رحمان، روحزن اور بین کرتی سمتیں

اقبال خورشید  اتوار 17 اپريل 2016
بیانیہ متاثر کن ہے، زبان بھی تقاضے پوری کرتی ہے، مگر کہیں کہیں بہتری کی گنجائش ہے۔ ’’دعوتِ کس‘‘ سے بہتر تراکیب وضع کی جاسکتی تھی۔ فوٹو: فیس بک

بیانیہ متاثر کن ہے، زبان بھی تقاضے پوری کرتی ہے، مگر کہیں کہیں بہتری کی گنجائش ہے۔ ’’دعوتِ کس‘‘ سے بہتر تراکیب وضع کی جاسکتی تھی۔ فوٹو: فیس بک

’’اسرار اور حنا کی زندگی کا وہ آخری دن تھا!‘‘

ایک غیر متوقع آغاز۔ آغاز، جو دراصل کہانی کا اختتام ہے۔

اب اختتام کی قاری کو خبر، اُس مقام تک پہنچنے کا تجسس، یہ ہی تجسس، تحریک بنے گا، مصنف گائیڈ کا کردار ادا کرنے کو تیار، وہ قصّہ گوئی کا فن جانتا ہے۔

آج ہمارا موضوع ایک ایسی کتاب ہے، جو گذشتہ چند ماہ خبروں کی زینت بنی رہی۔ اِس کا ایک سبب مصنف کا متنازع ہونا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تنازعات کے لیے اجنبی نہیں، مگر اصل وجہ یہ رہی کہ اس کتاب کے پبلشنگ رائٹس ہندوستان میں 20 لاکھ روپے میں فروخت ہوئے۔ یہ ایک خطیر رقم ہے، اردو کی چند ہی کتابیں اِس قیمت پر خریدی گئی ہوں گی۔

میں بات کر رہا ہوں رحمان عباس کے ناول ’’روحزن‘‘ کی، جو ممبا بکس انڈیا نے شایع کیا۔

عنوان بہ ظاہر ’’روح‘‘ اور ’’حزن‘‘ کا مرکب، مگر ناول نگار کا اصرار کہ اسے دو لفظوں کا مرکب نہ سمجھا جائے، یہ تو ایک ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی صورت حال منظر کرنے کی سعی ہے۔ دراصل ناول میں ایک کیفیت کو، روح کے چھید کو موضوع بنایا گیا ہے۔ وہ چھید، جس کا ماخذ ان جذبوں کی شکست و ریخت، جن سے خاندان نامی اکائی جنم لیتی ہے۔

’’روحزن‘‘ اسرار کی کہانی ہے، جو ایک ماہی گیر کا بیٹا ہے، اور قسمت آزمانے ممبئی آتا ہے۔ ناول کے آغاز میں ممبئی طوفانی بارشوں کی زد میں ہے۔ یہ ایک پُر قوت ابتدائیہ ہے۔ ناول میں بارش اور سمندر کو بڑی گرفت کے ساتھ منظر کیا گیا ہے۔ یہی بارش اور سمندر ناول کا اختتامہ ہے۔

جنس بھی اس ناول کا ایک موضوع، اور رحمان عباس کے معاملے میں یہ غیرمتوقع نہیں، مگر قابل ذکر امر یہ ہے کہ اس میں Supernatural Elements ملتے ہیں۔ مرکزی کہانی کے درمیان مافوق الفطرت عناصر کی جھلکیاں ظاہر ہوتی ہیں، جن کا اصل ماخذ Hindu Mythology ہے۔ عشق سے جڑا تحیر بھی اس کا اہم موضوع، شہر ممبئی، ناول میں کسی کردار کے مانند ہے۔

’’خوبیاں‘‘

ناول مطالعیت سے بھرپور ہے، اور مطالعیت کو مہیز کیا ممبئی کے بے ساختہ تذکرہ نے، مرکزی کردار کے جنس اور محبت کے تجربے سے آشنا ہونے کے مراحل اور اُن مراحل سے جڑے تجسس نے، مافوق الفطرت عناصر نے۔ ممبئی کے تذکرے اور مافوق الفطرت عناصر نے ناول میں تجسس کو بڑھا دیا، اور اِسے ایک نئی جہت عطا کی۔ زبان و بیان موزوں، قاری کے ذہن میں ممبئی کی معاشرت کی فضا بنتی ہے، وہاں کے مسلم نوجوانوں کی تصویر ابھرتی ہے۔ بانی کی شاعری لطف دے گئی۔ کردار نگاری متوازن ہے۔

 ’’خامیاں‘‘

کامل فقط خدا کی ذات۔ انسانی تخلیق میں ایک آدھ خامی بھی ہونی چاہیے کہ وہ نظر کے ٹیکے کا کام دیتی ہیں۔ کہانی میں موجود مافوق الفطرت عناصر کا اصل ماخذ تو ہندو اساطیر ہے۔ البتہ شیطان کی پرستش کے تصور سے بھی کہانی بُننے کے لیے چند دھاگے لیے گئے ہیں۔ بے شک دونوں ماخذات نے مطالعیت کو بڑھایا، تاہم اول الذکر جس طرح کہانی میں گندھا ہوا اور بھرپور ہے، وہ معاملہ آخر الذکر کا نہیں۔ بیانیہ متاثر کن ہے، زبان بھی تقاضے پوری کرتی ہے، مگر کہیں کہیں بہتری کی گنجائش ہے۔ ’’دعوتِ کس‘‘ سے بہتر تراکیب وضع کی جاسکتی تھی۔

 ’’حروف آخر‘‘

’’روحزن‘‘ کی اشاعت کے فوراً بعد جو ردعمل آیا، اس میں اسے ایک عظیم اور بڑا ناول قرار دینے کا رجحان غالب تھا۔ میرے لیے اِس رجحان کے ساتھ چلنا خاصا آسان، بھیڑچال اسی کا تو نام ہے۔ ویسے اِس رائے سے کہ ’’روحزن‘‘ ایک بڑا ناول ہے، اختلاف کرنے کے لیے بھی کون سا ہل جوتنا ہے۔ ادب میں تخلیق کو رد کرنا، قبول کرنے سے زیادہ سہل۔ بس، نفی میں گردن ہی تو ہلانی ہے۔ مگر میں اُس سہ پہر کی طرف پلٹا ہوں، جب مجھے عبداللہ حسین کے چند لمحات میسر تھے، ایک یادگار انٹرویو تکمیل کے مراحل میں تھا۔ عبداللہ حسین نے اس سہ پہر کہا تھا،

’’ناول کا اصل امتحان وقت ہے۔‘‘

بات درست، تارڑ صاحب کا ناول ’’بہاؤ‘‘ پچیس برس گزار چکا، اور اپنے اندر ایک بڑا ناول بننے کے امکانات رکھتا ہے۔ تو کیا ’’روحزن‘‘ ایک بڑا ناول ہے؟

اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ اِس کا اصل ہدف نئی نسل ہے، جسے تحیر عشق اپنی اُور پکارتا ہے، مگر چالیس اور پچاس کے پیٹے کے قارئین کا اِس سے لطف اندوز ہونا بھی غیر متوقع نہیں ہوگا۔ یہی کمال ہے فکشن کا۔ میرے لیے (بانی کے الفاظ میں) یہ بین کرتی سمتوں کی کہانی ہے۔

تو لمحۂ موجود میں کہوں گا کہ it’s a must-read
اور رحمان عباس کے لیے Two thumbs up

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کےساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس

iqbal khursheed

اقبال خورشید

اقبال خورشید فکشن نگار، صحافی اور کالم نویس ہیں۔ اُن کے نوویلا ”تکون کی چوتھی جہت“ کو محمد سلیم الرحمان، ڈاکٹر حسن منظر، مستنصر حسین تارڑ اور مشرف عالم ذوقی جیسے قلم کاروں نے سراہا۔ انٹرویو نگاری اُن کااصل میدان ہے۔ کالم ”نمک کا آدمی“ کے عنوان سے روزنامہ ایکسپریس میں شایع ہوتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔