رمشا مسیح کیخلاف توہین رسالت کا مقدمہ خارج کرنے کا حکم، تفتیشی افسر

نمائندہ ایکسپریس / بی بی سی  بدھ 21 نومبر 2012
چیف جسٹس اقبال حمیدالرحمن نے محفوظ فیصلہ سنایا،رمشاء اوراسکی فیملی کوبدستورخطرہ ہے،سیکیورٹی نہیںہٹائی،اہلکار وزارت داخلہ۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس اقبال حمیدالرحمن نے محفوظ فیصلہ سنایا،رمشاء اوراسکی فیملی کوبدستورخطرہ ہے،سیکیورٹی نہیںہٹائی،اہلکار وزارت داخلہ۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان نے رمشا مسیح کیخلاف درج توہینِ قرآن کا مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیا ہے،عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا ۔

منگل کو سنائے گیے فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ رمشاء کوکسی نے قرآن پاک کے اوراق جلاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ،کسی مسلم یا غیر مسلم کیخلاف سنی سنائی بنیادوں پر مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا جواز نہیں بنتا اور نہ ہی کسی کیخلاف مذہبی عقائد کی بنیاد پر الزامات لگانے چاہئیں۔عدالت نے قرار دیا کہ قرآن کے پاک کی بے حرمتی سے متعلق بغیر کسی ثبوت کے الزام لگانے سے گریزکیا جانا چاہیے۔ قرآن پاک کے معاملات انتہائی حساس نوعیت اختیارکر سکتے ہیں ۔

عدالت نے اپنے 15 صفحات پر مشتمل فیصلے میں رمشا کیخلاف 16 اگست2012ء کو اسلام آبادکے تھانے میں مقدس اوراق کی بے حرمتی کا مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔بی بی سی کے مطابق فیصلے میںکہاگیا یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور کسی مسلم یا غیر مسلم کیخلاف بے بنیاد اور غلط الزامات نہیں لگانے چاہئیں۔

پاکستان کی تاریخ میں رمشا وہ پہلی کمسن ہیں جن پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا،وزارتِ داخلہ کے اہلکار نے بتایا کہ رمشا کانام مقدمے سے خارج ہونے کے باوجود اْن کی اور اْن کے اہلخانہ کی سیکیورٹی واپس نہیں لی جائے گی کیونکہ ان کی زندگی کو اب بھی خطرات لاحق ہیں۔اس کیس کے تفتیشی افسر منیر حسین جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے کے دوسرے ملزم اور مقامی مسجدکے پیش امام خالد جدون کیخلاف کارروائی چلتی رہے گی۔ مقدمے کا حتمی چالان متعلقہ عدالت میں جمع کرادیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔