الزام تراشیاں

ایس کے جدون  بدھ 14 نومبر 2012
ایس کے جدون

ایس کے جدون

عمران خان پاکستانی و برطانوی ماحول میں پرورش پانے والے ایک ایسے سیاستدان ہیں جن کے مزاج پر دہرے ماحول نے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، وہ اپنے انداز و بیاں سے تھوڑے مشرقی اور اچھے خاصے مغربی تہذیب کے زیرِ اثر دکھائی دیتے ہیں۔

بات کرتے ہوئے ان کے لب و لہجے کی رعونت، کاندھے اُچکانا، سوچے سمجھے بغیر کچھ بھی کہہ دینا اور دوسروں کی عیب جوئی کرنا یہ سب اصول مغرب کے ہاں ہمیشہ مقبول رہے ہیں، اس کے برعکس مشرقی معاشرے میں کاندھے اُچکا کر بات کرنا تکبر کی علامت اور الزام لگا کر ثابت نہ کر سکنا، خاصا معیوب سمجھا جاتا ہے گو کہ ہمارے ہاں بھی اب مشرقی روایات خال خال ہی نظر آتی ہیں، لیکن بڑوں کا احترام، چھوٹوں کا لحاظ، خدمت و اطاعت، مزاج میں نرمی اور دوران گفتگو شائستگی کا مظاہرہ کرنا آج بھی ہمارے اسلامی و مشرقی ثقافت کے نمایاں اور متحرک پہلو ہیں جنھیں سیاست سے رد کر دینے کی وجہ ہی آج ہمارے سیاسی کلچر کے انحطاط کا سبب بنی ہے۔

صد معذرت کے ساتھ خان صاحب کے ہاں انھی خوبصورت معاشرتی اسلوب کی کمی کی شکایات ملتی ہیں جس کی ایک بڑی وجہ ہمارا مروجہ سیاسی کلچر اور مغرب کا ٹوٹا پھوٹا انسانی اقدار سے محروم وہ معاشرتی ماحول ہے جہاں ان کے بچپن کا ایک طویل حصہ گزرا ہے جب اخلاقی قدریں پوری شدت سے انسانی کردار پر اثرانداز ہوتی ہیں ایسی کئی مثالیں خان صاحب سے منسوب ہیں جب غصے کی حالت میں انھوں نے اپنے کارکنان کو دھکے دیے اور ناراض ہو کر جلسہ گاہ سے تشریف لیے گئے۔ اسی طرح ٹانک کے مقام پر جلسے کے اختتام پر مقامی افراد کی طرف سے پہنائی گئی پگڑی کو بھی انھوں نے سر سے اتار کر ایک جانب اُچھال دیا جسے مقامی افراد کی جانب سے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا اور بطور کھلاڑی وہ اپنے مداحوں کو کرکٹ بیٹ سے پیٹ دیا کرتے تھے۔

ہمارے ملک میں مغربی سوچ و فکر کبھی پنپ نہیں سکتی، جس کی بڑی وجہ مغرب کا وہ متعصبانہ طرز عمل ہے جو برسوں سے انھوں نے مسلمانوں سے روا رکھا ہوا ہے۔ آئے دن اسلامی روایات اور پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخیوں کے نہ رکنے والے طوفان نے مسلمانوں کو مغرب سے شاکی کر دیا ہے پاکستان کے شمالی علاقوں پر آئے دن دہشت گردانہ ڈرون حملوں، بلوچستان اور کراچی کے بگڑے ہوئے حالات کے پس منظر میں امریکی ایجنٹوں کے ہاتھ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ پاکستان کا غالب طبقہ اسلام پرست اور اسلامی روایات کا پاسدار ہے جس کی وجہ سے وہ نہ صرف امریکا بلکہ امریکی سوچ کے حامل افراد کو بھی اسلام دشمنی کی بناء پر قابلِ نفرت سمجھتے ہیں ایسے میں خان صاحب کو خوب سوچ سمجھ کر اور اپنے حواس خمسہ کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی سیاسی جماعت کو ٹھوس انجام دینا ہو گا۔ کھیل اور سیاست میں بنیادی امتیاز یہی ہے کہ کھیل میں غلطی قابلِ معافی اور سیاست میں قابل گرفت ہوتی ہے۔ عمران خان سیاست میں ایک اور بڑی غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں آج کل ان کی سیاست کا محور ملک کے معتبر سیاست دانوں پر الزام تراشیوں کا تسلسل ہے۔

عمران خان نے الزام تراشیوں کا آغاز متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین پر تنقید کر کے کیا تھا۔ اپنے حالیہ ٹانک کے جلسے میں خان صاحب نے مولانا فضل الرحمٰن کو ان کے حلقے میں سیاسی نقصان پہنچانے کی اپنی سی کوشش کر ڈالی اس کے علاوہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ہمیشہ ان کے طنزیہ اخباری بیانات کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔ خان صاحب کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ایک لیڈر کے نزدیک اس کی قوم اور ملک کا مفاد ہی عزیز تر ہوتا ہے نہ کہ ذاتی رنجشیں۔

یہ قصہ 2007 کے الیکشن کا ہے جب نواز شریف، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے پرویز مشرف کی صدارت میں الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا تحریک انصاف اور جماعت اسلامی الیکشن کے بائیکاٹ پر قائم رہیں لیکن میاں نواز شریف نے الیکشن میں حصہ لیا۔ جس کا عمران خان اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں ان کا شکوہ اپنی جگہ لیکن کسی بھی جماعت کا سربراہ اپنے کارکنان اور ذمے داران کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ہر جماعت کا اپنا ایک مشاورتی بورڈ ہوتا ہے جہاں معاملات رکھے جاتے ہیں اور خوب بحث و مباحثے کے بعد جو فیصلہ اکثریت کی رائے سے طے پاتا ہے پارٹی سربراہ سمیت سب کو من و عن اس پر عمل کرنا ہوتا ہے اسی طرح میاں نوازشریف بھی فردِ واحد کے طور پر کچھ نہیں۔

ایک اچھے لیڈر اور سربراہ کی یہی خوبی تو اسے شہرت اور کامیابی کے زینے طے کرنے میں مدد دیتی ہے کہ وہ ہر کام مشاورت اور جمہوری طریقوں کے مطابق کرتا ہے اور یقیناً مسلم لیگ ملک کی ایک بڑی جماعت ہے اس نے کافی غور و خوض کے بعد ہی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہو گا، عمران خان کو میاں نواز شریف سے بظاہر تو یہی شکوہ ہے کہ انھوں نے اپنے عہد کی پاسداری نہیں کی لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نواز شریف خدانخواستہ محب وطن نہیں وہ دو بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں اور وہ بھی اتنے ہی محب وطن ہیں جتنا کہ ان پر الزام لگانے والے اور اس تاثر کو ابھارنے والے ہیں۔

پنجاب کو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے سیاست میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ اس طرح الیکشن میں جو بھی جماعت پنجاب سے نمایاں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اس کے اثرات براہِ راست پورے ملک کے الیکشن پر پڑتے ہیں اور وہ جماعت پورے ملک کی سیاست پر سبقت حاصل کر لیتی ہے۔ مسلم لیگ کو اسی لیے پنجاب کی جماعت کہا جاتا ہے کہ وہ پچھلے کئی الیکشن میں پنجاب سے قومی و صوبائی اسمبلی میں اکثریتی جماعت کا اعزاز حاصل کر چکی ہے۔

لیکن یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ مسلم لیگ (ن) صرف پنجاب کی پارٹی ہے مسلم لیگ کو چاروں صوبوں میں اپنا وزیراعلیٰ بنانے کا بھی اعزاز حاصل ہے اور یہ اعزاز شاذ و نادر ہی کسی دوسری جماعت کو اب تک حاصل ہوا ہے۔ اب چونکہ عمران خان کا تعلق بھی صوبہ پنجاب سے ہے اس لیے ان کی بھی یہ سوچ ہو گی کہ فی الحال وہ صرف پنجاب کی عوام کو ہی اپنے حق میں رام کر لیں تو ان کی جماعت ملک کی بڑی جماعتوں کی صف میں آ کر کھڑی ہو سکتی ہے۔ اور وہ بھی مرکزی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔

لیکن انھوں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے غلط راستہ چنا ہے انھیں نواز شریف یا مسلم لیگ کو بدنام کرنے کے بجائے اپنی ساری قوت تحریک انصاف کو اجاگر کرنے کے لیے صرف کرنی چاہیے تھی لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اس ساری سرگرمی کا فائدہ براہِ راست پیپلزپارٹی کو پہنچ رہا ہے۔ اب بھی وقت ہے اگر نوجوان نسل نے خان صاحب کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو انھیں بھی امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہیے نوجوان کسی بھی قوم کا خالص سرمایہ ہوتے ہیں ان کے بگاڑ اور سنوار کی ساری ذمے داری بالآخر ان کی قیادت کے سر ہی جاتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔