جنابِ وزیراعظم!آپ کو قوم کے اہم سوالوں کا جواب تو دینا ہی ہو گا

رحمت علی رازی  اتوار 1 مئ 2016
rehmatraazi@hotmail.com

[email protected]

ہمارے ذی اقتدار تو اتنے مآل اندیش ہیں کہ پاناما سکینڈل جیسے متلاطم اور متنازعہ فیہ مسئلہ کو بھی چٹکیوں میں اُڑا دینا چاہتے ہیں۔ اپنا تھل بیٹرہ تباہ ہو جانے کی ہیبت سے ایک غیرموثر اور علامتی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے قاضی القضاۃ کو خواہی نخواہی خط تو لکھ دیا گیا لیکن اس کی شرائطِ کار یا جُزنامہ پر آ کر ساری کہانی دال چپُو ہو گئی‘ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جادو برحق ہے، کرنیوالا کافر ہے۔ کہتے ہیں، حساب مانگنے والے پہلے اپنی پاکدامنی کا ثبوت پیش کریں کہ وہ کونسے آبِ کوثر سے دھلے ہیں۔ خط کے منجملہ نکات کی اصل روح بھی یہی ہے، باقی سب تو فروعات ہیں۔

یہ اربابِ اختلاف کی ناتجربہ کاری تھی کہ انھوں نے مسند نشیں چیف جسٹس کی سربراہی میں محض عدالتی کمیشن کا مطالبہ کیا‘ تحقیقات کے مندرجات کیا ہوتے ہیں، شاید انہیں علم نہ تھا‘ اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر وزیراعظم کے سفرِ خضر کے ساتھی اسحاق ڈار نے سیاسی حمام کے سب غسلِ آفتابی والوں کو غسلِ احتسابی کی لہروں کے سپرد کر دیا جن پر اب شاق گزر رہا ہے کہ اصل بات تو پاناما لیکس کی مد میں وزیراعظم اینڈ فیملی کے احتساب کی تھی جسے قلم انداز کر کے احتساب کا رخ ماضی کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

حکمران اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ غلغلہ کاروں کی مشاورت سے چیف جسٹس کو دوسرا خط نہیں لکھیں گے اور ان کے خلاف جو رزم و بزم جمنے کو ہے، اس کے جام سرنگوں ہو جائینگے، تو یہ ان کی خام خیالی ہے‘ وقت متقاضی ہے کہ الزام کی زد پہ آئے ہٹیلے حکمرانوں کو آگے بڑھ کر اپنے گلے حاضر اور جگر پیش کر دینے چاہئیں کہ ہاتھ بڑھنے کو مضطرب اور روحیں وجد کو بیتاب ہیں، ورنہ خنجر آزمائے جانے میں کچھ ڈھیل نہ ہو گی۔

لمحۂ موجود میں یہ قیاس بیکار ہے کہ کوئی ان سے یہ نہیں پوچھے گا کہ آپکے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ یہ کاغذ کی ناؤ اب زیادہ دیر نہیں بہنے والی، لہٰذا شترمرغ کی طرح ریت میں سر دبا کر حقائق سے نظر چرانے میں اب عافیت نہ ہو گی، نہ ہی پار اتر کر بکری دینے سے بلا ٹلے گی۔ پاناما دستاویزات نے دُنیا کے سیاسی منظرنامے میں ایک ہلچل مچا رکھی ہے۔ جہاں پاکستان میں یہ چائیں چائیں مچی ہوئی ہے‘ وہیں دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی اس افشاء کی بازگشت حکومتی ایوانوں کے درو دیوار ہلا رہی ہے جسکے جھٹکوں کی تاب نہ لاتے ہوئے چند ممالک کے سیاسی راہنما اخلاقی طور پر مستعفی بھی ہو چکے ہیں مگر ہمارے وزیراعظم ہیں کہ انھوں نے احتساب سے فرار حاصل کرنے کے لیے نئے انتخابات کی مہم شروع کر دی ہے۔

پاناما لیکس میں پاکستان کے تاہنوز معدوے چند سیاسی خانوادوں کے نام ظاہر کیے گئے اور 210 اہم شخصیات کی تفاصیل کو روک لیا گیا مگر اب شنید ہے کہ مئی کے دوسرے ہفتے میں 400 ایسے پاکستانی سرمایہ داروں کی فہرست جاری ہونے کو ہے جنھوں نے ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنی دولت بیرون ممالک کی مالیاتی جنتوں میں چھپار کھی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ٹیکس چور اشرافیہ کے لیے ضرور بری خبر ہو گی‘ تاہم یہ بالعموم پاکستان کے لیے ایک نیک شگون ہو گا کہ آئی سی آئی جے کی ہر قسط کے بعد دو چار سو پاکستانی نواب بے نقاب ہوتے رہیں گے جنہیں محتسب ادارے آسانی سے قانون کے کٹہرے میں لا کر پاکستان کے لوٹے گئے اربوں کھربوں ڈالرز واپس لا سکیں گے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں دولت کی غیرمساوی تقسیم زوروں پر ہے‘ ایک طرف دولت کے انبار ہیں تو دوسری جانب ملک کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی غربت کے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے۔ وطنِ خداداد کا سب سے بڑا المیہ کرپشن اور قومی خزانے کی لوٹ مار ہے‘ حکمران ٹیکسوں اور یوٹیلیٹی بلز میں ظالمانہ اضافہ کر کے عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینا چاہتے ہیں اور خود عیش و عشرت کے محلات میں شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی گزار رہے ہیں‘ کرپشن اور قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ نے ملک کو کنگال اور آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا ہے۔ پاکستان میں وسائل کی تقسیم کے سلسلے میں دنیا کا بدترین نظام رائج ہے اور ریاست بذاتِ خود وسائل کی تقسیم میں جانبدار اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔

ریاست پر قابض طبقے اداروں کے ذریعے خود کو نوازتے ہیں‘ اسطرح پاکستان میں اشرافیہ کی پیدائش و پرورش میں ریاست خود دخیل ہے۔ ہمارا طبقۂ امراء ریاست کے عطا کردہ پلاٹوں، پرمٹوں اور دیگر مراعاتی پیکیجز کی پیداوار ہے اور سرمایہ دار طبقہ بھی منافع خوری کے لیے ریاست ہی کو استعمال کرتا ہے‘ بدیں وجہ اس نے ٹیکس چھوٹ کے نوع بہ نوع قوانین منظور کروا رکھے ہیں‘ پاکستان میں ٹیکس نادہندگی قومی وباء کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اہلِ ثروت کے آمدنیوں پر براہِ راست ٹیکس ادا نہ کرنے کے باعث ریاست کو باالواسطہ ٹیکسوں سے کام چلانا پڑتا ہے جن کا بوجھ عام شہری برداشت کرتے ہیں۔

نوآبادیاتی سامراج کی ناجائز اولاد ’’جاگیر دار طبقہ‘‘ کی طرح پاکستان کا نودولتی سماج ’’اشرافیہ‘‘ بھی براہِ راست ریاستی نوازشوں سے وجود میں آیا ہے، گویا پاکستان میں دولت محض ریاست کی دین ہے مگر اس دولت میں سے ریاست کا حصہ نکالنے والے قانون کو حکمرانوں کے گھر کی تابعدار لونڈی بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس چوری کی روایت اخلاقی قانون کا درجہ رکھتی ہے‘ اس کے باوجود سیاستدان، بیوروکریٹ، صنعتکار اور کاروباری افراد دن رات محنت سے لوٹی ہوئی کمائی پر ایک پیسے کا ٹیکس دینا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اس ملک میں کالے اور سفید دھن کی بھی کوئی تمیز نہیں‘ نہ ہی ذرایع آمدن کی پوچھ پڑتال ہے، پھر بھی نجانے کیوں لوگ یہاں کی لوٹی ہوئی دولت کو یہاں رکھنا گناہ ِ کبیرہ تصور کرتے ہیں۔

قرینِ قیاس ہے کہ جو 215 پاکستانیوں کی فہرست منصۂ شہود پر آئی ہے وہ شاید پانچ فیصد سے بھی کم ہو کیونکہ یہ دید شنید خارج از تسلیم نہیں کہ بیرون ملک اثاثے چھپانے والوں میں پاکستانی شہری اقوامِ عالم پر سبقت لے جا سکتے ہیں۔ برطانیہ، لکسمبرگ، ہانگ کانگ، برطانوی ورجن جزائر، جرمنی، پاناما، دبئی، مکاؤ، جاپان، کیمن جزائر، سنگاپور، لبنان، برمودا اور امریکا وغیرہ محفوظ ٹیکس جنتوں کا درجہ رکھتے ہیں۔

مقامِ حیرت ہے کہ جن ممالک کا نام مالیاتی پناگاہوں میں آیا ہے ان میں چند ایشیائی اور لاطینی امریکی ممالک کو چھوڑ کر باقی سب ترقی یافتہ، جمہوریت کے علمبردار، قانون و انصاف کے پاسبان اور انسانی حقوق کے چمپئن کہلاتے ہیں مگر اس سے بڑا دوغلاپن یا شرمناک کردار اور کیا ہو سکتا ہے کہ دنیا بھر کے بدعنوان اور جرائم پیشہ افراد کا کالا دھن ان ہی ممالک کے بینکوں اور خفیہ مالیاتی اداروں میں محوِ استراحت ہے اور انسانیت کے ان ٹھیکیداروں نے عالمی مجرموں کی شناخت خفیہ رکھنے اور ان کی بلیک منی کو وائٹ کرنے کے لیے بہترین حکمتِ عملی کے تحت قانونی لانڈریاں لگا رکھی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ٹیکس سے بچنے کے لیے امراء و روساء ناجائز ذرایع سے اکٹھی کی ہوئی دولت ان مالیاتی پناگاہوں میں چھپا دیتے ہیں جسکا خمیازہ متوسط و زیریں طبقہ کے مفلس و مساکین کو بھگتنا پڑتا ہے۔

اس معاشی عدم مساوات اور اخلاقی دیوالیہ پن کی اصل ذمے دار ترقی یافتہ ممالک کی دو رخی سرمایہ دارانہ پالیسیاں ہیں جن کے بالنفس وہ خود تو دوسروں کے مالِ حرام پر عیش کر رہے ہیں جب کہ دوسری تیسری دنیا کے غریبوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں آتی۔ دنیا میں 80 فیصد مالیاتی پناہ گاہیں برطانیہ میں ہیں‘ اس کے بعد امریکا، سوئٹزرلینڈ اور پاناما کا نمبر آتا ہے۔ امریکا کی ہر ممکن کوشش ہے کہ وہ برطانیہ سمیت تمام ٹیکس ہیونز کو بے نقاب کرے اور خود ٹیکس میں چھوٹ دیکر دنیا کے کرپٹ سرمایہ داروں کو اپنے ملک کی ٹیکس جنتوں کی طرف راغب کرے‘ اس کے لیے وہ 2008ء سے پاناما پر معاہدوں کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا اور اب چند ہی روز قبل پاناما کے وزیرخزانہ نے امریکا کے ساتھ بینک اکاؤنٹس کی معلومات کے تبادلہ کا معاہدہ کر لیا ہے۔

پاناما میں دنیا کے 80 بڑے بینک کام کر رہے ہیں‘ ایک وقت تھا جب پاناما میں کھولے جانے والے اکاؤنٹس کو خفیہ رکھا جاتا تھا لیکن اب اس نے بھی 46 ممالک سے مختلف معاہدوں میں معلومات کے تبادلے پر اتفاق کر لیا ہے۔ 2015ء میں جی 8 ممالک نے آف شور کمپنیوں کے اکاؤنٹس کا پتہ لگانے اور تمام معلومات کے تبادلے کے لیے ایک اعلامیے پر دستخط کیے تھے‘ ان ممالک نے اس حوالے سے بھی آپس میں معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے۔

برطانوی محکمہ خزانہ نے اپنے زیراثر تمام سمندر پار علاقوں بشمول برمودا، برٹش ورجن آئی لینڈز، مونٹ سیرٹ اور ٹرکس کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ جزائر برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسپین کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں یورپی ممالک کے وزرائے خزانہ نے بھی فن لینڈ، لکسمبرگ، یونان، لتھوینیا اور سلواکیہ کے ساتھ اسی طرح کے معاہدے کیے ہیں اور اب وہاں کھولے جانے والے اکاؤنٹس سے آگہی ان ممالک کے لیے آسان ہو گئی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو بھی امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کی طرح ٹیکس ہیونز کا درجہ رکھنے والے تمام ممالک سے انفارمیشن ایکسچینج کے معاہدے کر کے انہیں پاکستانی شہریوں کے آف شور اکاؤنٹس کی معلومات فراہم کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ پاکستانی اتنے مہذب نہیں کہ امریکی شہریوں کی طرح اپنے ملک کی ایک وارننگ پر اپنے آف شور اکاؤنٹس ختم کر کے شرافت سے اپنی رقوم واپس لے آئینگے اور پھر ان پر ٹیکس بھی دینے لگیں گے۔ یہ نظامِ کار وضع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے حکومت خود کو کھلے احتساب کے لیے پیش کر کے اپنا دامن صاف کرے اور تمام سیاسی جماعتوں کے اکابرین کی باہم مشاورت سے مجوزہ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کی شرائطِ کار ازسرِ نو مرتب کر کے چیف جسٹس کو خط لکھے۔

چیف جسٹس بین الاقوامی فرانزک آڈٹ کی خدمات حاصل کرنے کے بعد نیب، ایف بی آر، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کی مدد سے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد ملزمان پر قانون کے مطابق مقدمات چلائیں اور انہیں ایک ہفتہ کے اندر اندر سخت سے سخت سزائیں بھی سنائیں اور قوم کی لوٹی ہوئی رقم بھی واپس لا کر قومی خزانے میں جمع کروائیں۔ یہی ایک راستہ ہے کہ پاناما لیکس کو موقعٔ غنیمت جان کر اس سے مستفید ہوا جائے، نہ کہ ہر آئے مہینے لیکس کی ہر آیندہ قسط پر ایک نیا وبال کھڑا کر کے اصل مجرموں کا احتساب کرنے کے بجائے میڈیا کو نیا ایشو سونپ کر ملک و قوم کا قیمتی وقت برباد کیا جائے۔

یہ بھی فیصلہ کردیا جائے کہ جن سیاستدانوں کے اکاؤنٹس ملک سے باہر ہوں ان کی دولت ملک میں واپس لائی جائے بصورتِ دیگر انہیں اور ان کے خاندان کو عمر بھر کے لیے بلیک لسٹ کر دیا جائے تا کہ وہ پاکستان کی سیاست میں حصہ نہ لے سکیں۔ جنکے نام پاناما لیکس یا اس کے علاوہ بیرون ملک اثاثوں کے ضمن میں ظاہر ہوں انہیں موقع فراہم کیا جائے کہ وہ اپنی تمام دولت رضاکارانہ طور پر واپس لے آئیں، وگرنہ ان کے اثاثے بحق سرکار ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں نشانِ عبرت بنا دیا جائے۔

پاناما پیپرز نے اب تک دستاویزات کا کافی بڑا ذخیرہ جاری کیا ہے اور ’’پاناما ٹو‘‘ کے نام سے آیندہ قسط منظرعام پر آنے ہی والی ہے لیکن اس معاملے میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ چند روز قبل مریم نواز نے عالمی صحافتی تنظیم آئی سی آئی جے کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ویب سائیٹ پر ڈالے گئے لیکس کی تفاصیل میں سے نوازشریف کا نام حذف کرے کیونکہ وزیراعظم پاکستان کا اپنی اولاد کی کسی آف شور کمپنی یا بیرون ملک جائیداد سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ نہ ہی وہ ان کے کسی اکاؤنٹ کو ہینڈل کرتے ہیں۔

موصوفہ کے خط کے جواب میں آئی سی آئی جے کی سوشل میڈیا انتظامیہ نے کہا کہ انھوں نے تو پہلے بھی وزیراعظم نواز شریف کا نام کسی آف شور اکاؤنٹ ہولڈر کے طور پر شایع نہیں کیا اور صرف حسین نواز، حسن نواز اور مریم نواز کے والد کے طور پر ان کا نام مشتہر کیا ہے‘ اگر آپ کو اس پر بھی اعتراض ہے یا اس سے وزیراعظم کی ساکھ کو کوئی نقصان پہنچا ہے تو اس کے لیے وہ تحریری معذرت کرینگے۔ اگلے ہی دن آئی سی آئی جے نے اپنی ویب سائیٹ سے نوازشریف کا نام حذف کر کے اپنی سہواً غلطی پر معذرت ظاہر کر دی جسے وزیراعظم سمیت ان کی کابینہ اور پارٹی ارکان نے اپنی فتح یابی کے انداز میں پیش کیا اور ایسا تاثر دیا گیا جیسے نوازشریف اب دودھ سے دھل کر ہر الزام سے پاک صاف ہو گئے ہیں۔

آئی سی آئی جے کی اس وضاحت کو نہ صرف الیکٹرانک میڈیا میں اچھالا گیا بلکہ پاکستان کے ایک صفِ اول کے اخبار نے اسے شہ سرخی بنا کر پیش کیا اور تمام بڑے اخباروں میں اس کا نصف صفحہ کا فرنٹ پیج اشتہار بھی دیا گیا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حکومت تین سال میں اپنی کارکردگی کے جھنڈے گاڑنے کے لیے ایسے ذاتی اشتہاروں کی مد میں ساڑھے سات ارب روپے صَرف کر چکی ہے جس میں سے پانچ ارب روپے صرف بڑے اخبارات کو دیے گئے۔ اس پرسنل پبلسٹی کے لیے یہ پیسہ نوازشریف نے اپنی کسی ملکی یا آف شور کمپنی کے منافع سے ادا نہیں کیا بلکہ یہ اس غریب ملک کے متوسط طبقہ کے ٹیکس گزاروں کے خون پسینے کی کمائی ہے۔

جس معاملہ کو واضح کرنے کی سعیِ ناکام اس مہم کے ذریعے کی جا رہی ہے وہ معاملہ تو پہلے ہی کلیئر تھا اور کسی بیرونی یا مقامی اخبار اور چینل نے، حتیٰ کہ کسی اپوزیشن کے راہنما نے بھی کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ نوازشریف کی ملکیت میں کوئی آف شور کمپنی ہے‘ شور تو سارا اس بات پر مچایا جا رہا تھا کہ وزیراعظم کے بچوں کے نام پر اتنے اثاثے کہاں سے آئے، اس کی وضاحت دی جائے۔ یہ وضاحت تو دی نہیں گئی اور عالمی صحافتی تنظیم کی ایک برائے نام اور بے مقصد وضاحت کے لیے بڑے بڑے رنگین اشتہارات پر عوام کے کروڑوں روپے پھونک دیے گئے۔

یہ کیا مضحکہ خیز بات نہیں ہے کہ جب وزیراعظم کا نام بطور فریق اس میں شامل ہی نہیں تو پھر اشتہاروں میں کس جھوٹ کو بے نقاب کیا جا رہا ہے اور کس سچ کی فتح پر شادیانے بجائے جا رہے ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ نوازشریف بلاواسطہ نہ سہی باالواسطہ تو اس کیس میں ملوث ہیں۔ یہ بات تو ان کے وزیر داخلہ بھی کہہ چکے کہ لندن کے مے فیئر والے فلیٹس وزیراعظم کی ملکیت ہیں۔ یہ وہی جائیداد ہے جو انھوں نے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی‘ نہ ہی الیکشن کمیشن کو اس کی تفصیل سے آگاہ کیا ہے۔

وزیراعظم پر تو تب بھی الزام لگا تھا جب 1993ء میں ’’نیسکول لمیٹڈ‘‘ اور 1994ء میں ’’نیلسن انٹرپرائزز‘‘ رجسٹرڈ ہوئی تھیں، جو آج پاناما پیپرز میں ان کے بچوں کی ملکیت ظاہر کی گئی ہیں‘ یہ وہی کمپنیاں ہیں جنھیں نوازشریف نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران قائم کیا تھا اور نصیر اللہ بابر نے پارلیمان میں قرارداد پیش کی تھی کہ سابق وزیراعظم نے (جو اُس وقت اپوزیشن لیڈر تھے) ملک کا پیسہ چوری کر کے منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجا ہے جس سے کسی قاضی خاندان کے نام پر پرائیویٹ کمپنیاں رجسٹرڈ کروائی گئی ہیں۔ ان ہی الزامات کی بنیاد پر نوازشریف پر 23 سال لاہور ہائیکورٹ میں مقدمہ چلتا رہا جس سے وہ چند ماہ پہلے ہی بری ہوئے ہیں لیکن اس میں اچنبھے کی بات اس لیے نہیں کہ جس جج نے انہیں بری کیا ان کی اپنی بھی 2 آف شور کمپنیاں موجو دہیں جن کا ذکر پاناما میں آ چکا ہے۔

اب بھی اگر وزیراعظم کہتے ہیں کہ یہ سارا کچھ غلطی سے ہو گیا اور وہ کلیئر ہو چکے ہیں تو عوام اتنے بھی بیوقوف نہیں کہ انہیں اتنی بھی سمجھ نہ ہو کہ سہواً کیا ہوتا ہے اور ارادتاً کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ ان کی اگر یہ سوچ ہے تو شاید یہ بھی ان کی غلطی ہی تھی جب وہ پورے سات مہینے بعد کابینہ اجلاس میں جا نکلے‘ اسی طرح گزشتہ برس پورے دو سال بعد سینیٹ میں گئے‘ شاید وہ بھی غلطی سے گئے ہونگے۔ یہ تو ان کی عوام سے محبت اور گڈگورننس کا حال ہے اور ان کی ملکی خوشحالی و ترقی کے لیے بے چینی کا یہ عالم ہے کہ تین روز قبل غلطی سے انھوں نے مانسہرہ میں ایک ایسے نیچرل گیس پائپ لائن پراجیکٹ کا افتتاح کیا جسکا فیتہ وہ پہلے بھی دو مرتبہ کاٹ چکے ہیں، یعنی 1990ء میں، پھر 1997ء میں اور اب تیسری بار2016ء میں۔ اسی منصوبہ کا افتتاح 2010ء میں پیپلزپارٹی بھی کر چکی ہے مگر حیف کہ یہ منصوبہ چار دفعہ افتتاحی جوڑا پہن کر 26 سال بعد بھی کاغذی جہاز ہے۔

وزیراعظم نے اس گیس منصوبے کا جو حالیہ افتتاح کیا‘ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے غلطی سے یہ بھی فرمایا ’’میں وہ شخص ہوں جو افتتاح کرتا ہوں تو پھر وہ منصوبہ مکمل بھی کرواتا ہوں‘‘۔ اللہ کرے اس بار یہ پراجیکٹ اپنی تکمیل کو پہنچ جائے مگر ہمیں غلطی سے اس کی اُمید نہیں۔ وزیراعظم بھی کیا آدمی ہیں جو عوام سے تو ٹیکس کی اپیل بھی کرتے ہیں، ٹیکس مہم بھی چلاتے ہیں اور قوم کے ٹیکسوں سے ذاتی اشتہارات بھی دیتے ہیں جب کہ ان کا خود کا ٹیکس ریکارڈ یہ ہے کہ 93ء میں جب ان کی حکومت ختم ہوئی تو ان دو سالوں میں ان کا ٹیکس ریٹرن زیرو، 96۔ 1995ء میں 477 روپے جب کہ 97۔1996ء میں دو بارہ زیرو ٹیکس ریٹرن تھا حالانکہ اس دوران پاکستان میں ان کے بیشمار اثاثے تھے۔ جب وزیراعظم کا یہ حال ہو کہ وہ پانچ سالوں میں پانچ صد روپے بھی ٹیکس نہ دے تو پھر دیگر سیاستدانوں اور سرمایہ داروں کا تو ذکر ہی عبث ہو گا۔

کہتے ہیں ناجائز کمائی کی قدر نہیں ہوتی اور جیسے یہ پیسہ کمایا جاتا ہے ویسے ہی اس کے اللّے تللّے بھی ہو جاتے ہیں مگر سیاستدانوں کو پوچھئے جو لوٹ کھسوٹ کے مال کو حلال کی کمائی سے بھی زیادہ عزیز جانتے ہیں۔ بھئی جہاں کروڑوں، اربوں کماتے ہو، اگر چند لاکھ کا ٹیکس بھی دیدو گے تو کونسے کنگال ہو جاؤ گے، مگر اصل بات تو یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان ٹیکس گوشواروں میں خود کو اس لیے یتیم ظاہر کرتے ہیں کہ اگر سارے اثاثے یا ان میں سے دسواں حصہ بھی ظاہر کر دیا تو وہ تو اربوں، کھربوں پتی شمار ہونگے اور پھر بات کھل جائے گی کہ جناب کا خاندان اتنا بھی قارون کا ساربان نہیں تھا کہ اشرفیوں سے لدے دو چار اونٹ ان کے بھی ہاتھ لگ گئے۔ دولت مخفی رکھنے کی دوسری وجہ ٹیکس چوری ہے۔

وزیراعظم کے ٹیکس ریٹرنز تو آپ ملاحظہ کر ہی چکے ہیں‘ اس کے باوجود قبلہ کا یہ اصرار ہے کہ وہ سب سے بڑے ٹیکس گزار ہیں‘ پاناما لیکس کے نتائج سے بوکھلا کر انھوں نے قوم سے تیسرے خطاب میں اس بات کی وضاحت بھی کر دی کہ اللہ کے فضل و کرم سے وہ تب سے ٹیکس دیتے آ رہے ہیں جب بڑے بڑے سرمایہ داروں کو ٹیکس کے ہجّے بھی معلوم نہیں تھے۔ اس سے تو یہی تاثر ابھرتا ہے کہ شریف خاندان قیامِ پاکستان سے ٹیکس ادا کرتا آ رہا ہے‘ مگر دوسری جانب ان پر ٹیکس چوری کے مقدمات بھی ہیں اور اب پاناما سکینڈل کے منظرِعام پر آنے کے بعد ایک بار پھر ان پر ٹیکس چوری کے شدید الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم صاحب! اگر آپکا دامن صاف ہے تو آپکو قوم کے کچھ سوالوں کے جواب دینا ہونگے۔ یہ بتائیے: پاکستان ہجرت کرنے کے بعد آپ کے والد کی کل کتنی جمع پونجی تھی‘ اور انھوں نے پاکستان آ کر کیا کیا کاروبار شروع کیے، اس کاروبار کی تفصیل اور اس سے حاصل شدہ منافع اور اس منافع پر دیا گیا ٹیکس عوام میں ظاہر کیا جائے؟ شریف برادران شادیاں ہونے سے قبل جو مشترکہ کاروبار کرتے تھے، اس کی تفصیل کیا ہے اور انھوں نے اس دوران جو مشترکہ یا انفرادی طور پر محنت کر کے جائیدادیں بنائیں وہ کیا ہیں اور ان پر کتنا ٹیکس ادا کیا گیا؟ جائیداد کے بٹوارے پر ان کے حصے میں جو اثاثے آئے، ان کی تفصیل کیا ہے؟

یہ بھی ظاہر کیا جائے کہ میاں شریف کے جو دو بیٹے (نوازشریف، شہبازشریف) سیاست میں آئے تو سیاست میں آنے کے پانچ سال بعد ان کے اثاثے کیا تھے، ان پر کتنا ٹیکس دیا اور جو بھائی سیاست میں نہیں آیا ان کے کتنے اثاثے آج ان کی اولاد کے پاس ہیں؟ آپکے وزیر خزانہ بننے سے قبل آپکے انفرادی اثاثے کیا تھے؟ وزیر خزانہ بننے کے بعد آپکے مال و متاع میں کتنا اضافہ ہوا اور وزیراعلیٰ پنجاب بننے پر آپ نے کیا کیا کاروبار شروع کیے اور ان پر کتنا ٹیکس ادا کیا؟ وزیراعظم پاکستان بننے کے وقت آپ نے جو ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ان کی تفصیل کیا ہے اور آپکی پہلی حکومت معزول ہونے پر آپکے کیا اثاثے تھے جن کا آپ نے کوئی ٹیکس نہیں دیا؟ جن اثاثوں پر 477 روپے ٹیکس دیا گیا ان کی کیا کمیت و کیفیت ہے؟ آپکی دوسری حکومت کے دوران کتنی جائیداد منقولہ و غیرمنقولہ آپکے اور آپکے بیوی بچوں کے نام تھی؟

جب آپکی حکومت کا تختہ الٹا گیا تب آپکی کتنی جائیدادیں ضبط ہوئیں اور کتنی واپس کر دی گئیں، کتنے اکاؤنٹس منجمد ہوئے اور کتنے اثاثے ضبط ہوئے؟ جب آپ جلاوطنی اختیار کر کے سعودی عرب گئے تو حکومت کی اجازت سے کتنا پیسہ باہر لے کر گئے اور کتنا منی لانڈرنگ کے ذریعے سعودیہ پہنچایا گیا، بہ ایں ہمہ اس میں شہبازشریف کا کیا کچھ تھا اور آپکا کیا کیا تھا؟ جلاوطنی اختیار کرتے وقت آپکے بیوی بچوں کے نام پر کیا کچھ تھا، اس کی تفصیل ظاہر کریں؟ سعودی عرب میں رہ کر آپ نے کیا کاروبار شروع کیے، کیا وہ آپکے نام پر تھے، آپکی بیوی کے نام پر تھے یا آپکے بچوں کے نام پر‘ اور کس کس بچے کے نام پر کیا کیا تھا؟ بچوں کی شادی سے پہلے ان کے نام پر کیا کیا ملکیت تھی اور آج ان کے فرداً فرداً اثاثے کیا ہیں؟ سعودی عرب میں جو فیکٹریاں/مِلیں تھیں وہ کس کے نام پر تھیں اور کیا وہاں ٹیکس ادا کیا، اگر کیا تو تفصیلات کیا ہیں؟

لندن میں جو پراپرٹی خریدی، اس کے پیسے کہاں سے لیے اور جہاں سے وہ پیسے لندن ٹرانسفر کیے ان کی بینک سٹیٹ منٹ ظاہر کریں؟ جو آف شور کمپنیاں آپ نے 1993-94ء میں برٹش ورجن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ کروائیں، ان کے اکاؤنٹس تو ایک قاضی فیملی کے نام پر تھے، یہ کمپنیاں آپ نے مریم نواز کے نام پر کب منتقل کیں اور حسن نواز ان میں کب شریک ہوئے؟ لندن میں کمپنیاں اور پراپرٹی خریدنے کے لیے جو پیسہ استعمال میں لایا گیا، اس پر کتنا ٹیکس ادا کیا گیا، اس کی تفصیل عام کریں؟ آف شور کمپنیاں بنانے کے لیے پیسہ کس بینکنگ چینل سے باہر لیجایا گیا؟

جنیوا کے بینک سے جو لاکھوں ڈالرز کا آپکے بچوں نے قرض لیا وہ کب اتارا گیا اور وہ پیسہ کہاں سے آیا؟ اگر آپکا دامن صاف تھا تو آپ نے دونوں بیٹوں اور بیٹی کو پاناما کی خفیہ مالیاتی پناہ گاہوں میں شیل کمپنیاں بنانے کی اجازت کیوں دی؟ جو کمپنیاں آپکے بچوں کے نام رجسٹرڈ ہیں ان کا منافع معہ ٹیکس ریٹرن ظاہر کیا جائے؟ دنیا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے پر مائل کرتے ہیں، آپکے بچے یہاں کیوں سرمایہ کاری نہیں کرتے؟ جب جلاوطنی کاٹ کر واپس آئے تو آپ کتنا سرمایہ پاکستان لائے اور کس چینل سے لائے؟ جلاوطنی کے بعد آپکے ہاتھ جو جائیداد آئی اس کی کیا تفصیل ہے؟

2013ء کے الیکشن میں گوشواروں میں کیا اثاثے ظاہر کیے اور اب آپکی مالی پوزیشن کیا ہے، کتنی پراپرٹی ہے اور کتنا ٹیکس دیا ہے؟ جنابِ وزیراعظم! یہ سب وہ سوالات ہیں جن کا آپکو بہرحال جواب دینا ہو گا، ورنہ حساب دینا ہو گا، اس لیے کہ آپ ملک کے سربراہ ہیں اور آپکا عہدہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اپنی نجی و عوامی زندگی کھلی کتاب کی طرح عوام کے سامنے رکھ دیں۔ اگر آپ معصوم ہوئے تو وقت کا قاضی آپ کو بیگناہ ثابت کر دیگا اور اگر آپ کا دامن واقعی داغدار نکلا اور آپ پر لگائے گئے الزامات سچ ثابت ہوئے یا آپ اس سے بھی بڑھ کر گنہگار نکلے تو پھر آپ کو کوئی حق نہ ہو گا کہ آپ اس مظلوم ملک و قوم کا پیسہ لوٹ کر اسی پر حکمرانی کے مزے بھی لوٹیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔