محکمہ پولیس نے بم ڈسپوزل اسکواڈ کیلیے 50 کروڑ مانگ لیے

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 16 نومبر 2012
محکمے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال۔ فوٹو: فائل

محکمے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال۔ فوٹو: فائل

کراچی: محکمہ پولیس نے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلیے حکومت سندھ سے50کروڑ روپے مانگ لیے ہیں، محکمہ داخلہ سندھ نے منظوری کے لیے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کر دی۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ پولیس کی جانب سے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلیے حکومت سندھ سے50کروڑ روپے طلب کیے ہیں، ذرائع کے مطابق سندھ پولیس نے محکمہ داخلہ کو خط ارسال کیا تھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ محکمہ پولیس کے بم ڈسپوزل یونٹ کو بم ناکارہ بنانے اور بارود کی نشاندہی کے لیے مزید خصوصی آلات درکار ہیں جس کے لیے 50 کروڑ روپے مالیت کے فنڈز جاری کیے جائیں ، محکمہ داخلہ سندھ نے فنڈز کی منظوری کے لیے سمری مرتب کر کے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو ارسال کردی ہے جو منظوری کے بعد محکمہ داخلہ سندھ کے توسط سے سندھ پولیس کے حوالے کردیے جائیں گے جس سے بم کو ناکارہ بنانے اور بارود کی نشاندہی کرنے کیلیے15خصوصی آلات خریدے جائیں گے۔

جبکہ ان آلات کی خریداری کے لیے محکمہ پولیس اپنے فنڈز سے مزید 10 کروڑ روپے خرچ کرے گا،یہ آلات جنوری 2013 میں خریدے جائیں گے، دریں اثنا محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے 3 نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں جس میں بدین میں یکم محرم تا گیارہ محرم تک دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی ہے ، محرم الحرام کے پورے مہینے میں لائسنس یافتہ اسلحہ ساتھ لے کر چلنے کے لیے جاری کیے جانے والے خصوصی اجازت نامے منسوخ کر دیے جبکہ تیسرے نوٹیفکیشن میں محکمہ داخلہ سندھ نے سندھ بھر میں وال چاکنگ پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔