب و ثقافت کا بخوبی علم ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ ہندی فلموں کے دیکھنے علاقائی ثقافتوں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔‘‘

چھوٹے بجٹ کی ایک اور فلم ’’ وکی ڈونر‘‘ کی کام یابی کا راز بھی یہی تھا۔ اس فلم میں پنجابی اور بنگالی کلچر دکھایا گیا تھا۔ باکس آفس پر کسی فلم کی کارکردگی اسے کام یاب یا ناکام ثابت کرتی ہے۔ ڈائریکٹر شوجیت سرکار کی ’’ وکی ڈونر‘‘ پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے، اور اس فلم نے 45کروڑ روپے کماکر اپنے پروڈیوسر کو مالامال کردیا۔ اس طرح یہ رجحان ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور فلم بینوں ، سب کے لیے مفید ہے۔ اس کی وجہ سے فلم بینوں کو اسکرین پر نئی نئی کہانیاں اور نیا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے، ڈائریکٹر بھی نت نئے تجربات کرسکتے ہیں اور فلم سازوں کا بینک بیلینس بڑھ رہا ہے۔

سنجے لیلا بھنسالی وہ ہدایت کار ہیں جو اپنی فلموں میں علاقائی کلچر پیش کرچکے ہیں۔ ’’ ہم دل دے چکے صنم‘‘ میں انھوں نے ہندی فلموں کے ناظرین کو گجراتی برادری کے رہن سہن کی جھلک دکھلائی، پھر ’’ خاموشی‘‘ میں انھوں نے کیتھولک کمیونٹی کے کچھ پہلوؤں سے پردہ اٹھایا۔ رانی مکرجی کے کیریر کی یادگار فلم’’ بلیک‘‘ میں انھوں نے معروف اداکارہ کے پرستاروں کو اینگلو انڈین باشندوں کے شب و روز کی مصروفیات سے آگاہ کیا اور پھر ’’ دیوداس‘‘ میں بنگالی معاشرے کا گہرا رنگ نظر آیا۔ سنجے کی بہن بیلا بھنسالی کی فلم ’’ شیریں فرہاد کی تو نکل پڑی‘‘ کے تمام کردار پارسی کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ اس فلم میں پارسیوںکے رہن سہن، انداز گفتگو، نشست و برخاست اور ان کی زندگی کے دیگر پہلووں کی تفصیلی جھلک نظر آئی۔

ان فلموں کی کام یابی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ایک مخصوص علاقائی ثقافت کے حامل لوگ دوسری ثقافتوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور جب تک یہ تجسس برقرار رہے گا اس نوع کی فلمیں کام یاب ہوتی رہیں گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔