ماہ صیام کا خوشیوں بھرا پیغام

 جمعـء 3 جون 2016
حضوراکرم ﷺ فرماتے ہیں"جنت کے 8 دروازے ہیں ایک دروازے کا نام ریان ہے اس دروازے سے روزہ دار کے سوا اور کوئی داخل نہ ہوگا:فوٹو : فائل

حضوراکرم ﷺ فرماتے ہیں"جنت کے 8 دروازے ہیں ایک دروازے کا نام ریان ہے اس دروازے سے روزہ دار کے سوا اور کوئی داخل نہ ہوگا:فوٹو : فائل

حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے بھی کھول دیے جاتے ہیں۔

٭ روزہ دار جنت میں ریان دروازے سے داخل ہوگا
حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ ایک دروازے کا نام ریان ہے۔ اس دروازے سے روزہ دار کے سوا اور کوئی داخل نہ ہوگا۔
شارحِ احادیث فرماتے ہیں کہ اس دروازے کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ریان جنت کا وہ دروازہ ہے جس کی طرف کثرت سے نہریں جا ری ہیں۔ اس کے قریب پھل، پھول، شگوفے اور چمن ہیں جو نگاہوں کو تازگی اور دلوں کو سُرُور بخشتے ہیں یا ریان دروازے کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جو اس دروازے کی طرف پہنچے گا روز قیامت حشر کی تشنگی اُس سے دور ہوجائے گی اور طراوت و لطافت دائمی حاصل ہوگی۔

مقصد سے غافل ہوکر بھوکا پیاسا رہنا مفید نہیں
’’بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ انہیں ان کے روزہ سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے راتوں کو کھڑے رہنے والے ہیں کہ ان کو اور کچھ حاصل نہیں ہوتا مگر جاگنا۔‘‘ یعنی بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا ان کے پَلّے کچھ نہیں پڑتا اور بہت سے راتوں کو عبادت کرنے والے لوگ ایسے ہیں کہ اس قیام و عبادت سے رت جگے کے سوا ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا۔

روزہ افطار کرانے کا ثواب
’’جو شخص اس مہینے میں کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے وہ اُس کے لیے گناہوں کی بخشش کا سبب ہو تا ہے اور دوزخ کی آگ سے نجات کا ذریعہ اور روزہ دار کے ثواب کے برابر اُس کو ثواب ملتا ہے اور اُس سے روزہ دار کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی روزہ افطار کرانے والے کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس روزے دار کو روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ روزے دار کے اجر میں کوئی کمی ہو۔ (بیہقی)

روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانے والا
’’جو شخص روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے تو اﷲ اس کو میرے حوض سے سیراب فرمائے گا، ایسا کہ پھر کبھی اس کو پیاس نہ لگے یہاں تک کہ وہ جنت میں جائے۔‘‘ (بیہقی)

کس چیز سے روزہ افطار کرے
’’جو شخص تم میں سے روزہ افطار کرنا چاہے ا س کو چاہیے کہ وہ کھجور سے افطار کرے اس لیے کہ کھجور برکت کا سبب ہے اور اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرے اس لیے کہ پانی پاک کرنے والا ہے۔‘‘ ( ابوداؤد ۔ ترمذی۔ ابن ماجہ)

روزے دار کے لیے دو خوشیاں
نبی اکرم نور مجسم ﷺ فرماتے ہیں کہ ’’روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی تو افطار کے وقت حاصل ہوتی ہیں۔ دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی۔‘‘ یعنی ایک فرحت تو وقتِ افطار حاصل ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایمان دار بندہ ادائے فرض سے عہدہ بر ہوتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے کہ نفس کی خواہشیں مخلِ عبادت نہ ہو سکیں اور میرا آج کا فرض پورا ہوگیا اور دوسری فرحت اور خوشی اپنے پروردگار عالم سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی جب ہر صحیح العقیدہ مسلمان رب العالمین کو بے حجاب و بے نقاب دیکھ لے گا۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ مسلمان قیامت کے دن اﷲ تعالٰی کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح چودھویں کے چاند کو دیکھتے ہیں اور اس میں کسی قسم کا شک نہیں کرتے ہیں۔

روزے دار کے منہ کی بُو خدا تعالیٰ کو مُشک سے زیادہ پسند ہے
سرور کائنات ﷺ فرماتے ہیں ’’ روزہ دار کے منہ کی بُو خداوند عالم کو مُشک سے بھی زیادہ پسند ہے۔‘‘ (بخاری) اس حدیث میں روزے دار کی بے حد و بے شمار عزت افزائی کی ہے۔ سبحان اﷲ وہ پاک و بے نیاز غنی ہے، اپنے بندے پر یہ کرم نوازی فرما رہا ہے کہ اس کے منہ کی بدبو کو بھی مشک سے زیادہ پسند فرماتا ہے۔

رمضان میں شیاطین کی گرفتاری
نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں ’’جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں۔‘‘ (بخاری)

اِس حدیث پر ایک سوال وارد ہوتا ہے کہ انسان شیطان کے بہکانے سے گناہ کرتا ہے۔ جب ماہ رمضان میں شیاطین اور سرکش جن قید کردیے جاتے ہیں تو پھر چاہیے کہ رمضان میں کسی آدمی سے گناہ سر زد نہ ہو۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گناہ کے صدور میں شیطان کی طرح انسان کے نفسِ امّارہ کو بھی دخل ہے۔ شیطان کے قید ہوجانے کے بعد صرف نفس امّارہ کی مداخلت کی بنا پر گناہ صادر ہوتے ہیں اور یہ شیاطین ہی کے قید ہوجانے کی وجہ ہے کہ رمضان میں اﷲ کے ایمان دار بندے طاعت و عبادت میں مشغول ہوجاتے ہیں بل کہ عام لوگ بھی نیکی طرف مائل ہوجاتے اور بدیوں اور گناہوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ چناںچہ اگر نفس امّارہ کو بھی مُقیّد کرلیا جاتا تو بالکل گناہ نہ ہوتے، اگرچہ شیاطین آزاد رہتے۔ چناںچہ وہ لوگ جو اپنے نفس اور اس کی خواہشات پر قابو پالیتے ہیں وہ رمضان میں اور غیر رمضان میں بھی ان سے بالکل گناہ صادر نہیں ہوتے۔ لہٰذا حدیث کا مطلب واضح ہے کہ رمضان میں شیاطین مقید کر دیے جاتے ہیں اسی وجہ سے اس ما ہ مقدس میں گناہوں میں کمی ہوجاتی ہے۔

رمضان میں نیکیوں کی طر ف متوجہ ہونا چاہیے
ترمذی شریف کی حدیث میں حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ ’’رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ایک بھی دروازہ بند نہیں رہتا اور ایک منادی فرشتہ یہ پکارتا ہے۔ ’’اے طالب خیر متوجہ ہو، اے طالب شر بدی سے باز رہ۔‘‘

اِس حدیث سے معلوم ہو ا کہ ماہ رمضان تقوٰی کا مہینہ اور پرہیز گا ری کے دن ہیں۔ طلب گارِ رحمت و مغفرت کو صدائے عام ہے اور منادی غیب ندا کرتا ہے کہ اُمیدوارِ ثواب آئیں اور گناہ گار گناہ سے باز رہیں۔ جیسے موسم ربیع میں سبزہ زاروں کو موافق آب و ہوا ملتی ہے اور بادِسموم کے زہریلے اثرات اور تباہ کاریوں سے ان کو محفوظ رکھتی ہے، اسی طرح رمضان مبارک میں خدا شناسوں اور دین داروں کے لیے رحمت و کرمِ الٰہی کی بارش ہوتی ہے اور ان کو برباد کرنے والے دشمن شیاطین کو قید کردیا جا تا ہے۔

رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر ملتا ہے
شعبان کے آخر دن میں نبی کریم ﷺ نے وعظ کے دوران فرمایا ’’اور جس نے اس ماہ میں نیکی کا کا م کیا تو وہ اس طرح کہ اس نے کسی اور مہینے میں فرض ادا کیا اور جس نے اس ماہ میں کوئی فرض ادا کیا تو وہ ایسا ہے کہ اس نے اور مہینوں میں میں ستر فرض ادا کیے۔‘‘ ( مشکوٰۃ )

اس حدیث شریف میں رمضان مبارک کے فیوض و برکات کا بیان ہے کہ رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر ملتا ہے اور اس طرف اشارہ بھی ہے جو شخص اس ماہ مبارک میں بھی نیکیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا وہ بہت ہی بدنصیب ہے۔

روزہ اور قرآن شفاعت کر یں گے
نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ روزہ اور قرآن دونوں شفاعت کریں گے۔ روزہ دربارِ الٰہی میں عرض کرے گا الٰہی میں نے اس کو کھانے اور رغبت کی چیزوں سے باز رکھا ہے میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما۔ قرآن کہے گا، میں نے ا س کو شب میں آرام کرنے سے روکا ہے، میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما۔ حضور اکرم فرماتے ہیں، اﷲ تعالیٰ دونوں کی شفاعت قبول فرمائے گا۔

جہنم سے آزادی کا پروانہ
حضور نبی کرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ’’ رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس کا اول رحمت، اوسط مغفرت اور آخر دوزخ سے آزاد ی ہے۔‘‘ (مشکوۃ) یعنی رمضان المبارک کے پہلے عشرہ میں اﷲ عز و جل روزے داروں پر ایک خاص رحمت نازل فرماتا ہے، پھر دوسرے عشرہ میں گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے، تیسر ے عشرہ میں جہنم سے آزادی کا پروانہ مل جاتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جواس ماہ مبارک میں روزہ رکھ کر جہنم سے آزاد ی کا پروانہ حاصل کرتے ہیں۔

روزہ افطار کرانے کا ثواب
حضرت زید بن خالدؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’جس نے روزہ دار کو افطار کرایا یا غازی کو سامانِ جہاد دے کر تیار کیا تو اس کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا۔‘‘ اس حدیث شریف میں یہ بتایا گیا کہ جو شخص غازی اور مجاہد کو سامان ِ جہاد دیتا ہے اور وہ اس کے دیے ہوئے سامان کے ساتھ میدان کارزار میں جاکر لڑتا ہے، تو جتنا ثواب غازی کو ملے گا اتنا ہی ثواب غازی کو سامان جنگ دینے والے کو اﷲتعالیٰ عطا فرمائے گا اور افطار کرانے والوں کو بھی اسی قدر ثواب ملے گا اور دونوں کے ثواب میں ہرگز کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔

مشکوٰۃ شریف کی دوسری حدیث میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے روزہ افطار کرانے کی فضیلت بیان فرمائی تو صحابہ کرام رضی اﷲتعالیٰ عنہم نے عرض کیا یارسول اﷲ ﷺ! ہم میں ایسے اشخاص بھی ہیں جو کسی کا روزہ کھلوانے کی طاقت ہی نہیں رکھتے (یعنی بے حد غریب ہیں) اس کے لیے جواب میں آپؐ نے فرمایا ’’ اﷲ تعالیٰ ایسا ثواب اس کو بھی عطا فرمائے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کرائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا تو اس کو اﷲ تعالیٰ میرے حوض سے پلائے گا جو کبھی پیاسا نہ ہوگا۔‘‘ ( مشکواۃ)

اس حدیث شریف میں یہ بھی ظاہر کردیا گیا کہ روزہ کھلوانے کا جو عظیم الشان ثواب ہے وہ امراء ہی کے لیے نہیں ہے بل کہ اگر غریب بھی یہ ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ ایک گھونٹ پانی سے ہی کسی کا روزہ افطار کرا دے تو اس کو بھی اسی قدر ثواب ملے گا جتنا کہ اس روزہ دار کو۔
اﷲ تعالی ہمیں رمضان کا احترام کرنے اور اس ماہ مبارک کی برکت سے ہمیں جہنم سے آزادی دے، ہمیں سکون قلب کی دولت سے نواز دے اور ہماری تنگ دستی دور فرما کر ہمیں کشادہ رزق حلال عطا فرمائے۔ آمین
(علامہ سید محمود احمد رضوی )

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔