بلدیہ عظمی کے افسر کا مغوی بیٹا بازیاب،2اغوا کار گرفتار

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 15 نومبر 2012
 ایک کروڑ میں معاملہ طے ہوا، ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے،نیاز کھوسو؍احمد چنائے. فوٹو: فائل

ایک کروڑ میں معاملہ طے ہوا، ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے،نیاز کھوسو؍احمد چنائے. فوٹو: فائل

کراچی: اینٹی وائلنٹ کرائم سیل اور سی پی ایل سی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بلدیہ عظمیٰ کے افسر کے مغوی بیٹے کو شاہ فیصل کالونی سے بحفاظت بازیاب کرالیا جبکہ 2 اغواکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ۔

ملزمان نے مغوی کی بازیابی کے لیے 5 کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا ، یہ بات ایس ایس پی نیاز کھوسو اور احمد چنائے نے گزشتہ روز سی پی ایل سی کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کے افسر شبیہ الحسن کے بیٹے نبی الحسن کو 5 نومبر کی صبح گلشن اقبال بلاک 4 میں ڈسکو بیکری کے قریب سے ملزمان نے اسلحے کے زور پر اغوا کیا اور اہل خانہ سے 5 کروڑ روپے تاوان طلب کیا ۔

احمد چنائے اور نیاز کھوسو نے بتایا کہ این ای ڈی یونیورسٹی کے طالب علم نبی الحسن کو 2 اغوا کاروں نے اس وقت اغوا کیا جب نبی الحسن5 نومبر کی صبح گاڑی نمبر APY-160 میں اپنی چھوٹی بہن کوگلشن اقبال بلاک4ڈسکو بیکری کے قریب واقع اسکول چھوڑ کرو اپس گھر آرہا تھا کہ 2 نامعلوم ملزمان نے نوجوان نبی الحسن کی گاڑی کو روکا زبردستی گاڑی میں بیٹھ گئے اوراسے اغوا کر کے اپنے ہمراہ لے گئے ، انھوں نے بتایاکہاغوا کاروں نے مغوی نبی الحسن کے اہلخانہ سے5کروڑ روپے تاوان طلب کیا اور منگل کے روز اغوا کار ایک کروڑ روپے تاوان کی رقم لینے پر راضی ہو گئے۔

جس کے بعد سی پی ایل سی اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کی ٹیموں نے اغوا کاروں کا سراغ لایا اور تقریبا 10روز کی جدو جہد کے بعد بدھ کی صبح سی پی ایل سی اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے شاہ فیصل کالونی کے علاقے میں واقع ایک مکان پر چھاپہ مار کر مغوی نبی الحسن کو بحفاظت بازیاب کرلیا جبکہ کاروائی کے دوران مکان میں موجود 2 اغوا کاروں اویس عدیل اور فیضان کو گرفتار کر لیا ہے ، انھوں نے بتایا کہ گرفتار اغوا کاروں نے جو طریقہ واردات اپنائی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اغواء کار اغوا برائے تاوان کی مزید وارداتوں میں بھی ملزم ہو سکتے ہیں تاہم پولیس ملزمان سے تفتیش کر رہی ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔