کراچی: رینجرز اور پولیس بڑھانے اور فوج الرٹ رکھنے کا فیصلہ

اسٹاف رپورٹر  منگل 13 نومبر 2012
امن و امان کی صورتحال پر اجلاس،شہر میں انتہاپسندوں کی موجودگی و محرم پر سیکیورٹی کا جائزہ. فوٹو: فائل

امن و امان کی صورتحال پر اجلاس،شہر میں انتہاپسندوں کی موجودگی و محرم پر سیکیورٹی کا جائزہ. فوٹو: فائل

کراچی: سندھ حکومت نے شہر میں بڑھتی ہوئے خونریزی کے تناظر میں رینجرز اور پولیس کی نفری میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فوج کو الرٹ رہنے کی بھی ہدایت کی جائے گی تاکہ محرم الحرام میں کراچی ، خیرپور ، گمبٹ ، ٹھیڑی اور رانی پور سمیت دیگر اضلاع میں ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر فوج جلد صورت حال کو کنٹرول کرسکے۔

ذرائع کے مطابق مختلف حساس اداروں نے حکومت کو آگہی دی ہے کہ موجودہ خونریزی ایک منصوبے کے تحت کرائی جا رہی ہے تاکہ محرم الحرام کے موقع پر اسے ہوا دی جاسکے اور مذہبی اجتماعات میں میںگڑبڑ پیدا ہوسکے۔ اس رپورٹ کے تناظر میں حکومت نے پیشگی اقدامات لینا شروع کردیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیر کو اس ضمن میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں فوجی و سول حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی میں امن و امان کی صورت حال ، شہر کے نواحی علاقوں میں انتہا پسندوں کی آباد کاری اور محرم الحرام کے حوالے سے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر کیے جانے والے خود کش حملے، مختلف عمارتوں اور تنصیاب کو ممکنہ ٹارگٹ بنانے کے علاوہ مذہبی اجتماعات میں بم دھماکوں کی اطلاعات کے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں فوج کے حکام نے سول حکام کو بتایا کہ یکم محرم سے 10 محرم تک فوج ممکنہ طور پر ہر وقت الرٹ ہوگی اور متعلقہ انتظامیہ کی درخواست پر فوری طور پر سڑکوں کا کنٹرول سنھبال لے گی۔ اس ضمن میں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور پولیس حکام کی جانب سے قرار دیے گئے حساس علاقوں میں انتظامات کے طریقۂ کار کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ محرم الحرام کے دوران رینجرز اور پولیس کے مشترکہ گشت کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔