کیا جمہوری حکومت بنے گی

عبدالقادر حسن  بدھ 14 نومبر 2012
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

اگر رات کے کسی پہر درخت کا پتا بھی گرتا ہے تو کسی پاکستانی کو اس پر بھاری بوٹ کی دھمک کا گماں گزرتا ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ جس قوم کی نصف سے زیادہ زندگی اور وہ بھی گھن گرج والی دبنگ فوج کی کمان میں گزری ہو اس کے اندر اگر فوج کا رعب بیٹھ جائے تو وہ بے قصور ہے اور اسے اگر پتے کی آواز پر بھی بھاری قدموں کی چاپ کا گماں گزرے تو کیا تعجب۔

فوجی حکومتوں میں ہم پر کیا کچھ نہیں گزری کہ ہم اس سے متاثر نہ ہوں اور اسے بھول جائیں لیکن فوج کے حساس ذہنوں اور مشتعل مزاج کو دیکھ کر میں کسی ناگوار بات کا تذکرہ کرنے کی جرات نہیں کروں گا لیکن یہ کوئی پرانی باتیں نہیں آپ بھی اپنے ذہن پر ذرا سا زور دیں تو آپ کے سامنے ایک فلم چلنی شروع ہو جائے گی۔ ہماری عدالت عظمیٰ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ اب ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا مگر کیوں نہیں ہو گا اس کا جواب وہ اپنے کاغذی فیصلوں سے دیتی ہے لیکن اب تک کوئی عدالت اور کوئی غیر فوجی قوت ان بھاری قدموں کی رفتار کو نہیں روک سکی۔

موجودہ غیر فوجی سویلین حکومت نے عوام پر مصائب اور مسائل کا جو ناقابل برداشت بوجھ لادا ہوا ہے اور عوام کے مصائب کی نقد قیمت بھی وصول کی ہے اس کو دیکھتے ہوئے آج بھی عوام کی یہ آواز اٹھتی ہے کہ وہ دھمک کہاں گئی جس سے ایسے حکمرانوں کے دل لرزتے ہیں اور جب بعض غیر سویلین حکمرانوں کی بدعنوانیاں برسر عام آتی ہیں تو دل لرزتے ہیں کہ ہر ایک کو تو دیکھ لیا اب کہاں جائیں گے کہیں بھی امان نہیں۔ صاف بات یہ ہے کہ فوجی حکومت ہو یا سویلین کرپشن دونوں حکومتوں کی ناقابل برداشت ہے مگر پھر بھی برداشت کی جاتی ہے۔ ہماری قوت برداشت کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس میں کوئی راز نہیں ہے اور نہ ہی اس کے مورخ سے کوئی اختلاف ہے۔ میں اپنی سیاسی قیادت پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھ میں یہ جرات نہیں ہوتی کہ حکمرانی کے لیے کسی کا نام لے سکوں۔ یوں تو سیاست کے توشہ خانے میں کیا نہیں ہے مگر کچھ بھی نہیں ہے جو میرے آپ کے کام کا ہو۔ یہ سب خالی ہے۔

تعجب ہے کہ ایک طرف تو عام انتخابات کے اعلان ہو رہے ہیں اور ان کی تیاریاں جاری ہیں مگر اسی زبان میں کئی اندیشے بھی بیان کیے جا رہے ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا سوء اتفاق کہ کچھ پہلے ایک ہی دن ایک ہی وقت میں فوج بھی بولی اور عدالت بھی۔ دونوں نے اپنے اپنے مفاد میں کھل کر باتیں کیں مگر قوم کو اندازے لگانے کے لیے کھلا چھوڑ دیا کہ کس کی بات کا اصل مطلب کیا تھا۔ دانشور چونکہ کچھ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں اس لیے انھوں نے ٹی وی پر بہت کچھ کہا اور لکھنے والے بھی مجبور کہ اخبارات خالی تو نہیں جا سکتے اس لیے انھوں نے بھی بہت کچھ لکھا اور یہ بولنا اور لکھنا ہنوز جاری ہے۔ کوئی بھی دو ٹوک بات نہیں کہتا یا کہہ نہیں سکتا کہ وہ خود لا علم ہے یا مجبور اس لیے عوام اس ابہام سے پریشان ہیں اور معاملہ اشاروں کنایوں سے آگے نہیں بڑھ رہا جب کہ مطالبہ یہ ہے کہ

جو بھی کہتے ہو کہو صاف شکایت ہی سہی
ان اشارات و کنایات سے جی ڈرتا ہے

بات کو مختصر کریں تو اس کا جواب ایک ہی ہے اور وہ ہے ایک ایسی حکومت اور حکمران جس پر عوام کو اعتماد ہو اور جس اعتماد کو برقرار رکھنے پر عوام بضد بھی ہوں ورنہ جس کا دائو چلے گا وہ چلائے گا جب تک کہ یہ بساط بچھی ہوئی ہے ہر کوئی اپنے اپنے دائو پر رہے گا۔ یہ سب بے رحم لوگ ہیں پہلے آدھا ملک اپنی بداعمالیوں سے کھو دیا اور اب اپنی مزید بداعمالیوں سے باقی ماندہ بھی کھلے خطرے میں ہے اور اس پر بڑی سنگدلی کے ساتھ سیاست کی جا رہی ہے کسی اقتدار کی تلاش ہے۔

جہاں تک ایسے مضبوط اور جان نثار عوام کا تعلق ہے اس کے امکانات ہم پہلے ہی کھو چکے ہیں۔ عوام کے ساتھ اتنے دھوکے ہوئے کہ ان کا قیادت پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا۔ اس ملک میں ایک بار بظاہر ایک بڑی ہی نیک نام قیادت کا زمانہ آیا جب علماء اور سیاسی زعماء نے بھٹو دور میں انتخابات کے دوبارہ انعقاد کے لیے تحریک شروع کی۔ نو جماعتوں کی اس سیاسی تحریک کو ایک مذہبی جماعت نے یکطرفہ طور پر نظام مصطفی کی تحریک قرار دے دیا۔ یہ ایسا نام تھا کہ اسے غیر ضروری سمجھتے ہوئے احتراماً کسی نے اس سے انکار نہ کیا۔ یہ تحریک یوں کامیاب رہی کہ حکومت تو چلی گئی لیکن جمہوریت نہ آ سکی۔ ایک جماعت کی خود غرضی نے اس تحریک کو ایک متبرک نام دے کر اس میں شرکت کو ذریعہ نجات بنا دیا لیکن جمہوریت بھول کر یہ پی این اے ضیاء الحق کی حکومت میں شامل ہو گئی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا اور کھلا اظہار بھی کیا جانے لگا کہ اب اس کے بعد کوئی تحریک نہیں چلائی جائے گی کیونکہ یہ تحریک ایک دھوکا ثابت ہوئی۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک کے عوام کے ساتھ پہلا دھوکا تو وہ تھا جو اس ملک کے قیام کے وقت تحریک پاکستان کے مقاصد سے روگردانی اور بے وفائی کی صورت میں کیا گیا۔ دوسرا دھوکا بعد میں سیاستدانوں نے جاری رکھا جس کا عروج پی این اے کی یہ نو رکنی جماعتی تحریک تھی اس طرح اس تحریک کے دیندار اور دنیا دار سیاستدان سبھی آزما لیے گئے۔ درویشی اور سلطانی دونوں کی عیاری ثابت ہو گئی۔

یہ تو ایک تاریخ ہے لیکن اس کا حل تو تلاش کرنا ہی پڑے گا۔ اگر آج کسی نئے سیاسی لیڈر کی پذیرائی کی جا رہی ہے تو اس لیے کہ یہ مختلف دکھائی دیتا ہے اور اس سے توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں۔ یوں یہ اس قوم کا ایک جوا ہے جو وہ کھیلنے پر آمادہ ہے اور اس میں اسے جیتنے کا امکان دکھائی دے رہا ہے۔

اب اگر اس ملک کے سیکولر خواتین و حضرات اجازت دیں اور برداشت بھی کر سکیں تو اسٹیٹ کے بااختیار اداروں کو ان کی حد تک رکھنے کی ایک تاریخی مثال پیش خدمت ہے مگر یہ قرون اولیٰ یعنی ابتدائے اسلام سے تعلق رکھتی ہے جو آج زیر بحث ہے کہ اس اسلام کو قبول کیا جائے یا رد۔ میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ عرض کروں گا مسلمانوں کے ایک حکمران عمر بن خطابؓ پر عوام کا اس قدر ناقابل شکست اعتماد تھا کہ انھوں نے کسی غلطی پر خالد بن ولیدؓ جیسے جرنیل کو جو اللہ کی تلوار تھا برطرف کر دیا اور جب برطرفی کے بعد واپس مدینہ آتے ہوئے خالدؓ نے ایک پڑائو پر کچھ ناراضگی کا اظہار کیا جو ایک قدرتی بات تھی اس پر ایک سپاہی نے کہا کہ جناب آپ کی باتوں سے بغاوت کی بو آتی ہے یہ سن کر خالد نے کہا کہ جب تک عمر ہے بغاوت نہیں ہو سکتی۔

ان کا اشارہ حضرت عمرؓ پر عوام کے بے پناہ اعتماد کی طاقت کی طرف تھا لیکن آج کے سیاستدان جو فوج کے منتظر بھی رہتے ہیں ان کی کیا مجال کہ کسی سپاہی کو بھی برطرف کر سکیں۔ عرض یہ ہے کہ جب تک عوام متحد نہیں ہوتے اور کسی قیادت پر اعتماد نہیں کرتے ایسے میں جس کا بھی جتنا بس چلے گا من مانی کرتا رہے گا۔ کرپٹ ترین سول حکومت بھی رہے گی اور فوجی حکومت بھی۔ اس لیے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ملک میں سول رول جاری رہے گا یا اسے موقوف کر دیا جائے گا۔ حالات کے دونوں طرف اشارے موجود ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔