پاکستان کا مستقبل آپ کے کچن میں ہے

سید معظم حئی  اتوار 5 جون 2016

دریائے سندھ کے بغیر پاکستان کیا کرے گا؟ اور آپ پانی کے بغیر کیا کریں گے؟ جی ہاں پانی جس کی پاکستان کے بہت سے علاقوں میں ابھی بھی بہت کمی ہے، مثلاً کراچی جہاں پچھلے کچھ سالوں میں پہلے واٹر سپلائی سے کلورین غائب ہوئی اور کتنے ہی انسان نگلیریا کے جراثیم سے ہلاک ہوئے پھر واٹر سپلائی میں سے واٹر ہی غائب ہو گیا، جو اب کئی کئی ہزار کے عوض واٹر ٹینکر سے سپلائی کیا جاتا ہے مگر آپ تب کیا کریں گے جب پانی ہو گا ہی نہیں اور جس رفتار سے ’’کاروبار جمہوریت‘‘ ترقی پذیر اور پاکستانی کرنسی روبہ زوال ہے اس حساب سے مستقبل میں شاید فی بالٹی پانی ہزاروں کا پڑے۔

’’فیلڈ مارشل‘‘ ایوب خان کے پاکستان کے تین دریا بھارت کے حوالے کرنے کے بعد اب ہمارا تقریباً سارا ہی دار و مدار دریائے سندھ پر ہے، مگر دریائے سندھ بھی اب شاید زیادہ عرصے ہمارے ساتھ نہ چل سکے۔ پچھلے سال پارلیمانی ٹاسک فورس برائے Sustainable Development Goals کے ممبران کو ایک پریزینٹیشن کے دوران Met آفس کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور (WMO) World Meteorological Organization کے نائب صدر ڈاکٹر قمر زماں چوہدری نے بتایا کہ ہمارا 70 سے 80 فی صد پانی گلیشیئرز سے آتا ہے تاہم ہو سکتا ہے کہ 30 سے 40 سال میں دریائے سندھ میں پانی ہی نہ رہے، کیونکہ اس وقت تک درجہ حرارت میں اضافے اور آلودگی سے تمام گلیشیئرز پگھل چکے ہوں گے۔

دوسری جانب بھارت کی طرف سے دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر 38 پراجیکٹ کی تعمیر پر نہ ہمارے سابق حکمرانوں نے کچھ کہا اور کیا نہ اب  دریائے چناب کا پانی روکنے کی بھارتی کوششوں پر موجودہ حکمران کچھ کہتے یا کرتے پائے جاتے ہیں۔ ہماری ’’جمہوری‘‘ و غیر جمہوری حکمرانوں میں یہ خوبی مشترک رہی ہے کہ وہ بھارت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں نہ کچھ کہتے ہیں نہ کرتے ہیں اور پاکستان کی یہ خوبی ہے کہ جو اس ملک کے ساتھ جتنا اچھا کرتا ہے۔  یہ اس کے ساتھ اتنا ہی برا کرتا ہے خیر ہم تو اب کیا ہی بدلیں گے مگر بدقسمتی سے ہمارے موسم بدل رہے ہیں، جن سے دنیا بھر کے ممالک متاثر ہو رہے ہیں مزید بد قسمتی سے پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے۔

پچھلے سال لاوارث کراچی میں گرمی کی شدت سے تقریباً 1500 انسان ختم ہو گئے، اس سال بھی کئی جگہوں پر خطرناک حد تک گرمی بڑھی ہے مثلاً جہاں بستی سے لے کر لاڑکانہ تک درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک گیا وہیں حیدرآباد میں 18 مئی کو 49 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ 84 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ پاکستان اور ہماری زندگیوں کا دارومدار پانی پر ہے اور پانی کا دار و مدار موسم پر اور موسم کا ہمارے ماحول پر اور ہمارے ماحول کا ہمارے شہری و سماجی رویوں اور درختوں پر ہے پانی کا مسئلہ آپ کا مسئلہ ہے، ہر مسئلے کی طرح اسے حکومت پر نہ چھوڑیے۔

ہمارے حکمران طبقے والوں کا کاروبار جائیدادیں اور بچے دبئی، لندن، نیو یارک، ممبئی، میڈرڈ وغیرہ میں ہیں پاکستان ان کے رہنے کی نہیں مال بنانے کی جگہ ہے یہاں موسم شدید گرم ہو جائے ماحول تباہ، دریا سوکھ جائیں انھیں کوئی پرواہ نہیں ورنہ دنیا بھر میں متروک قرار پانے والے کوئلے سے بجلی کے پلانٹ لگانے کے بجائے جنگی بنیادوں پر پورے ملک میں درخت لگواتے۔

اس ملک کے موسم اور پانی کو خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے آپ کو خود ہی کچھ خیال کرنا ہو گا لہٰذا یاد رکھیے کہ پاکستان کا مستقبل آپ کے کچن میں ہے جی ہاں آپ کے کچن میں جہاں لگا ہوا ہے ایک عدد سنک ایک عدد نل سمیت جس سے روز نجانے کتنے ہی لیٹر صاف پانی گٹر لائنوں کی نذر ہو جاتا ہے گٹر لائنوں میں جانے والا پانی دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو صابن، برتن دھونے والے پاؤڈر یا محلول، گھی، تیل، چکنائی وغیرہ سے آلودہ ہوتا ہے، دوسرا وہ جو صابن وغیرہ کے بغیر پھل، سبزیاں، انڈے، برتن ہاتھ، منہ وغیرہ دھوتے وقت گٹر میں جاتا ہے، براہ کرم اس پانی کو ایسے ضایع ہونے سے بچا لیجیے اور یہ کام بہت آسان ہے بس ایک سادہ سی بالٹی اور ایک بڑا سا پیالہ یا تشلہ چاہیے۔

آپ جب بھی کبھی صابن، پاؤڈر، سالن، چکنائی وغیرہ کے بغیر پانی استعمال کریں تو ایسا اس  پیالے یا تشلے کو سنک کے نل کے نیچے رکھ کر کریں پیالے کا پانی بالٹی میں ڈالتے جائیں اور بھی کئی طرح کا پانی مثلاً واٹر کولر کی تہہ میں رہ جانے والا پانی جو عموماً پھینک دیا جاتا ہے آپ وہ بھی اس بالٹی میں ڈالتے جایئے بالٹی جب بھر جائے تو اس کا پانی پونچھنے، باتھ روم کی صفائی اور سب سے بڑھ کر پودوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ ایک اوسط لان مثلاً 500 گز کے گھر والے کی دن میں 2 بالٹیوں سے ’’ترائی‘‘ کر سکتے ہیں جی ہاں یہ پانی بچانا ہم نے اپنے گھر میں شروع کیا، پھر یہ آرٹیکل لکھا ہے کیوں کہ خدا کو یہ پسند نہیں کہ ہم وہ بات کریں کہ جس پر خود عمل نہیں کرتے۔

آسٹریلیا میں سڈنی کی MACQUARIE یونیورسٹی کی مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے طلباء نے A ctive Organic Spring Water کی منرل واٹر کی بوتلوں کے ساتھ خصوصی ٹیگز لگائے جن پر یہ حدیث مبارکؐ درج تھی جس میں خدا کے آخری رسولؐ وضو تک میں پانی ضایع کرنے سے منع فرماتے ہیں۔ چاہے کوئی نہر کنارے ہی کیوں نہ ہو۔ ہماری مساجد کے اکثر محترم امام صاحبان جو ہمیں جمعۃ المبارک کی تقاریر میں اکثر و بیشتر ہمارے ’’سارے‘‘ گناہ مختلف عبادتوں کے ذریعے معاف کروانے کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں، اگر ان ’’دوسری‘‘ باتوں کی بھی تلقین فرما دیا کریں تو کتنا ہی اچھا ہو اس کرپشن، سنگدلی، بے حسی، بے ایمانی، خود غرض زدہ معاشرے کے لیے۔

اب ذرا ہم تھوڑا سا حساب کر لیتے ہیں، روز کے 2 بالٹی پانی بچنے کا مطلب کم از کم تقریبا ً20 لیٹر ہے۔ پاکستان کے صرف ایک کروڑ گھروں میں بھی اگر یہ معمول شروع ہو جائے تو ہر روز 20 کروڑ لیٹر پانی یعنی ایک سال میں 73 ارب لیٹر پانی بچ کے کسی کام آ جائے گا۔ 73 ارب لیٹر بنتے ہیں 2.57 ارب کیوسک ہمارے ہاں اونچے درجے کے سیلاب کے دوران ہی کبھی کبھار ہمارے دریاؤں سے چھ سے آٹھ لاکھ کیوسک پانی کے ریلے گزرتے ہیں۔

آپ اپنا فائدہ دیکھیے ایک طرف پانی کے بچائے گئے ہر قطرے پر ثواب، دوسری طرف پودوں، درختوں سے فائدہ اٹھانے والے تمام انسانوں، جانوروں، کیڑے مکوڑوں کے فائدہ اٹھانے کا ثواب، پھر آپ کے مجموعی طور پر کم پانی استعمال کرنے سے نجانے کتنے ہی لوگوں کو پانی میسر آ سکے گا اس کا الگ ثواب، پانی بچے گا، درخت لگیں گے، موسم بہتر ہو گا، بڑھتا ہوا درجۂ حرارت رکے گا تو شاید گلیشیئر پگھلنے سے بچ جائیں، ہم دریائے سندھ کھونے سے بچ جائیں۔ پاکستان کا مستقبل ریگستان ہونے سے بچ جائے کیا آپ اب بھی یہ تھوڑا سا خیال نہیں کریں گے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔