جمہوریت اور آرٹس کونسل کا انتخابی عمل

انیس باقر  جمعـء 16 نومبر 2012
anisbaqar@hotmail.com

[email protected]

آرٹس کونسل کراچی میں ہر سال کی طرح امسال بھی سردیوں کی ٹھنڈی ہواؤں میں انتخابات کا انعقاد ایک یقینی عمل ہے یہ روایت برسہا برس سے چلی آرہی ہے، یوں تو یہ انتخاب تقریباً ہزار ارکان کی دلچسپیوں اور کاوشوں کا مظہر ہے مگر یہ انتخاب واقعی یہ باور کراتا ہے کہ آرٹس کونسل محفلِ شعر وسخن، صوت و آہنگ، رنگوں کو کاغذ وکینوس پر بکھیرنے والوں کا سنگم ہے بلکہ اہلِ خِرد اور ذوقِ تکلم کا نمونہ ہے۔

انتخابات کا موسم قریب آتے ہی مقابل امیدواروں کی صف بندی شروع ہوجاتی ہے، سیاسی جماعتوں کی طرح نہ یہاں کوئی دایاں بازو ہوتا ہے اور نہ بایاں بازو، بس جو کچھ بھی یہاں موضوعِ سخن ہوتا ہے وہ دست و بازوئے فن، فنکار اور قائدین فنون کے منشور ماضی کی کارکردگی اور مستقبل کا سفر، ہارنے والے امیدوار جیتنے والوں کو اس طرح مبارک باد دیتے ہیں کہ جیسے یہ پاکستان میں نہیں کسی زبردست جمہوری اقدار سے مرفع اور جمالیات سے بھرپور لوگوں کا اجتماع ہے۔ الیکشن کے روز بڑی دھوم ہوتی ہے، مرد و زن سردیوں کے خوشنما لباس زیبِ تن کیے ہوئے اہل خانہ اور بعض اپنے بچوں کے ہمراہ پولنگ کے نتائج سننے کے لیے پوری رات وہیں گزار دیتے ہیں،گنتی کا آغاز مائیکرو فون پر پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں کیا جاتا ہے۔

آرٹس کونسل کے ممبران کے لیے تو ایک معمول کی بات ہے مگر جو لوگ اس الیکشن کو دیکھنے آتے ہیں ان کے لیے ایک حسین جمہوری یاد سے کم نہیں، عام طور پر دو مضبوط پینل ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہوتے ہیں، آزاد امیدوار بھی ہوتے ہیں، مگر وہ ازخود لوگوں کی زیادہ توجہ کا مرکز نہیں بن پاتے۔ جیسے جیسے انتخابات کے دن قریب آئیں گے انتخابی جلسوں کا آغاز ہوگا، شہر کے طول و عرض میں انتخابی جلسے ہونے لگیں گے، کوئی کسی لان میں جلسہ کرے گا تو پھر مد مقابل اُسی روز دوسرے کسی لان یا کسی متمول رکنِ آرٹس کونسل کے گھر پر پُرلطف، ڈنر،لنچ اور برنج سے ممبروں کی تواضح کرے گا۔ شہر کے صاحبِ ثروت اور کاروباری حضرات بھی اس انتخاب میں خاصی دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ عسرت احساس لطافت پید اکرتی ہے اور عشرت احساس لطف کو برتنے کا موقع فراہم کرتی ہے گوکہ آرٹس کونسل کے زیادہ تر ارکان درمیانی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

مگر ان میں اکثریت علم دوست اور اُردو دوستوں کی ہے کیونکہ اُردو زبان کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ غالباً دنیا کی واحد زبان ہے جس میں ہم اور آپ کے لیے الگ الگ مراتب موجود ہیں کچھ اس امید پر بھی زندہ ہیں کہ یہ اُردو کی پاسداری تھی جس نے بھارت کی فلم انڈسٹری اور بھارتی حکومت کو کثیر زرِ مبادلہ کما کر دیا، ممکن ہے کہ کل پاکستان میں بھی اُردو زبان کے اکابرین کے بھاگ جاگ اُٹھیں، مگر یہاں ایسا کچھ کیونکر ہو؟ ’’ہنوز دلی دور است‘‘ صاحبان اقتدارکو ابھی تک اُردو زبان کی قوت کا ہی علم نہیں جس زبان کی فلموں نے دنیا بھر کے سینما گھروں کی مانگ میں سیندور بھر دیا ہے اور وہ رقوم کما رہے ہیں۔ شاید ہمارے ملک میں بھی اچھی، ستھری، شائستہ زبان بولنے اور لکھنے والوں کو بھی مواقعے ملیں، مگر اب تک ملک کے تمام بڑے چینلوں سے اُردو زبان کے شعراء، ادِباء اور قلم کاروں کو جان بوجھ کر دور رکھا جارہا ہے، مگر آرٹس کونسل ان ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی کمر جھکنے نہیں دیتی، وہ میر تقی میرؔ کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔

خدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئے

گزشتہ کئی برسوں سے آرٹس کونسل کراچی کی یہ روایت رہی ہے کہ ہر سال بین الاقوامی اُردو کانفرنس کا انعقاد تسلسل سے ہورہا ہے گوکہ اُردو ادب کی بعض اصنافِ سخن پر توجہ نہ دی جاسکی مثلاً بچوں کا ادب، انشائیہ، داستان گوئی وغیرہ، اور سب سے اہم مرکزی خیال نفاذ اُردو پر قرارداد، افسوس کی بات ہے کہ ہمارے حکمراں ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں عالمی فورم پر تقریریں کرتے ہیں اگر ذرا کوشش کریں تو نسبتاً بہتر انداز میں اُردو میں تقریر کی جاسکتی ہے، فرانس، جرمنی، روس، چین اور دنیا کے سیکڑوں ممالک کے حکمران اپنی قومی زبان میں تقریریں کرتے ہیں، مگر انھیں شرم دامن گیر ہے، امید ہے کہ اگر آرٹس کونسل نے نفاذِ اُردو کے لیے کچھ مشورے مخصوص کردے تو شاید حکومتِ وقت اس پر بھی غور کرے کیونکہ موجودہ آرٹس کونسل کی قیادت نے آرٹس کونسل کی مالی معاونت میں اضافہ کرانے میں ایک نہایت فعال کردار ادا کیا ہے۔

امید ہے کہ قیادت ماضی کی طرح مستقبل پر بھی نظر رکھے گی۔ ابھی آرٹس کونسل کو ایک بڑی وسیع لائبریری کی اشد ضرورت ہے تاکہ شہر بھر کے طالب علم، اس شفاف چشمے سے اپنی پیاس بجھا سکیں، خواہ وہ شعبہ آرٹس ، سائنس، طب اور دیگر علوم پر محیط ہی کیوں نہ ہو۔ حالیہ دنوں میں آرٹس کونسل کی قیادت نے ایسے قلم کاروں کی جانب بھی دست تعاون بڑھایا ہے جو اپنے مسودے مجبوراً صندوقوں میں بند کیے ہوئے تھے۔ ایسے مسودوں کی اشاعت کا انتظام کیا ہے۔ حکومت اپنی سرپرستی میں تسلسل سے آرٹس کونسل کی احتیاج مزید گرانٹ کو پورا کرنے کے لیے کرے، گوکہ آرٹس کونسل اور سندھ حکومت دونوں کا تعاون قابلِ ذکر ہے۔ ابھی یہ سفر طویل اور صبر آزما ہے مگر سفر امید افزا ہے ۔

امید ہے یہ مسئلہ بھی سر فہرست ہر امیدوار کی زبان پر ہوگا، دراصل ایک اور مسئلہ جو تمام پراجیکٹ پر سے توجہ ہٹا دیتا ہے، وہ غالباً انتخابات کا ہر برس انعقاد ہے ، کیونکہ انتخابی عمل کئی ماہ پر محیط ہوتا ہے، منصوبہ بندی، پینل ، الیکشن کی تیاری، جلسہ گاہ میں اُترنا، پھر انتخابی نتائج، نئی کابینہ کی حلف برداری اگر سچ پوچھا جائے تو دماغی اور عملی طور پر نصف توانائی تو انتخابی عمل میں ضایع ہوجاتی ہے اور جب عملی کام شروع ہونے کا وقت آتا ہے تو پھر نئے انتخابات کا بگل بج جاتا ہے گویا دماغی یکسوئی سے قیادت محروم ہوجاتی ہے، جس کا منطقی انجام یہ ہوتا ہے کہ صدر اور اس کی کابینہ ایک دائرے میں گھومتے رہتے ہیں، فکری اور منصوبہ بندی کے لیے وقت بالکل نہیں ملتا، اس لیے بعض منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں، پھر فارسی کی مشہور مثل ہے جو صادق آتی ہے ’’ہر کہ آمد عمارتِ نومی ساخت‘‘ نئے سرے سے نئے منصوبوں کو لے کر چلتا ہے، اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ہر چار سال بعد انتخابات ہوتے ہیں، مگر امریکیوں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ ایک صدر کو عموماً دوبارہ موقع دیتے ہیں تاکہ منصوبے کی تکمیل ہوسکے۔

لہٰذا کم از کم آرٹس کونسل کی مسند صدارت کو کم ازکم دو برسوں پر محیط کردینا چاہیے۔ یہ محض ایک رائے ہے اس پر عمل تو آرٹس کونسل کی جنرل باڈی ہی کرسکتی ہے۔ ایک اور اہم پہلو جو اس تحریر میں تشنہ رہا ہے وہ آرٹس کونسل کے پروگراموں کے بروقت ہونے پر انتظامیہ یقیناً مبارکباد کی مستحق ہے۔ کراچی جو گزشتہ کئی برس سے لاقانونیت، بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ایسی صورت میں پروگراموں کا بروقت انعقاد اور خاص طور سے مہمانانِ گرامی، سامعین کو مدعو کرنا اور رات گئے آرٹس کونسل میں ارکان کی موجودگی کوئی آسان کام نہیں، اعتراضات اور اختلافات تو ہر جمہوری معاشرے کی اولین پہچان ہے مگر کن حالات میں کیا کیا جارہا ہے اس پر توجہ ضروری ہے۔ مانا کہ جب مجمع ہوتا ہے تو پھر اس کی الگ نفسیات ہوتی ہے۔

اس میں ایک قسم کی اجتماعی قوت ازخود پیدا ہوجاتی ہے، مگر اجتماعی قوت پیدا کرنے کے لیے ایک اچھی لیڈر شپ ضروری ہوتی ہے۔ یہ لیڈرشپ برسوں کے جمہوری عمل سے پیدا ہوتی ہے، مگر جمہوری عمل کے لیے تعلیم ضروری ہے بغیر علم کی دولت کے جمہوری عمل پروان نہیں چڑھ سکتا، وہ جمہوریت کے لبادے میں دوسری خفیہ قوتوں کا عفریت ہوتا ہے جو جمہوریت کا دعویدار ہوتا ہے، ملکی سطح پر نمایاں جمہوری عمل کسی فرد واحد کی کاوش نہیں ہوتی اس کے پس پشت خیال آفرینوں کی قوت، بصیرت اور ایک ٹیم جو اپنا گول متعین کرے اور پھر حصول کی جدوجد، یہ عمل محض چند افراد نہیں ہوتے، مگر فرد کی صلاحیتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کوئی بھی شخص دوسرے شخص کا متبادل نہیں ہوسکتا، ممکن ہے وہ اس سے بہتر ہو یا اس سے کم تر۔

اسی لیے تاریخ میں انھی ہستیوں کے نام رقم ہوتے ہیں جو بڑھ کر جام اُٹھا لیتے ہیں اور عوام کے پیمانے میں اُلٹ دیتے ہیں۔ موجودہ حالات میں کراچی میں بروقت ادبی، ثقافتی، علمی، اجتماعات کا انعقاد صلاحیتوں کا مقابلہ ہے اور امتحان کا پیمانہ آرٹس کونسل کا جمہوری عمل اپنے اندر ایک جہد مسلسل کی تاریخ لے کر چل رہا ہے۔ ماضی کا سفر طے کرنے والوں کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہاشمی صاحب، یاور مہدی اور اب احمد شاہ کی قیادت میں کئی برس سے یہ قافلہ منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ اب انتخابات کی ساعت قریب ہے، دیکھتے ہیں کہ آرٹس کونسل کے ممبران کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہی سفر ہمارے ملک کی جمہوری قوتیں تصادم کے بغیر مباحثوں اور مکالموں سے کرتیں تو آج ملک پر یہ تاریک دور نازل نہ ہوتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔