نیب کے پر کاٹنے سے بہتر ہے اسے ختم ہی کردیا جائے(5)

رحمت علی رازی  اتوار 3 اپريل 2016
rehmatraazi@hotmail.com

[email protected]

جب کسی محکمہ میں قانون کی شقیں، دلیلیں، تاویلیں اور توجیہات اپنے مطالب و معانی کھو دیں اور تمام صفائیاں، تمام عرضیاں اور تمام اپیلیں بغیر کسی باعث و موجب کے حیف و آزردگی میں بدل دی جائیں تو لاریب انصاف کا جنازہ اٹھ جاتا ہے‘ اور ناانصافی کی ڈگر پر چلنے پہ مجبور اداروں کی جوگَت ہوتی ہے وہ قومی احتساب بیورو سے زیادہ مختلف نہیں۔

جب فیلڈ میں کام کرنیوالے تفتیشی افسران کی آواز کو چیئرمین نیب تک رسائی نہ ہو اور ان کی قسمت کے فیصلے زیریں افسران کی خوشنودی کیمطابق ہونے لگ جائیں‘ اور اس سے بھی بڑھ کر جب چیئرمین صاحب ماتحت افسروں پر اندھا دھند اعتماد کرتے ہوئے ہر فائل پر آنکھیں بند کر کے دستخط کرنے لگ جائیں تو پھر ایسے جہاندیدہ چیئرمین کو کون بتائے کہ آپ کی جیب میں سب کھوٹے سکے ہیں‘ ان کھوٹے سکوں نے اپنی بے سُری جھنکار سے آپ کو بدمست کر رکھا ہے اور ہمہ وقت ’سب اچھا‘ کی گردان مالا کی طرح جپتے رہتے ہیں‘ ان مصاحبین نے آپ کو ایسا شیشے میں اتارا ہوا ہے کہ آپ وہی دیکھتے ہیں جو وہ آپ کو دکھانا چاہتے ہیں۔

جب اکنامکس کے لیکچرار، بہبودِ آبادی کے افسر اور ا کاؤنٹس کے شمار کنندگان چند سالہ تجربہ کی بنیاد پر نیب میں دَر آئیں اور عالی مرتبت نشستوں پر براجمان ہو جائیں تو ان سے کارکردگی کی بھلا کیا توقع کی جا سکتی ہے، ایسے کم درجہ ماہرین ِمعاشیات اور حساب دان کیا جانیں کہ تفتیش کیا ہوتی ہے؟ اس کا خاصہ کیا ہوتا ہے؟ رِٹ پٹیشن کسے کہتے ہیں اور قانون کس چڑیا کا نام ہے؟ نیب کا المیہ بھی ہمارے دیگر اداروں کی طرح یہی ہے کہ اختیارات کا ارتکاز چند افراد کی مٹھی میں ہے اور جسکا جتنا اختیار ہے وہ اتنا ذمے دار نہیں ہے بلکہ اختیارات کلی طور پر کسی اور کے پاس ہیں جب کہ ذمے دار کوئی اور ہے جو مطلقاً بے بس و لاچار ہے۔

جو جتنا زیادہ ایمانداری کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ مصائب و آلام میں گھرا رہتا ہے اور طاقتور میرٹ کا سہارا لینے والے کام چوروں کے کریڈٹ پر 7 سے 10 سال کی ملازمت میں خوشامدانہ طرزِعمل کے سوا کوئی کامیابی نہیں ہوتی‘ ایسے خوشامدی اور ناکارہ عناصر اگر نیب میں اسٹاف آفیسر، ٹرانسپورٹ آفیسر یا کوآرڈنیشن آفیسر بھرتی ہو جائیں تو تفتیش کے اصل کام کو اپنے لیے شجرِممنوعہ بنا لیتے ہیں۔ نیب کے بگڑے ملزمان جب چاہیں اصول پسند افسروں کو سبق سکھانے کی دھمکیاں اور ان کے خلاف کرپشن کی جھوٹی درخواستیں بھی دیتے رہتے ہیں۔

یہ ملزمان نیب کے وہ افسران ہیں جو ایک تفتیش کیے بغیر لوکل گورنمنٹ جیسے اداروں کی سروس ناجائز طور پر کاؤنٹ کروا کر کلیدی عہدوں پر فروکش ہو جاتے ہیں اور ایماندار تفتیشی افسروں کے کام میں کیڑے نکالتے ہیں‘ پھر ملزمان سے سازباز کر کے اپنے ہی افسران کے خلاف کرپشن کی جھوٹی انکوائریاں لگوا دیتے ہیں۔ بھلا جسکا کام لوکل گورنمنٹ میں سیوریج سسٹم کی دیکھ بھال کرنا تھا وہ پندرہ سال بعد آ کر نیب جیسے اہم ادارے میں گھس جائے اور پوری سروس کے دوران ایک کیس کی تفتیش بھی نہ کرے اور تفتیش کاروں کے کام پر اُلٹی تنقید کرے تو ایسے ادارہ کی کارکردگی کیا خاک ہو گی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اس قماش کے نااہل، بے بہرہ، بے صلاحیت اور بدحواس افسران نیب کی بدنامی کا ٹوکرا بنے ہوئے ہیں‘ اسی نطق و حجت پر سیاسی قزاقوں کو بھی یہ امکان ہاتھ آ گیا ہے کہ وہ نیب کے خلاف اپنی تحت شعوری خواہشات کی کھل کر نشر و اشاعت کرنے لگ پڑے ہیں۔ سیاستدانوں کی یہ دلیل بے سروپا ہے کہ ’’عوام نے ہمیں منتخب کیا ہے‘ عوام ہی 5 سال بعد ہمارا احتساب کرینگے‘ ہمیں اور کسی احتساب کے ادارے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

جس عوام کے سپرپاور ہونے کی بات یہ جغادری کرتے ہیں انہیں نہ تو ان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات تک رسائی حاصل ہے‘ نہ ہی ہاؤسنگ سوسائٹیوں، ڈی ایچ اے ایس یا محکمہ مال کے ریکارڈ تک۔ عوام کو تو ملکی خزانے کے اخراجات اور ان کی آڈٹ کی تفاصیل تک مہیا نہیں کی جاتیں کہ انہیں یہ ہی پتہ چل سکے کہ کس کام کے لیے کتنے پیسے مختص ہوئے اور کتنے ریلیز ہوئے، کتنے صوبائی اے جی آفس سے نکالے گئے‘ کتنے وفاقی اے جی پی آر سے اور کتنے ضلعی ڈی اے او سے، کتنے کا کام ہوا اور کتنے غبن ہو گئے۔ جو سادہ لوح عوام دو وقت کی روٹی پوری کرنے اور بیماریاں بھگتنے کے گھن چکر ہی سے باہر نہیں نکل سکتے اور جو اس بات سے بھی مفقود الخبر ہیں کہ بینکنگ چینل سے کتنی رقوم بیرون ملک منتقل ہو گئیں‘ وہ سیاستدانوں کا احتساب بھلا کیونکر کرینگے۔

پاکستانی عوام کے اب تک ناخواندہ رہنے کا اصل سبب بھی یہی ہے کہ سیاستدان نہیں چاہتے کہ وہ پڑھ لکھ کر ان کے گریبان تک پہنچیں۔ انتخابات میں جس طرح ٹھپے لگتے ہیں اور دھاندلی ہوتی ہے‘ عوام ووٹ نہ بھی ڈالیں تو ڈبوں سے نکل آتے ہیں۔ بارہا ایسے دھڑا دھڑ ٹھپے لگنے کی ویڈیو زبھی میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئیں لیکن اس نقار خانے میں چلّانے والوں کی سنتا کون ہے۔ اسی وجہ سے مسندِ اقتدار سے باہر بیٹھی اندازاً سب پارٹیوں نے الیکشن کمیشن کے بخیے ادھیڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی‘ اب نیب کے معاملہ میں بااقتدار طبقہ بھی حزبِ اختلاف سے کسی طور پیچھے نہیں۔

وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے نیب کے خلاف تنقیدی اور تند و تیز بیانات دینا صراحتاً نامناسب ہے کہ ایک تو وہ خود پبلک آفس ہولڈرز ہیں اور نیب اور چیئرمین نیب کے ممکنہ ملزم ہو سکتے ہیں‘ جیسا کہ سابقہ دور ِحکومت میں راجہ پرویز اشرف بیک وقت نیب ملزم بھی تھے اور وزیراعظم بھی۔ آصف علی زرداری بھی صدرِ پاکستان اور نیب ملزم دونوں تھے۔ سپریم کورٹ میں دائر شدہ آئینی رِٹ پیٹیشن نمبری 61-2010 (شاہد اورکزئی، چوہدری نثار بنام سید دیدار حسین شاہ چیئرمین نیب) اور رٹ پٹیشن نمبری 73/2011 (چوہدری نثار بنام سید فصیح بخاری چیئرمین نیب) میں معزز سپریم کورٹ نے واضح طور پر طور فرما دیا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی اس لیے بہت اہم ہے اور اس لیے عین میرٹ پر ہونی چاہیے کہ چیئرمین نیب کا عہدہ وہ عہدہ ہے جو موجودہ وزیراعظم کو بھی گرفتار کر سکتا ہے۔

ان دونوں مقدمات کے مدعی چونکہ نواز حکومت کے موجودہ وزیر داخلہ ہیں‘ سو وزیراعظم کو چیئرمین نیب کی آئینی حیثیت اور اختیارات کی بابت ان سے دریافت کر لینا چاہیے تا کہ حقیقت سے آگاہ ہو سکیں۔ یہ اَمر انتہائی غور طلب ہے کہ وزیراعظم چیئرمین نیب کو گرفتار نہیں کر سکتے تاہم چیئرمین نیب، نیب قانون اور سپریم کورٹ کے دو فیصلوں کی روشنی میں موجودہ وزیراعظم کو بھی گرفتار کر سکتے ہیں‘ لہٰذا وقت یہ تقاضا کرتا ہے کہ شریف برادران اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ وہ چیئرمین نیب کے اُمور میں مداخلت کرینگے نہ ہی لب کشائی بلکہ انکو آزادی سے کام کرنے دینگے۔

ہاں انہیں اگر کوئی شکایت ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نیب کا حالیہ نظام بدنیتی پر مبنی ہے تو انکو چاہیے کہ عدالتوں سے رجوع کر کے اسے کالعدم قرار دلوائیں نہ کہ میڈیا کے سامنے آ کر نیب کو ڈراتے دھمکاتے رہیں‘ وگرنہ بقول اعتزاز احسن ان کے خلاف حلف سے رُوگردانی کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ چیئرمین نیب وزیراعظم کے تابع نہیں ہوتا بدیں وجہ وزیراعظم چیئرمین یا کسی بھی دیگر افسر کو گرفتار کرنے، چالان کرنے یا بیگناہ کرنے کی ہدایات جاری نہیں کر سکتا کیونکہ وہ خود کسی بھی وقت چیئرمین نیب کا ملزم ہو سکتا ہے۔ نیب کے تفتیشی نظام کے اندر چند بنیادی نقائص کی موجودگی، کچھ نکمّے عملہ اور بدعنوان افسروں کے باوجود نیب کے تفتیشی افسران کی اکثریت دیانتدار اور غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل ہے۔

اس وقت راجہ پرویز اشرف وزیراعظم ہونے کے ساتھ ساتھ نیب کے بڑے ملزم بھی تھے‘ نیب کے اس وقت کے چیئرمین فصیح بخاری فرض شناسی کا مظاہرہ نہیں کر رہے تھے اور اپنے کار ِخاص کوثر اقبال ملک کے ذریعے شہید کامران فیصل پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ اسٹامپ پیپرز پر پرانی تاریخوں میں جھوٹا بیانِ حلفی لکھ کر دو کہ میری ذہنی حالت دباؤ میں ہے اس لیے میں یہ تفتیش نہیں کر سکتا۔ جب کامران فیصل نے موبائل پیغام کے ذریعے اپنے ساتھی شہزاد (اسسٹنٹ ڈائریکٹر) کو آگاہ کیا تو اس نے جوابی میسج میں لکھا کہ ایسا بالکل نہ کرنا اور اپنے ہاتھ کاٹ کر مت دینا‘ اور ہو سکے تو بھاگ آؤ۔

اس میسج کا یہ ریکارڈ سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں بھی لف ہے۔ اُصول پسند کامران فیصل نے ایسے ہی کیا اور کوثر اقبال ملک کے کمرے سے بھاگ آیا لیکن اگلی ہی صبح اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ وقت کے فرعونوں نے خودکشی کا ڈرامہ تو خوب رچایا لیکن وہ یہ بھول گئے کہ پھندے پر جھولنے والے کے پاؤں اسٹول پر نہیں بلکہ ہوا میں لٹکے ہوتے ہیں‘ اسٹول گرا ہوتا ہے‘ گلے کی مرکزی ہڈی ٹوٹی ہوتی ہے‘ آنکھیں باہر کو نکل آتی ہیں اور کمر پر تشدد کے نشانات بھی نہیں ہوتے، لیکن کامران کے کیس میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا بلکہ سب کچھ اس کے برعکس تھا‘ اس کے باوجود پوسٹ مارٹم بورڈ تبدیل کر کے من مرضی کی رپورٹ لکھوا دی گئی کہ متوفی نے خودکشی کی ہے۔

میڈیکل کی تاریخ میں ایسا پہلی دفعہ ہوا کہ ڈاکٹروں نے موت کی وجہ لکھنے کے بجائے یہ لکھا کہ خودکشی کی ہے‘ حالانکہ وہ صرف یہ لکھ سکتے تھے کہ موت رَسی سے گلا گھٹنے کیوجہ سے ہوئی۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ رَسی کامران فیصل نے خود لٹکائی یا کسی نے پکڑ کر کامران کو لٹکایا۔ بعدازاں کامران فیصل کا سگا چچا جس کی اولاد نہیں ہے، امریکا سے پاکستان آیا اور انصاف حاصل کرنے کے لیے اپنے بھتیجے کی قبر کشائی کروائی جو کہ عدالتی احکامات حاصل کرنے کے بعد قانون کے مطابق کی گئی۔

شہید کامران فیصل کے جسدِ خاکی سے نمونہ جات لے لیے گئے اور پھر ایشیا کی جدید ترین فرانزک لیبارٹری لاہور بھیج دیے گئے جہاں پر ماہرین نے سائنسی بنیادوں پر جب رپورٹ مرتب کر کے جاری کی تو رپورٹ جائزے کے مطابق وہ رسی جس سے مقتول کو لٹکایا گیا تھا اس پر ایک سے زائد دیگر افراد کے ہاتھوں کے نشانات تھے‘ جسم کے عقبی حصے میں بھی بھینچ کر دبانے کے نشانات تھے۔ رپورٹ نے یہ بھی بتایا کہ گلے کی مرکزی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی نہ تھی، جیسا کہ پھندہ لے کر خودکشی کرنیوالوں کی ہوتی ہے‘ المختصر اس رپورٹ سے واضح ہوتا تھا کہ یہ خودکشی نہیں ہے۔

ہوا یہ کہ جس دن رپورٹ جاری ہوئی کامران فیصل کے مدعی والد کے وکیل آفتاب باجوہ نے ایک چینل پر انٹرویو دیدیا جس میں یہ حقائق بیان کر دیے‘ اس سے ملک کے کرپٹ عناصر میں ایک بھونچال آ گیا‘ جسکا انجامِ کار یہ ہوا کہ اگلے ہی روز رپورٹ جاری کرنیوالے مین فرانزک ماہر حیرت انگیز طور پر مردہ پائے گئے‘ اس طرح رپورٹ کے خالق، جنھوں نے اس رپورٹ کو عدالت عظمیٰ میںپیش کرنا تھا، ان کی اپنی رپورٹ موت کی عدالت میں پیش ہو گئی۔ ان چشم کشا اور ورطہ حیرت میں ڈال دینے والے حقائق کے باوجود کامران فیصل قتل کیس آج بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔

سپریم کورٹ اس اہم کیس کی سماعت کی تاریخ متعین کیوں نہیں کرتی‘ اور اس میں کیا مصلحت کارفرما ہے‘ یہ خدا ہی جانے! شہید کی جوان بیوہ اپنی تین بیٹیوں کو لے کر آج بھی اپنے بھائی کے گھر کوئٹہ میں پناہ گزین ہے‘ جانے کب سپریم کورٹ اس کے اصول پسند اور ایماندار شوہر کی موت کو خودکشی کے بجائے قتل قرار دے اور وہ اپنی بیٹیوں کے روزمرہ کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے اپنے شوہر کے واجبات حاصل کر سکے۔ ویسے بھی چیئرمین نیب کو کسی شہید سے، اس کی بیوہ سے یا اس کی معصوم یتیم بیٹیوں سے کیا لینا دینا‘ ان کی تو گریڈ 22 کی پنشن بھی آتی ہے‘ چیئرمین نیب کی خطیر تنخواہ بھی اس لیے انکو کیا معلوم بھوک اور محرومیوں کا دُکھ کیا ہوتا ہے۔

اس ضمن میں چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی ذاتی توجہ کی بنیاد پر کامران فیصل کے زیر التوا کیس کا فیصلہ صادر فرما کر بے آبرو ہوتے انصاف کی لاج ہی رکھ لیں‘ شاید یہ فیصلہ ان کی زندگی کے تمام فیصلوں کے مقابلے میں ان کی سرخروئی کا باعث بن جائے اور شاید ان کا یہ فیصلہ اپنے حق میں فیصلے لکھوانے والے فرعونوں کے لیے نقشِ عبرت ہی ثابت ہو۔ اس خودکشی نما قتل کی وجہ سے بالعموم نیب کے تفتیشی افسران کا مورال گر گیا ہے اور ان میں سے اکثر کہتے ہیں: ’’دوست! تنخواہ زندوں کو ملتی ہے شہیدوں کو نہیں۔ کامران فیصل اور اس کے لواحقین سے عبرت پکڑو‘ اپنے اپنے بچوں کا خیال کرو‘ اس ملک میں کچھ نہیں ہونے والا، کرپشن بھی بھلا کبھی ختم ہوئی ہے کیا؟

اس ملک نے ایسے ہی چلنا ہے‘ بس گول گول کام کرو‘ کونسا کسی نے تمغۂ امتیاز دے دینا ہے‘‘۔ یقینا، مطلقاً اور واقعتا یہی وجوہ ہیں کہ نیب کے اکثر افسران اب انڈر پرفارم کرتے ہیں۔ آج کوئی کامران فیصل بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا ‘ وہ کامران فیصل، جو اپنے راستے میں آنیوالے خطرات سے پوری طرح آگاہ تھے لیکن ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔ انھوں نے اپنی رپورٹ کے مندرجات تبدیل کیے‘ نہ ہی کوثر اقبال ملک کے دباؤ میں آ کر اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دیا کہ میری ذہنی کیفیت تناؤ کا شکار ہے۔ یہ بات ملک کے معدودے چند افراد ہی کو معلوم ہو گی کہ کامران فیصل پورے پاکستان میں 14 ایسے افسران میں سے ایک تھے جو اوپن میرٹ پر ایف آئی اے میں ڈائریکٹ اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی منتخب ہو گئے تھے لیکن وہاں سے واپس نیب میں آ گئے تھے۔

ان کا تین سال تک استحقاق ایف آئی اے میں بھی تھا‘ اگر ان پر نیب میں کوئی ذہنی دباؤ تھا تو وہ بڑے آرام اور سہولت کے ساتھ ایف آئی اے میں جا کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی سیٹ پر بیٹھ سکتے تھے۔ ایف آئی اے کا محکمہ نیب کے مقابلے میں زیادہ بااثر اور رعب و دبدبے والا سمجھا جاتا ہے۔ کامران فیصل کا کیس واضح طور پر مشکوک اس لیے ہے کہ نیب کے اعلیٰ سطح  کے  افسران نے ابتدائی رپورٹیں آنے سے پہلے ہی خودکشی کی گردان الاپنا شروع کر دی اور تمام ٹی وی چینلز پر بھی خودکشی کی خبریں چلوا دیں۔

کامران فیصل کا لیپ ٹاپ بھی غائب پایا گیا جو بینظیر کے بلیک بیری کی طرح آج تک نہیں ملا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ حکومت نے وقوعہ کی جیوفینسنگ تک نہیں کروائی‘ وگرنہ ان ہزاروں ٹیلیفون کالوں میں سے جو اس علاقہ کے ٹاوروں سے کی گئی تھیں، ان مشکوک ٹیلیفون کالز کو علیحدہ کیا جا سکتا تھا جو کوثر اقبال ملک، فصیح بخاری وغیرہ کے کارہائے خاص کو کی گئی تھیں۔ جیوفینسنگ کی وجہ سے قاتل بڑی آسانی سے ٹریس ہو سکتے تھے۔ ویسے بھی اگر قتل کی ایف آئی آر کاٹنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں سے بنیادی تفتیش کر لی جاتی اور اس ملازم سے بھی تفتیش ہو جاتی (جسے پرانی تاریخوں میں اسٹامپ پیپر لینے کے لیے بھیجا گیا تھا) تو بڑے آرام سے قاتلوں کا سراغ لگایا جا سکتا تھا۔

کامران فیصل کے شہید ہونے میں ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے پریشر کا بھی بڑا ہاتھ ہے جس کی وجہ سے کامران فیصل کو طاقتور گروپ کی جانب سے شہید کروانا پڑ گیا۔ 15 جنوری کو طاہرالقادری نے دھرنا دیا‘ 16 جنوری کو سپریم کورٹ نے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا اور 17 جنوری کو کامران فیصل کی موت ہو گئی‘ اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مرنیوالے کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ بھلا بندھے ہوئے ہاتھوں سے کون خود کو پھندے پر لٹکاکر خودکشی کر سکتا ہے؟ بہرحال! حالات خواہ کیسے بھی ہوں‘ کچھ افسران ایسے ہوتے ہیں جو نصیب، رزق، زندگی، موت اور یومِ حساب پر غیرمتزلزل یقین رکھتے ہیں‘ نوکری یا زندگی موت کی پروا نہیں کرتے اور فرض کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیتے۔

ایڈمرل فصیح بخاری کے چیئرمین شپ کے دور میں نیب کے ایک نڈر افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر محسن علی نے بے پناہ دباؤ کے باوجود اس دور کے حاضر منصب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے حق میں ناجائز رپورٹ لکھنے سے انکار کر دیا تھا اور انکو اپنی تفتیشی رپورٹ میں گنہگار ٹھہرا دیا تھا‘ تاہم چیئرمین نے اپنا خصوصی اختیار استعمال میں لاتے ہوئے اختلافی نوٹ لکھ کر تفتیشی کی رائے سے نااتفاقی ظاہر کی اور ریفرنس میں درج راجہ پرویز اشرف کا نام ملزمان کی فہرست میں سے نکال دیا  تھا۔ اسی طرح نیب کے ایک اور آفیسر وقاص احمد خان (اسسٹنٹ ڈائریکٹر) بھی‘ جو اب ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔

پولیس سروس کے ایک طاقتور آفیسر ایس پی منصور الحق کی کرپشن کے خلاف ڈٹ گئے تھے جسکے چہیتے ایس پی موصوف نے ان پر غیر اخلاقی سرگرمیوں کی گیارہ جھوٹی ایف آئی آر درج کروا دیں۔ دراصل اس ایس پی کو اپنے ایک عزیز ڈی جی نیب کی حمایت حاصل تھی جن کے ذریعے انھوں نے اپنی کرپشن کے ثمرات کو اپنے والد کی کرپشن ظاہر کروا دیا اور اس رقم کو نیب کے ذریعے قومی خزانے میں جمع کروا کر اپنی نوکری بحال کروا لی۔ وقاص احمد خان اوگرا سکینڈل کے طاقتور ملزمان کے خلاف بھی اصولوں پر ڈٹ گئے۔

توقیر صادق جیسے مفرور ملزم کو بیرونِ ملک سے ایس پی رانا شاہد کی معیت میں ٹریس کیا اورگرفتار کر کے پاکستان واپس لائے۔ اس وقت کی حکومت کے بااثر سینیٹر اور نیب میں موجود حکومت کے ایجنٹ ڈی جی صاحبان سے بھی وقاص خان نے اس طرح سے مخاصمت مول لی کہ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کو بھی یہ کہنا پڑ گیا کہ دیکھو! کس طرح ایک پتلا سا نوجوان افسر اُصولوں پر پورے سسٹم کے خلاف ڈٹ گیا ہے۔ وقاص خان نے عدالت ِعظمیٰ میں اپنے چیئرمین اور ڈی جی آپریشنز کے خلاف بھی حلفیہ بیان جمع کروایا تھا کہ کس طرح توقیر صادق جیسے خوفناک ملزم کو انھوں نے گرفتار نہیں ہونے دیا اور کس طرح اس کے وارنٹ گرفتاری پھاڑ دیے تھے۔

نیب میں اہل، فرض شناس، ایماندار اور بیباک افسران کی چنداں کمی نہیں ہے جن کی موجودگی میں نیب کا مستقبل بلاشبہ تابناک ہے‘ لیکن بعض نااہل افسروں نے نیب کو داغدار کر دیا ہے اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں‘ اس کے لیے بہت سے کالم درکار ہیں لیکن ایک ایسی مثال دی جا سکتی ہے کہ ہمارے بہت ہی سینئر ساتھی مشرق لاہور اور کوئٹہ کے چیف ایڈیٹر سید ممتاز شاہ نے ہماری توجہ نیب کوئٹہ کی ’’مثالی کارکردگی‘‘ کی جانب مبذول کرائی جو کہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ شرمناک بھی ہے اور اس سے ہی اندازہ کریں کہ نیب کے بعض ریجنل دفاتر میں نااہل اور بری شہرت کے حامل افسران اپنی غربت مٹانے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کر کے شریف اور معزز شہریوں کو پریشان کر رہے ہیں‘ نیب کے چیئرمین نہ جانے کیوں ایسے سنگین واقعات کو نظرانداز کر رہے ہیں‘ اے پی این ایس نے بھی اس واقعہ کا سخت نوٹس لیا ہے۔

سید ممتاز شاہ نے ہمیں اپنے خلاف نیب کے مقدمے کی مضحکہ خیز تفصیل بتائی کہ ہم نے سال 1998ء میں ایوننگ اسپیشل کوئٹہ کا ڈیکلریشن حاصل کیا تھا اور بعدازاں ایک معاہدے کے تحت ڈیکلریشن سال 2011ء میں روح اللہ خلجی نامی شخص کو فروخت کر دیا تھا اور اس کے حق میں ٹرانسفر کر دیا اور اس طرح ایوننگ اسپیشل کے ڈیکلریشن سے لاتعلق ہو گئے‘ اس سلسلے میں تمام ضروری دستاویزات ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے دفتر میں جمع کرا دی گئیں‘ اس کے بعد روح اللہ خلجی اخبار کا پبلشر اور پرنٹر بن گیا‘ 2014ء میں ڈائریکٹر تعلقات عامہ سے اشتہارات کی غیرقانونی تقسیم کے خلاف نیب نے تحقیقات شروع کیں جس میں ایوننگ اسپیشل کو بھی شامل کیا گیا۔

ہمیں نیب کا نوٹس موصول ہوا اور ہم نے تحریری طور پر نیب کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیراز فاروق کو آگاہ کیا کہ ہمارا ایوننگ اسپیشل سے کوئی تعلق نہ ہے اور نہ ہی ہمارا اس نام سے کوئی بینک اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی ہمیں ڈائریکٹر تعلقات عامہ سے کوئی چیک موصول ہوا ہے‘ تاہم متذکرہ افسر نے تمام دستاویزات کو نظرانداز کر کے ہماری تمام تر وضاحتوں کے باوجود ہمیں مقدمہ میں نامزد کر کے چالان احتساب عدالت میں پیش کر دیا‘ نیب کو بھیجے گئے دستاویزی ثبوت اور ڈی سی او آفس کا ریکارڈ بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔

چیئرمین نیب کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہیے تھا اور اسے ٹیسٹ کیس بنا کر نیب کی ساکھ تباہ کرنیوالے ایسے افسران کو عبرتناک سزا دینی چاہیے۔ اسی طرح مجاہد اکبر بلوچ نامی افسربھی اپنی نوعیت کی واحد مثال ہے جس نے جب نیب میں اپلائی کیا تھا تو ایڈیشنل ڈائریکٹر انویسٹی گیشن نیب کی پوسٹ کے لیے 12 سال کا مطلوبہ تفتیش یا پراسیکیوشن لاء کا تجربہ درکار تھا جب کہ ان کے پاس ایک سال کا بھی نہیں تھا۔ چلو کوئی بات نہیں، موصوف اگر بغیر تجربہ کے ناجائز طور پر ڈائریکٹ گریڈ 19 میں بھرتی ہو بھی گئے تو نیب میں آ کر کچھ کیسزکی اپنے ہاتھ سے تفتیش ہی کر لیتے‘ تفتیش نہیں کر سکے توکم از کم کیسز کی تفتیش کو بطور کیس آفیسر سپروائز ہی کر لیتے، لیکن جناب نے ایسا کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔

ہاں تفتیشی آفیسر ثاقب فاروق (اے ڈی) پر ناجائز طور پر ہونے والی انکوائری کا بطور مجاز افسر حصہ ضرور بن گئے اور فرمایا: تمہارے خلاف کوئی ثبوت تو نہیں ہے‘ ویسے بھی احتساب عدالت میں تمہارا 7 سال سے ٹرائل چل رہا ہے‘ کورٹ تمہارے خلاف جرم تو ثابت نہیں کر سکی لیکن ہمیں نیب کے افسر کو نوکری سے نکالنے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے‘ اور مجھے یہ بھی بتاؤ کہ تم نے 265 ضابطہ فوجداری کی درخواست کیوں نہیں فائل کی۔ ثاقب فاروق نے کہا آپ کی پراسیکیوشن بھی تو سات سال سے مجھے گنہگار ثابت نہیں کر سکی‘ اگر میں قصور وار ہوتا تو مجھے سزا بھی ہو چکی ہوتی۔

اس پر مسٹر بلوچ نے فرمایا : ہم آپ کو نوکری سے نکال رہے ہیں‘ ہمیں آپ کے بچوں کی کوئی پروا نہیں۔ پھر موصوف نے بغیر ثبوت کے ثاقب فاروق کو نوکری سے برخاست کر دیا اور ساتھ یہ ظلم بھی کیا کہ چیئرمین نیب شاہد عزیز نے اسکو معطل رکھنے کا جو حکم دیا تھا، اسے بھی پچھلی تواریخ سے کینسل کر کے اسکو 4.1 ملین روپے کی ناجائز ریکوری بھی ڈال دی۔ خدا کی قدرت ہے! جس مجاہد اکبر بلوچ نے اپنی پوری سروس میں ایک تفتیش بھی نہیں کی‘ وہ تفتیش کاروں کی قسمت کے فیصلے کر رہا ہے۔ نیب پالیسی کے تحت بطور ڈائریکٹر ہر دو سال بعد اسے اپنا پوسٹنگ اسٹیشن بدلنا تھا لیکن وہ 12 سال سے ایک ہی جگہ پر مزے لوٹ رہا ہے اور ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی کے میرٹ کی دل کھول کر دھجیاں بکھیر رہا ہے۔

یوں لگتا ہے کہ یہ صاحب چیئرمین نیب سے بھی طاقتور اور بااختیار ہے یا پھر وہ حکمرانوں کا کوئی ماہر درباری ہے جو ان کی مدح سرائی کر کے کوئی بڑی پرچی لے کر آ جاتا ہے۔ جنابِ چیئرمین کے علم میں یہ بات اب تک کیوں نہ آ سکی کہ جو لوگ 10 سال سے زائد عرصہ سے ایک ہی جگہ پر گھسے ہوئے ہیں وہ میرٹ کے منہ پر طمانچہ ہیں‘ اور ایسے تھانیداری ذہنیت کے لوگوں کیوجہ سے حکمران نیب کے ادارے کو پولیس سے بھی گیا گزرا محکمہ بنانے پر تل گئے ہیں۔

نیب کا ادارہ ملک و قوم کے لیے جتنا اہم ہے اس کا نظام بھی اتنا ہی ٹھوس اور قابلِ عمل ہونا چاہیے، ایک ایسا خودکار نظام جو اپنے مروجہ اصولوں کے مطابق ازخود چلتا رہے۔ افسران کے آنے جانے سے اس کے ڈھانچے پر کوئی فرق نہ پڑے اور اس میں ایسے رواں دواں نظام کا چلن ہو جس میں انٹرنل کنٹرول اور چیک اینڈ بیلنس اسقدر مضبوط ہوں کہ اس کے آگے چند افسران کی اجارہ داری بے معنی ہو کر رہ جائے۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔