طالبان مفاہمت کے قابل نہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے، افغان سفیر

طاہر خان  پير 16 مئ 2016
طالبان نے امن مذاکرات میں شامل ہونے سے اعلانیہ طور پر انکار کر دیا ہے، افغان سفیر۔ فوٹو: فائل

طالبان نے امن مذاکرات میں شامل ہونے سے اعلانیہ طور پر انکار کر دیا ہے، افغان سفیر۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر ذاخیل وال نے کہا ہے کہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ طالبان کو’ناقابل مفاہمت ‘ قرار دیا جائے کیونکہ طالبان نے امن مذاکرات میں شامل ہونے سے اعلانیہ طور پر انکار کر دیا ہے۔

ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو تصدیق کی کہ پاکستان، افغانستان، چین اور امریکا پر مشتمل اس کمیٹی کا اجلاس18مئی کو اسلام آباد میں ہوگا۔چاروں ممالک کے خصوصی نمائندے اجلاس میں شریک ہونگے۔افغانستان میں اس بارے میں بحث جاری ہے کہ اس اجلاس میں شریک ہوا جائے یا نہیں کیونکہ انہیں بہت کم امید ہے کہ ایسے اجلاسوں کا کوئی فائدہ ہوگا۔

افغان امن عمل شروع کرنے کی کوششوں کو اس وقت شدید دھچکہ لگا تھا جب افغان طالبان نے حکومت سے براہ راست امن مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے بہار آپریشن شروع کردیا۔کابل سے ٹیلی فون پر ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو میں افغان سفیر نے کہاکہ ہمیں توقع ہے کہ چار ملکی کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ اجلاس میں طے پانیوالے روڈ میپ پر عملدرآمد پر اتفاق کیا جائیگا۔

اس روڈ میپ میںمذاکرات شروع ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں رکن ممالک کی جانب سے اپنے طور پرکچھ اقدامات کرنیکا فیصلہ کیاگیا تھا۔اب جبکہ طالبان نے مذاکرات میں شامل ہونے سے انکارکردیا ہے تو اب دوسرا راستہ ہی اپنا ہوگا۔انھوں نے کہاکہ اب طالبان کو ناقابل مفاہمت قرار دیتے ہوئے انکے خلاف کارروائی کی جائے جیساکہ روڈ میپ میں طے کیا گیا تھا۔

افغان سفیر نے کہاکہ دو روز قبل انکی جنرل راحیل شریف سے ملاقات میں طور خم بارڈرکے علاوہ بھی کئی معاملات اورآگے بڑھنے کیلئے کچھ ٹھوس اقدامات زیر بحث آئے۔ انھوں نے کہاکہ افغان حکومت ہمیشہ سے مذاکرات کیلیے تیار رہی ہے تاہم تشدد سے مذاکرات کی عوامی اورسیاسی حمایت میںکمی ہوئی اورمذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے نہیں رہ سکتے۔انھوں نے کہاکہ انھیں ابھی بھی یقین ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن میں اہم اور تعمیری کردار اداکرسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے پاس امن کے سواکوئی چارہ نہیں تاہم بداعتمادی کی فضا کوختم کرنا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔