شائقین کیلئے خوشخبری؛ بھارت مقامی اسپانسر کی شرط واپس لینے پر تیار

اسپورٹس ڈیسک  بدھ 14 نومبر 2012
آئندہ ماہ کرکٹ سیریز کے دوران 2 ہزارسے زائد افراد کے سرحد پار جانے کی توقع۔   فوٹو: فائل

آئندہ ماہ کرکٹ سیریز کے دوران 2 ہزارسے زائد افراد کے سرحد پار جانے کی توقع۔ فوٹو: فائل

کراچی / نئی دہلی: پاکستانی شائقین کی سہولت کیلیے بھارت مقامی اسپانسر کی شرط واپس لینے کو تیار ہوگیا۔

میچ اور ریٹرن سفری ٹکٹوں کی نقول کے ہمراہ موصول ہونے والی ویزا درخواستوں کو منظور کیا جاسکتا ہے، ویزوں کی تعداد میں بھی اضافے کا امکان ہے، 2 ہزار سے زائد لوگوں کے سرحد پار جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، دونوں ممالک کے درمیان نئے ویزا سمجھوتے پر عملدرآمد نہ بھی ہوا تو پاکستانیوں کو صرف سیریز کیلیے خصوصی طور پر 5 میزبان شہروں کے سفر کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب سابق فاسٹ بولر وسیم اکرم نے یقین ظاہر کیاکہ گرین شرٹس کا دورئہ بھارت محفوظ اور کامیاب رہے گا، ان کا کہنا ہے کہ ہم پہلے بھی دھمکیوں کے باوجود بھارتی سرزمین پر کھیل چکے۔

پاکستانی ٹیم نے ذہن پرشکست کا خوف سوار کیا تو جیتنا دشوار ہوجائے گا، بیٹسمین چل پڑے تو کامیابی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی حکومت نے پاکستانی شائقین کرکٹ کو ویزوں کیلیے مقامی اسپانسر کی شرط پر شدید اعتراضات کے بعد اس میں نرمی پر غور شروع کردیا ہے،ایسی ویزا درخواستوں کو منظور کیا جائیگا جن کے ساتھ میچز اور سفری ریٹرن ٹکٹوں کی نقول منسلک ہوںگی، حکام پہلے دہلی کیلیے 500 جبکہ دیگر شہروں کیلیے 100، 100 ویزے جاری کرنے کا سوچ رہے تھے تاہم اسلام آباد سے 2000 شائقین کے ٹکٹ حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا جسکے بعد ویزوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

وزارت داخلہ نے پہلے تجویز پیش کی تھی کہ 25 دسمبر سے 6 جنوری تک شیڈول سیریز کیلیے پاکستان سے آنے والے شائقین کی واپسی یقینی بنانے کیلیے بھارتی اسپانسر کی شرط عائد کی جائے مگراس فیصلے پر کافی اعتراضات سامنے آئے، خود وزارت داخلہ کو اپنی ایجنسیوں اور اسلام آباد سے یہ ردعمل ملا کہ یہ شرط ان حقیقی کرکٹ شائقین کیلیے مناسب نہیں جو بھارتی اسپانسر حاصل نہیں کرسکتے، اس لیے اب وزارت نے اس بارے میں نرمی برتنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی اخبار کے مطابق ایک سینئر انٹیلی جنس آفیشل کا کہنا ہے کہ ہر ویزا درخواست گزار کیلیے سپانسر کی شرط ان عام پاکستانی شہریوں کیلیے انتہائی کڑی ہے جن کے بھارت میں رابطے نہیں اور وہ خود اسٹیڈیمز میں سنسنی خیز میچز سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں، گذشتہ روز وزارت داخلہ کے آفیشلز کی ایک میٹنگ میں بھی اس معاملے کا جائزہ لیا گیا۔

جس میں فیصلہ کیا گیا اب ایسی ویزا درخواست کو منظور کیا جائیگا جن کیساتھ شائقین میچ ٹکٹ کے ساتھ اپنی وطن واپسی کے ٹکٹ بھی لگائیں گے تاکہ ایجنسیز کو یہ دیکھنے میں آسانی ہو کہ پاکستان سے آنے والے شائقین مقررہ وقت پر واپس لوٹے بھی ہیں یا نہیں۔ بھارتی اتھارٹیز کو دہلی کے میچ کیلیے زیادہ سے زیادہ درخواستوں کی توقع ہے کیونکہ یہ شہر پاکستان سے قریب اور وہاں سے ریل اور بس کے ذریعے بھی آسانی سے آیا جاسکتا ہے، اس کے ساتھ پاکستانی شائقین کو دیگر وینیوز بنگلور، چنئی، احمد آباد اور کولکتہ کے سفر کی بھی اجازت ہوگی۔ آفیشل کا کہنا ہے کہ اگر سیریز سے قبل بھارت اور پاکستان میں ویزوں میں نرمی سے متعلق سمجھوتے کا نفاذ نہ بھی ہوا تب بھی اس مختصر سیریز کیلیے تمام پانچ وینیوز کے لیے خصوصی ویزا انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔

دریں اثنا سابق پاکستانی کپتان وسیم اکرم بھی شدت سے روایتی حریفوں کے درمیان مقابلوں کے منتظر ہیں، ایک غیرملکی خبررساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں اس دورے کا مزید انتظار نہیں کرسکتا، مجھے پورا یقین ہے کہ بھارتی حکومت اس ٹور کو محفوظ اور کامیاب بنائے گی کیونکہ پوری دنیا ان مقابلوں کی منتظر ہے، ہم نے بھی ماضی میں دھمکیوں کے باوجود بھارت کا دورہ کیا تھا، ہمیں اس وقت بھارتی سیکیورٹی پر پورا اعتماد تھا، وہ ٹور کامیاب رہا اور مجھے امید ہے کہ یہ دورہ بھی محفوظ ثابت ہوگا، پورا بھارت اس سیریز میں دلچسپی لے رہا ہے، ان میچز کے دوران اسٹیڈیمز میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوگی۔

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ روایتی حریف سے مقابلوں میں پاکستانی ٹیم کیلیے دبائو سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے،اگر پلیئرز شکست کے خوف کا شکار ہوگئے تب پھر ان کیلیے جیتنا آسان نہیں ہوگا، میرے خیال میں اگر بیٹنگ کلک کر گئی تو گرین شرٹس بھارت کو اس کے اپنے میدانوں میں زیر کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔