آخر کیا وجہ ہے کہ سندھ حکومت میرٹ پر کوئی کام نہیں چاہتی، چیف جسٹس پاکستان

ویب ڈیسک  منگل 31 مئ 2016
سندھ حكومت بھرتیوں میں قوائدو ضوابط پر عمل درآمد كیوں نہیں كرتی ہم بہتری كی دعا ہی كرسكتے ہیں، جسٹس انور ظہیر جمالی، فوٹو؛ فائل

سندھ حكومت بھرتیوں میں قوائدو ضوابط پر عمل درآمد كیوں نہیں كرتی ہم بہتری كی دعا ہی كرسكتے ہیں، جسٹس انور ظہیر جمالی، فوٹو؛ فائل

 اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا ہےکہ آخر کیا وجہ ہے کہ سندھ حکومت میرٹ پر کوئی کام نہیں چاہتی اور سندھ کے عوام کے ساتھ امتیازی رویہ کیوں ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں جیکب آباد کے شعبہ صحت میں 276 غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق از خود کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے معاملے پر بنائی گئی انكوائری كمیٹی كی رپورٹ 2 ہفتوں میں طلب كرلی۔ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوكیٹ جنرل سندھ سرورخان، سیكرٹری صحت، درخواست گزار اكبر علی كھوسو ودیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ سرور خان نے بھرتیوں سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش كرتے ہوئے بتایا كہ جیكب آباد شعبہ صحت (ڈی ایچ او) كے تحت گریڈ ایك سے 16  تك 276 غیر شفاف بھرتیوں كے معاملے پر انكوائری كمیٹی تشكیل دے دی گئی ہے جو ایك ماہ میں اپنی رپورٹ پیش كرے گی۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے ریمارکس میں کہ آخر كیا وجہ ہے كہ سندھ حكومت نہیں چاہتی كہ میرٹ پر كام ہو، سندھ كی ملازمتوں پر سندھ ہی كے لوگ بھرتی ہوں گے، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے لوگ آكر بھرتی نہیں ہوں گے تو پھر سندھ كی عوام كے لیے یہ امتیازی رویہ كیوں ہے، كیا سندھ كے سب لوگ برابر نہیں، سندھ حكومت بھرتیوں میں قوائدو ضوابط پر عمل درآمد كیوں نہیں كرتی، ہم بہتری كی دعا ہی كرسكتے ہیں۔

دوران سماعت جسٹس امیر ہانی مسلم نے كہا اشتہار كے بغیر لوگ بھرتی كیے گئے، جب گھر بیٹھے درخواستیں سائن ہوكر بھرتیاں ہوں گی تو میرٹ کا کیا ہوگا، عدالت كو بتایا جائے كہ اشتہار دیا گیا، بھرتیوں كے لیے كیا پراسس اختیار كیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔