کراچی کے خراب حالات ریاست کی ناکامی نہیں، صدر زرداری

نمائندگان ایکسپریس / خبر ایجنسیاں  جمعرات 15 نومبر 2012
صدر زرداری ملکوال میں پیپلز پارٹی کے تحت عید ملن کی تقریب کے شرکا کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

صدر زرداری ملکوال میں پیپلز پارٹی کے تحت عید ملن کی تقریب کے شرکا کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

نارنگ منڈی / ملکوال / بہاؤ الدین / سرگودھا: صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ وہ عوام اور سیاسی قوتوں کو یقین دلاتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات اپنے وقت پر، صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونگے اس حوالے سے حکمت عملی وضع کرلی گئی ہے۔

ووٹر فہرستیں ایسی بنائی ہیں کہ کوئی دھاندلی نہ ہو سکے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کرینگے، عوام سے بڑی طاقت کسی کی نہیں ہے‘ ہر طاقت پارلیمنٹ کے سامنے جھکتی جا رہی ہے۔ ملکوال میں پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام عید ملن پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا ملک اور حکومت کیخلاف باقاعدہ سازشی مہم چلائی جا رہی ہے، میں نے خو د پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات دیے حالانکہ کوئی پٹواری بھی اپنے اختیارات کسی کو نہیں دیتا، میں اس کا صلہ نہیں مانگتا، اس کا صلہ تاریخ مجھے دے گی۔ مخالفین نے تسلیم کیا کہ ہمارے ہوتے ہوئے پارلیمنٹ مدت مکمل کر رہی ہے۔

ملالہ کی حمایت روشن خیالی کی حمایت کیلئے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کراچی کے خراب حالات ریاست کی ناکامی نہیں ہے، کراچی میں حالات خراب کرنا دہشت گردوں کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوکمزور کیا جا سکے۔ دہشت گرد کراچی میں حالات خراب کر کے ہمیں الجھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر جگہ سے طاقت لا کر پاکستان کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں، ملک5سال کی فلاسفی پر نہیں چل سکتے، اس سے آگے بڑھنا ہو گا، ملک آگے بڑھے گا تو ہم سب بڑھیں گے ورنہ ہم سب ڈوب جائیں گے۔ صدر نے کہا انہوں نے اپنی جوانی کے دن پنجاب کی جیلوں میں گزارے، لڑنے والا نہیں درد سہنے والا بہادر ہوتا ہے، پاکستان کو ایسا مہذب ملک بنائیں گے کہ دنیا کا ہم پر سے شک ختم ہو جائیگا،ملک اور عوام کو ضرورت پڑی تو اپنے پیٹ پر پتھر باندھیں گے۔

شہید بھٹو نے کہاکہ تھا کہ میں سیاست نہیں عبادت کرتا ہوں۔ سیاسی جماعتوں سے وعدہ ہے عوام کے ووٹ کا احترام کرونگا، عوام نے جس کو ووٹ دیے میں اس سے حلف لوں گا۔ انھوں نے کہا اب میں خود لاہور آ کر ڈیرہ جمائوں گا۔ ہم ایک مخصوص سوچ کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ کوئی ملک جتنا بھی بڑا ہو وہ ہمیں ڈرا نہیں سکتا۔ ہم نے کہیں نہیں جانا گڑھی خدا بخش ہی جانا ہے اور وہیں دفن ہو نا ہے۔ محترمہ کی شہادت کے بعد میر ے پاس شیر آیا تھا اور مجھے کہا تھا کہ الیکشن کا بائیکاٹ کرنا ہے میں نے انھیں کہا کہ الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرنا بلکہ جرنیل کو ہٹانا ہے پھر ہم نے اکٹھے جنرل کو ہٹایا اور پھر وہ ہم سے الگ ہو گئے۔ سیاست کو سیاست کے انداز میں لینا چاہیے اور اسے دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ ملا لہ ایک معصوم بچی ہے اس جیسی ہماری اور بچیوں کو بھی خطرہ ہے یہ لڑائی ہماری اپنی ہے اس کو ہم نے لڑنا ہے۔ میں ساری سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں کہ آئو مل کر بیٹھیں اب ملک 5 سال کی پلاننگ سے نہیں چلتے 50 سال کی حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ جمہوریت کا پودا درخت بنتا جا رہا ہے اور ہر طاقت پارلیمنٹ کے سامنے جھکتی جا رہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔