محرم الحرام کے حوالے سے سیکیورٹی پلان تیار،344 مقامات حساس قرار

اسٹاف رپورٹر  بدھ 14 نومبر 2012
21ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہونگے، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے فوج کو ہائی الرٹ رکھا جائے گا  فوٹو: فائل

21ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہونگے، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے فوج کو ہائی الرٹ رکھا جائے گا فوٹو: فائل

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے محرم الحرام کے حوالے سے سیکیورٹی پلان اور ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دے دی ہے۔

سیکیورٹی پلان کے مطابق محرم الحرام کے دوران کراچی میں21ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے، کراچی اور خیرپور کو انتہائی حساس شہر قراردیا گیا ہے، کراچی میں 344 مقامات کو حساس قرار دیا گیا ہے جس میں ضلع غربی میں 169 حساس مقامات شامل ہیں،کراچی میں سیکیورٹی پلان3زونز پر مشتمل ہوگا، یکم محرم کو پولیس اور رینجرز حساس مقامات پر فلیگ مارچ کریں گے، سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مجالس اور جلوسوں کی نگرانی بھی کی جائے گی، شہر میں محرم کے دوران 1045جلوس نکالے جائیں گے اور6208مجالس منعقد ہوں گی۔

کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کو ہائی الرٹ رکھا جائے گا، صوبے بھر میں یکم سے دس محر م تک لائنس یافتہ اسلحہ ساتھ لیکر چلنے پربھی پابندی ہوگی، ذرائع کے مطابق یکم سے دس محرم تک کراچی، حیدرآباد اور خیرپور میں ہائی الرٹ رہے گا،سندھ کے دیگر شہروں میں بھی35ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز کے اہلکار سیکیورٹی پر مامور ہوں گے، سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کے لیے وزیر اعلیٰ ہائوس میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جائے گا جہاں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ براہ راست سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کریں گے، تمام ڈویژنل کمشنرز، آئی جی سندھ، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی آئی جیز کے دفاتر میں بھی کنٹرول روم قائم کیے جائیں گے.

کراچی میں رات کے اوقات میں ہونے والی مجالس اور جلوس کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیلیے حکومت سندھ نے کے ای ایس سی انتظامیہ کو خط ارسال کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امام بارگاہوں، مجالس اور جلوس کے راستوں والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے، کراچی میں8محرم کی شب12بجے سے10محرم تک مرکزی جلوس کے راستوں کو مکمل طور پر سیل کردیا جائے گا اور ان شاہراہوں کے ٹریفک کو متبادل روٹس کی فراہمی کیلیے بھی پلان مرتب کرلیا گیا ہے جبکہ جلوس کی گزرگاہوں میں موجود تمام کاروباری اور تجارتی مراکز، دکانوں اور مارکیٹوں کو بھی بند کرکے انھیں سیل کردیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔