یہ امریکی جرنیل اور دوسرے جرنیل

عبدالقادر حسن  جمعـء 16 نومبر 2012
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

گورے چٹے لوگوں نے اپنے الیکشن میں کالوں کے ایک کالے امیدوار کو اور وہ بھی دوسری بار اپنا صدر منتخب کر لیا اور اس طرح ان پر بھی گویا ہلکا سا کالا رنگ بھی چڑھ گیا مگر یہ اس پر خوش ہیں۔

ان کی جمہوریت نے دنیا کی غالب ترین طاقت ہونے کے باوجود ان کی جو نئی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی، اس نے ان کی طاقت مزید بڑھا دی۔ ان کی جمہوریت نے انھیں جیسا بنانا چاہا، وہ بلا تامل ویسے ہی بن گئے۔ یہ امریکی قوم کی جیت اور اس کے طاقت ور ہونے کا ایک جواز ہے۔ یہ امریکی اگرچہ ان مسلمانوں کو دنیا بھر میں تہس نہس کرنے کی فکر میں ہیں، ان میں سے کوئی ایک حسین نامی شخص اور وہ بھی کالا ان کے صدر کا باپ تھا۔ یہ سب ان کے جمہوری تحمل اور فیصلے کی اطاعت کا ایک مظہر تھا۔ وہ ہماری بددعائوں کے باوجود اس امتحان میں کامیاب رہے۔ نیا امریکا اس کی وزیر خارجہ کے الفاظ میں دنیا کا سردار اور ذمے دار ہے۔

اس کی اس برتری اور بالادستی کو تسلیم کیا جاتا ہے، اس لیے اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی اس محکوم دنیا کو امن بھی دے گا اور اپنے ملک کے کمزور کالوں کی طرح دنیا بھر کی کمزور قوموں کو تحفظ دے گا۔ قطع اس کے کہ یہ قومیں فی الحال اپنی بے عملی بلکہ بد عملی کی وجہ سے کمزور ہیں لیکن وجہ کچھ بھی ہو، وہ سب انسان ہیں اور انسان کمزور بھی ہوا کرتے ہیں ، اس لیے ان سے زندگی چھینی نہیں جا سکتی۔ دراصل میں امریکا کے عشق پیشہ جرنیلوں کی بات کرنا چاہتا تھا کہ بیچ میں امریکا کا ذکر بھی کرنا پڑا۔

یہ جرنیل اپنی اندھی مشرقی طرز کی محبت کی وجہ سے رسوا ہوئے ہیں یہاں سادات نہیں ہوتے ورنہ اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی والی بات تھی۔ کسی جرنیل کی محبوبائیں جب ایک سے زیادہ ہوئیں تو وہ ظاہر ہے کہ لڑ پڑیں اور اس رقیبانہ جنگ میں سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔ اس میں دو تین جرنیل پھنس گئے اور ہمارے تعجب کی بات ہے کہ ان جرنیلوں نے اپنے خلاف یہ فیصلہ شرافت کے ساتھ کسی کو ایڈیٹ کہے بغیر قبول کیا۔ یہ ان کی فراخ دلی تھی ورنہ ان میں سے کسی ایک جرنیل کی طاقت بھی ہمارے کئی جرنیلوں سے زیادہ ہے۔

ہمارے کچھ جرنیل تو وہ تھے جو کسی کرپشن کے الزام میں پھنس گئے لیکن یہ بے فکر رہیں ہم نے تو ان کے ایک پیٹی بند بھائی اور بڑے جرنیل کو پورا ملک دے دیا مگر اُف نہ کی۔ جنرل محمد یحییٰ خان جرنیلوں کے جرنیل تھے، ان کے دور اقتدار میں ملک کے دونوں حصوں میں اختلاف بہت ہی زیادہ بڑھ گیا اور ملک ٹوٹ گیا۔ سنا ہے کہ اس ناقابل برداشت سانحے کے باوجود موصوف اپنی صدارت پر بضد تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اس بدنام زمانہ عیاش جرنیل کو کانٹا تک نہ چبھویا اور اس کے دور میں ایوان صدر عیاشی کا ایک اڈا بنا رہا، قاعدے کے مطابق صدر صاحب کے ملاقاتیوں کی فہرست تیار ہوتی ہے کہ کوئی کس وقت آیا، اکیلا تھا یا اس کے ساتھ کوئی اور بھی تھا، وہ کتنی دیر ایوان صدر میں ٹھہرا اور کب واپس گیا۔

ایوان صدر کا متعلقہ اہلکار یہ ریکارڈ رکھتا ہے اور وہ محفوظ ہوتا ہے۔ یحییٰ خان سے ملنے ہمارے بڑے نامی گرامی حضرات معہ بیگمات کے رات کے کسی پہر میں جایا کرتے تھے اور ان کی ملاقات کا دورانیہ اور آمدورفت ریکارڈ کی جاتی تھی۔ یہ ریکارڈ اب بھی موجود ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بعض اشراف اصل میں کیا ہیں۔ یہ سرکاری خزانے سے رقم لینے سے زیادہ بڑا اسکینڈل ہے۔ میں تو رپورٹنگ چھوڑ چکا اور میرے سورسز تتر بتر ہو گئے جو دوست اب بھی رپورٹنگ کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، ان کے لیے صلائے عام ہے کہ وہ صدارتی ملاقاتوں کا یہ زیادہ تر شرمناک ریکارڈ حاصل کر کے ووٹروں کے سامنے پیش کر دیں لیکن پھر بھی کیا ہو گا، اس کے لیے کوئی امریکی معاشرہ چاہیے جو کسی سیاستدان حکمران اور کسی بڑے جرنیل وغیرہ کی ایسی بدعنوانی کو قبول نہیں کرتا۔ یورپ کے دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی یہ روایت مستحکم ہے۔

عام آدمی کچھ بھی کرتا رہے لیکن بڑا آدمی صاف ستھری زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ اس سے پہلے حال ہی میں فرانس میں ایسی مثال گزر چکی ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ کوئی قوم بڑی قوم تب ہی بنتی ہے جو بڑی روایتیں بھی رکھتی ہے اور ان کی برملا پابندی کرتی ہے جو قوم کسی جرنیل کی بداعمالی سے ملک تک تڑوا دے اور چپ رہے وہ بڑی قوم تو کجا زندہ رہنے کی حقدار بھی ہے یا نہیں۔، اس کا فیصلہ کرنا ہو گا۔ جو ہو بھی رہا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ جن سیاستدانوں کے نام پر رشوت نکلی ہے ان کو الیکشن لڑنے سے کون روکے گا۔ برائی سے روکنے کے لیے روکنے والے ہاتھ بھی ہونے چاہئیں۔

امریکا نے اپنے جرنیلوں کی اس نازک وقت میں خبر لے کر اپنی بڑائی کا ثبوت دیا ہے جب کہ یہ جرنیل حالت جنگ میں ہیں۔ ہم نے بڑے قومی مجرموں کو یحییٰ خان اور نیازی کو بھی فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا ہے۔ ڈرون حملے ہم پر نہ ہوں تو کس پر ہوں۔ ہمارے بے گناہ پاکستانیوں کو بلا تکلف مارا جا رہا ہے۔ امریکا اپنے کسی مطلوبہ شخص کو آرام کے ساتھ بلاتکلف لے جاتا ہے اور ہمیں حکم ہوتا ہے کہ اس آپریشن کے دوران منہ پرے کر لیں، ادھر ادھر رہیں۔ امریکا کا صدر دونوں میں سے کوئی بھی منتخب ہو جاتا، دونوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ڈرون حملے جاری رکھیں گے۔ کمزور پر سے غصہ کس کا اترتا ہے۔ بہر حال امریکا اور پاکستانی جرنیلوں اور دونوں قوموں کی اخلاقیات کا موازنہ آپ کرتے رہیں ہم تو کالم ختم کرتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔