ہمیں یقین ہے!

آفتاب احمد خانزادہ  جمعـء 16 نومبر 2012
آفتاب احمد خانزادہ

آفتاب احمد خانزادہ

17اپریل 1905۔ ملزم کو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی عدالت کا جج انگریز تھا اس کا نام کرنل جیمس تھا جج نے ملزم کو مخاطب کر تے ہوئے پوچھا ۔

تم نے اپنے خلاف فرد جرم سن لی کیا یہ صحیح ہے کہ تم نے تخر یب کاری،لا قانو نیت اور تشدد کے ذریعے دہشت پسندوں کے ساتھ شریک ہو کر ہزمجسٹی کی قانو نی اور جا ئزحکو مت کا تختہ الٹنے کی سازش کی اور غداری کے جرم کے مر تکب ہوئے۔ ملزم چند لمحے سرکو جھکا ئے خاموش کھڑا رہا پھر اس نے گردن اونچی کی اور جج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پھر نہا یت سکون سے جواب دیا ۔استغا ثہ کی جانب سے میرے جس اقدام کو تخریب کا ری قرار دیا گیا ہے اسے میں غلا می اور ظلم و ستم سے نجا ت حاصل کر نے کے لیے آزادی کی جدوجہد کہتا ہوں۔

حکومت کی تعزیرا ت میں جس قانونی اصطلاح کو دہشت گر دی کہا جا تا ہے وہ حر یت پسندوں اور انقلابیوں کا سب سے مو ثر ہتھیار ہوتا ہے ہر لڑائی کے اپنے ہتھیار اور اسلحہ ہوتے ہیں۔ نام بدل دینے سے ہتھیاروں کی نوعیت اورخاصیت نہیں بدل جا تی۔ استغا ثہ نے جسے لا قانونیت بتایا ہے میرے نزدیک وہ قانون فطرت ہے۔ یہ قانون بتاتا ہے کہ یہ اپنا چھینا ہوا حق واپس لینا لا قانو نیت نہیں عین قانون ہے اور یہ ہی با ت میں تشدد کے با ب میں کہنا چا ہتا ہوں جب کسی قوم کی آزادی طا قت اور تشدد کے بل بو تے پر چھین لی جا ئے تو اسے واپس لینے کے لیے طا قت اور تشدد ہی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔

طاقت سے نبر د آ زما ہو نے کے لیے طاقت ہی کو استعمال کیا جا تا ہے کوئی بھی آزا دی کوئی بھی جمہوری حق خیرا ت یا بھیک میں نہیں ملتا اسے صر ف سر دھر کی بازی لگا کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔اگر غلام ہندوستان کی آزادی کے لیے جدو جہد کرنا سازش اور غداری ہے تو مجھے اپنے سازشی اور غدار ہو نے کا اعتراف ہے میں اپنے جرم کا اقبال کرتا ہوں ۔ ملزم نے اپنا بیان ختم کیا تو عدا لت پرگہرا سنا ٹا چھا گیا۔ جج کر نل جیمس کا چہرہ غصے سے سرخ پڑ گیا مگر اس نے ملزم کا بیان نہایت صبر وسکون سے سنا پھر اس نے ملزم کو مخا طب کر کے در یا فت کیا تمہیں اپنی صفائی میں کچھ اور کہنا ہے۔ جی نہیں ملزم نے نہا یت سنجید گی سے کہا اس کے بعد عدا لت برخاست ہو گئی۔

23اپریل کو مقد مے کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی اس روز عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سنا تے ہوئے کہا ملزم نے چونکہ اپنے جرم کا اقبال کر لیا لہٰذا اسے ہزمجسٹی کی قانو نی حکومت کیخلا ف سازش اور غداری کرنے کے جرم میں سزا ئے مو ت دی جا تی ہے۔ یہ ملزم مولانا برکت اللہ بھوپالی تھے ان کا تعلق ہندوستانی انقلا بیوں کی اس اولین نسل سے تھا جس نے سب سے پہلے برطانو ی سامراج کی عملداری کے خلاف مسلح جدوجہد کا پرچم بلند کیا ۔ شاعر جان ملٹن نے کہا ہے ایک مر تبہ جنگ چھڑ جا ئے تو عمو ما ً اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک حق وصداقت تشدد کے جنگل سے آزاد نہیں ہو جاتے۔ یہ آزا دی ہمیں بھیک یا خیرا ت میں نہیں ملی۔

ہزاروں لو گوں نے اس کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں جیلیں کاٹیں‘ فا قے کیے ہزاروں حریت پسندوں کو گولی مارکر قتل کیا گیا سیکڑوں کو خلیج بنگال میں غرق کر کے نہا یت سفا کی کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا ان کی لا شیں کئی رو ز تک خلیج بنگال کے ساحلوں پر تیر تی رہیں بعد میں یہ لا شیں مچھلیوں کی خو راک بن گئیں ان کی تعداد 3ہزار سے او پر تھی۔ ہزاروں مجاہدین آزا دی کو توپوں کے منہ سے باندھ کر اس طرح اڑا یا گیا کہ ان کے جسموں کے چیتھڑے اڑ گئے۔ لاشوں کا نام ونشان تک با قی نہ رہا نہ کسی کا جنازہ اٹھا نہ کہیں مزار بنا۔ تحریک آزا دی کے دوران خو ن کے فوارے چلتے رہے لاشیں تڑپتیں اور ٹھنڈ ی ہو تی رہیں بازاروں میں لاشوں کے ڈھیر لگتے رہے۔

ہم پر قائد اعظم اور ہمارے اجداد کا احسان ہے کہ ہم آج آزا د ملک کے با شندے ہیں لیکن جہاں آج زندگی ایک بار چُورچُورہے سماج زخم خو رد ہ ہے۔ ہر طرح کی یکجہتی کی گر دن پر ننگی تلوار لٹک رہی ہے انسان نر غے میں ہے انسانیت کراہ رہی ہے ۔ ہمیں آواز دے رہی ہے کل ہمارے بزرگوں نے ان آوازوں کو سنا آج ہماری با ری ہے ذرا سنجید گی سے غور کرو ہما را پو را وجو د خطر ے میں ہے ہماری وحدت کے پر خچے اڑ رہے ہیں۔ دہشت گر دی اور انتہا پسندی ہماری جڑ وں کو کھو کھلا کر رہی ہے اگر آزا دی کے بعد پاکستان میں تر قی پسند جمہو ری بنیادوں پر چلنے وا لا معا شرہ قائم ہو جا تا تو کچھ عر صہ میں ما ضی کی نا انصافیوں کا ازالہ ہو جا تا تمام علاقوں اور قومیتوں کے برا بری کی بنیاد پر تر قی کے امکانا ت پیدا ہو جاتے ۔ ایسی صورتحال میں قو می جبر اور نابرابری کی بنیادوں کو منہدم کر کے ایک متوازن معا شرہ تخلیق کیا جا سکتا تھا۔

تقسیم ہند کے وقت ہندوستان کا سر ما یہ دار طبقہ زیا دہ با لغ ،ترقی یا فتہ اور منظم تھا ۔ یہ طبقہ انیسویں صدی کے وسط میں وجو د میں آ گیا تھا اور اس نے اپنے مقا صد کے حصول کے لیے کانگریس پار ٹی قائم کی اس کی قیا دت میں ایسے رہنما مو جو د تھے جو تعلیم یافتہ اور اچھی انتظا می صلا حیتوں کے مالک تھے چنانچہ تقسیم ہند کے بعد ان کی قیادت میں کانگریس پار ٹی نے جب حکو مت سنبھا لی تو انھیں سول اور فو جی افسر شا ہی کو اپنے زیر نگیں رکھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی جب کہ یہ صورتحال پاکستان میں وجو د میں نہ آ سکی یہاں سر مایہ دار اور جاگیردار دونوں معاشی طبقا ت کے طور پر نوزائیدہ ،نا تجر بہ کار اور انتظا می صلاحیتوں سے بے بہرہ تھے ۔

پاکستان کے جا گیردار اپنی موجودہ شکل میں انگریزوں کی پیداوار ہیں انھوں نے اس طبقے کو تخلیق کیا جا گیر داروں کی واضح اکثر یت جا ہل ان پڑھ ملکی امو ر سے بے خبر اور انتظا می اعتبار سے نا اہل تھی۔ قیا م پاکستان سے پہلے یہ جا گیر دار چھو ٹے چھو ٹے سرکاری اہلکاروں کی منت خو شا مد کر تے تھے اور ان کے مقابلے میں اپنے آپ کو بے وقعت سمجھتے تھے اور یہ ہی حال قبائلی سرداروں کی اکثر یت کا تھا۔ پاکستان میں سر ما یہ دار طبقہ افسر شا ہی کی امداد اور سر پر ستی کے نتیجے میں وجو د میں آ یا اور پروان چڑ ھا یہ لو گ بھی تعلیمی اعتبار سے پسماند ہ اور انتظامی صلاحیتوں سے عا ری تھے۔ جاگیر داروں اور سر مایہ داروں کے بر عکس افسر شا ہی زیا دہ تعلیم یا فتہ اور منظم تھی ۔

سرکاری افسر حاکم طبقا ت کی کمزور یوں سے آگاہ تھے اور ان کا استعمال کر نا جانتے تھے چنانچہ قیام پاکستان کے فو را ً بعد افسر شا ہی نے اقتدار پر قبضہ کر نا شروع کر دیا اور اس کا م میں مسلم لیگ نے ان کی مدد کی۔ ادھر 1949 میں ہی ہم قائد اعظم کے سیکو لر ازم کے نصب العین سے منہ مو ڑ چکے تھے اس وقت کے حکمرانوں نے اپنی گر تی ہوئی سیا سی مقبو لیت کو بحال کر نے کے لیے مذہب کا سہارا لینا شروع کر دیا ۔ وہ چیخنے لگے اسلام خطرے میں ہے وہ غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ہر مخالف آواز کو دبا نے کے لیے یہ نعر ہ کا فی ہو گا۔ 1969 میں جنرل یحییٰ کے وزیر جنرل شیر علی نے اعلان کر دیا کہ اسلا می نظریہ ہی نظریہ پاکستان قرار پا ئے گا اس کے لیے درسی کتب از سر نو لکھوائی گئیں ۔ جنرل ضیاء کے دور میں بھی اس سلسلے میں بڑا کام کیا گیا ۔ نتیجے میں انتہا پسندی کو پہلے ہی رو ز سے عروج ملنا شروع ہو گیا۔

آمرتیوں نے اس پر جلتی پر پیٹرول کا کام کیا اس کے ساتھ ساتھ سیا سی جما عتیں ، سیاست دان نا اہل بد دیا نت اور ملک دشمن قرار پائے گئے۔ سیا ست کو گالی قرار دے کر ہو ٹلوں اور دکانوں پر تک ’’سیا سی گفتگو منع ہے‘‘ کے بور ڈ آویزاں کیے گئے۔ عوام کو جتنا بد حال اور تقسیم کیا جا سکتا تھا کیا گیا۔ ان سب خرابیوں کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔

ٹی ایس ایلیٹ نے کہاہے ہمارا شعور و ادر اک جیسے جیسے ہمارے گر د و پیش کی دنیا بد لتا ہے خو د بھی بد لتا رہتا ہے مثلا ہما را شعور و ادراک وہ نہیں ہے جو چینیوں کا ہندوئوں کا تھابلکہ وہ اب ویسا بھی نہیں ہے جیسا کئی سو سال قبل ہمارے اجداد کا تھا یہ ویسا بھی نہیں جیسا ہمارے باپ دادا کا تھا بلکہ ہم خو د بھی وہ شخص نہیں ہیں جو ایک سال پہلے تھے ۔یا د رکھیے ۔ ایک صحیح جنبش ستر ہزار بر ہنہ تلواروں کے مقابلے میں زیا دہ کار آمد جنگ ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ مو لا نا بر کت اللہ بھو پا لی سمیت ہزاروں لوگوں کی قربانیاں رائیگا ں نہیں جائیں گی۔ ہمیں قائد اعظم ، علا مہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر کا انتظار ہے اور آخری وقت تک رہے گا ۔پو ری امید پو رے یقین اور مکمل اعتما د کے ساتھ کہ وہی ہو گا جو انھوں نے تصور کیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔