الیکشن کمیشن نے سرکاری فسروں کے تقرر و تبادلے کا اختیار مانگ لیا

مانیٹرنگ ڈیسک  جمعـء 16 نومبر 2012
 بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیدیا، ججز تعینات کرنے کی منظوری نہ ملی تب بھی الیکشن ہونگے، سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ. فوٹو فائل

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیدیا، ججز تعینات کرنے کی منظوری نہ ملی تب بھی الیکشن ہونگے، سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ. فوٹو فائل

اسلام آ باد: الیکشن کمیشن نے حکومت سے انتخابات کے دوران سرکاری افسروں کی تقرری، تبادلے اور کارروائی کیلیے انتظامی ختیارات مانگ لیے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ انتخابات میں الیکشن کمیشن کو مزید انتظامی اختیارات دیے جائیں۔ پارلیمنٹ میں بلوچستان کی نمائندگی بڑھانے سے مسائل حل ہوں گے۔ وفات پا جانے والوں کے نام ووٹرز لسٹ سے نکال دیے ہیں۔ ایک ٹی وی کے مطابق جمعرات کو اسلام آباد میں انتخابی امور پر سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس جہانگیر بدر کی صدارت میں اجلاس ہوا۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا اور نشستیں مختص کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے، الیکشن کمیشن کیلیے تمام 8کروڑ ووٹرز کو ٹرانسپورٹ دینا ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ نے ڈسٹرکٹ و سیشن ججز تعینات کرنے کی منظوری نہ دی تو بھی انتخابات کرائیں گے، 19لاکھ 87ہزاروفات پا جانے والوں کے نام ووٹرز لسٹ سے نکال دیے ہیں۔

ایک اور ٹی وی کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بریفنگ میں بتایا کہ 40 لاکھ سمندرپارپاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق مل گیا ہے، کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے حامل افراد ہی ووٹ ڈال سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضابطہ اخلاق پرعمل درآمد کیلیے صوبائی حکومتوں کو خصوصی احکام جاری کیے ہیں،جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نہیں وہ ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رہیں گے۔ اشتیاق احمد خان نے الیکشن کمیشن کو انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد سرکاری عملے کی تقرری، تبادلوں اور شکایات کی صورت میں ان کیخلاف کارروائی کیلیے انتظامی اختیارات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

ایک ٹی وی کے مطابق سینیٹ کی خصوصی کمیٹی نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی حتمی منظوری اور انتخابی امور نمٹانے کیلیے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھرآئی این پی کے مطابق الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کے لیے 18کروڑ بیلٹ پیپرز شائع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔