قانون کی بالادستی کے تصور کو یقینی بنائیے

مقتدا منصور  پير 6 جون 2016
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

دوستوں کی محفل سجی ہوئی تھی، ہلکی پھلکی گفتگو ہو رہی تھی۔ اس دوران ایک دوست نے سوال داغ دیا کہ افغانستان کے وزیر ریلوے کا نام کیا ہے؟ اس اچانک سوال پر تمام شرکا ہڑبڑا گئے۔ ایک دوست نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ جب وہاں ریلوے ہی نہیں ہے، تو ریلوے کا وزیر کیونکر؟ اس پر پہلے دوست نے پوچھا کہ آیا پاکستان میں قانون نام کی کوئی چیز پائی جاتی ہے، تو پھر یہاں وزیر قانون کیوں ہوتا ہے؟ سب دوست اس سوال پر ہنس دیے۔ یہ تو ایک مذاق تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں آئین و قانون پر عملداری کا تصور بہرحال ناپید ہے، جس کی ان گنت مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

پاکستان میں ان 68 برسوں کے دوران مختلف امور پر عمدہ قانون سازی بھی ہوئی ہے اور ضمیر جھنجھوڑنے والے عدالتی فیصلے بھی سامنے آئے۔ چونکہ ہمارے یہاں قانون کی عملداری کا کوئی کلچر نہیں ہے، اس لیے شاذونادر ہی کوئی ایسا قانون یا فیصلہ ہو گا، جس پر مکمل عمل ہو سکا ہو۔ اس سلسلے میں ایک ایسے عدالتی فیصلے کا تذکرہ ضروری ہے، جو دو برس قبل یعنی 19 جون 2014ء کو ازخود نوٹس لیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں دیا تھا۔ یہ فیصلہ ملک کی عدالتی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر دو برس گزر جانے کے باوجود اس میں دی گئی ہدایات کی کسی ایک شق پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔ سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ یہ عدالتی فیصلہ کیا تھا؟ اس کا پس منظر کیا تھا؟ اور اسے دینے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟

اگر غیرجانبداری کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو تقسیم ہند کی بنیاد ہی مذہبی منافرت پر رکھی گئی تھی۔ اس لیے ابتدائی چند دہائیوں کے دوران جو واقعات ہوئے، حکومت نے انھیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ مثلاً 1953ء میں لاہور سمیت پنجاب کے بعض شہروں میں ہونے والے متشدد فرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں ملک کی تاریخ کا پہلا مارشل لا نافذ ہوا۔ جسٹس منیر مرحوم کی زیرقیادت ایک اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم ہوا، مگر اس کمیشن کے فیصلوں اور سفارشات پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح 1963ء میں خیرپورمیرس کے علاقے ٹھیری میں ہونے والے فرقہ ورانہ تصادم پر مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل ایک عدالتی کمیشن قائم ہوا تھا۔ مگر اس کی رپورٹ بھی آج تک منظرعام پر نہیں آ سکی۔ ان واقعات اور حکومتی عدم دلچسپی نے ان قوتوں کو مضبوط ہونے کا موقع فراہم کیا جن کی سیاسی قوت کا محور مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت کا پھیلاؤ ہے۔

1980ء کے عشرے میں جب جنرل ضیاالحق نے مذہب کو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، تو مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت نے انسٹیٹیوشنلائزڈ شکل اختیار کر لی۔ حکمرانوں کی غلط حکمت عملیوں، جن میں افغانستان میں مذہب کی بنیاد پر جنگجو جتھوں کی سرپرستی اور کشمیریوں کی قومی آزادی کی تحریک کو مذہبی رنگ دینے کی کوششوں نے پاکستان کے اندر ایک مخصوص سوچ کو مضبوط اور مستحکم ہونے کا موقع فراہم کیا۔ جسے عوام کی طرف سے سیاسی تائید تو حاصل نہیں تھی، لیکن ریاستی مقتدرہ کی زیر سرپرستی اس نے اپنی عسکری طاقت میں بے پناہ اضافہ کر لیا۔ جس کے نتیجے میں یہ عناصر اس قدر بااثر ہو گئے کہ ریاستی فیصلہ سازی پر حاوی ہونے لگے۔ کسی ایک مخصوص طرز فکر کے یوں طاقت حاصل کر لینے کے نتیجے میں دیگر طبقات کے لیے دشواریاں پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے، جس کا اظہار وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ 1980ء کے عشرے سے مذہبیت (Religiosity) کے مظہر (Phenomenon) نے انسٹیٹیوشنلائزڈ شکل اختیار کی۔ جب کہ 9/11 کے واقعے کے بعد حکومت پاکستان نے امریکی دباؤ کے تحت جب یوٹرن لیا، تو جس طرح 1990ء کی پہلی عراق جنگ کے نتیجے میں اسامہ بن لادن امریکا کا مخالف ہوا تھا، اسی طرح افغانستان میں برسرپیکار جنگجو جتھے پاکستان مخالف ہو گئے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ 2001ء کے بعد سے پاکستان میں بم دھماکوں، خودکش حملوں اور مخالفین کی ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات سیلاب کی مانند اس ملک کے طول و عرض میں پھیل گئے۔ اسی دوران دو برادر اسلامی ممالک کے درمیان سرد جنگ شروع ہو گئی، جس کے اثرات بھی پاکستان کی سرزمین پر زیادہ شدت کے ساتھ نمایاں ہونے لگے۔

سیاسی قوت کے حصول کے لیے مذہبی شدت پسند عناصر نے ایک طرف ریاست پر دباؤ بڑھانے کے لیے بم دھماکے، خودکش حملے اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ جب کہ دوسری طرف اپنی فرقہ وارانہ دھاک بٹھانے کے لیے دیگر مسالک و عقائد کے ماننے والوں پر مسلح حملوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں سب سے کریہہ عمل ملک میں آباد 3 فیصد کے لگ بھگ غیر مسلموں کے ساتھ بڑھتا ہوا متشدد امتیازی سلوک ہے۔ مسیحی کمیونٹی کی عبادت گاہوں کے علاوہ ان کی بستیاں نذر آتش کی گئیں۔

اس دوران سندھ، جو صوفیا کی تعلیمات کے زیر اثر متحمل مزاجی اور رواداری کی طویل تاریخ رکھتا تھا، ایسے واقعات رونما ہونا شروع ہوئے، جو اس کے شہریوں کی اجتماعی فطرت کے بالکل برعکس تھے۔ سب سے پہلے ہندو ساہوکاروں کا اغوا برائے تاوان کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کے بعد ہندو دوشیزاؤں کو اغوا کر کے انھیں زبردستی مسلمان مردوں کے نکاح میں دینے کا گھناؤنا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 2011ء اور  12ء کے دوران سیکڑوں کی تعدا میں ہندو گھرانے امریکا، کینیڈا اور بھارت منتقل ہوئے۔ اخباری رپورٹس پر حکومتوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ اسی اثنا میں مارچ 2014ء میں لاڑکانہ شہر جہاں ہندو آبادی کل آبادی کا 10 فیصد کے لگ بھگ ہے اور خاصی حد تک متمول ہے، وہاں دھرم شالہ کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اس کے بعد شکارپور میں ایک امام بارگاہ میں بم دھماکا ہوا جس میں درجنوں قیمتی جانیں ضایع ہوئیں اور سیکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔

گزشتہ ایک دہائی سے بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی، جب کہ خیبر پختونخوا میں لبرل طبقہ شدت پسند عناصر کی زد پر تھا۔ نتیجتاً پشاور میں چرچ پر حملے نے عدالت عظمیٰ کو ازخود نوٹس لینے پر مجبور کیا۔ یوں طویل کارروائی کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی کی قیادت میں ایک بنچ نے یہ تاریخی فیصلہ دیا۔ اپنے فیصلے میں بنچ نے آئین کی شق 20، 32، 36 اور 199 کا بالخصوص حوالہ دیا۔ آئین کی یہ شقیں شہریوں کے اپنے عقیدے پر قائم رہنے، اس کی تبلیغ کرنے اور اپنی عبادت گاہیں تعمیر اور ان کی حفاظت کرنے کی آزادی دیتی ہیں۔ کسی مذہب اور عقیدہ کے ماننے والوں پر یہ پابندی عائد کرتی ہیں کہ وہ کسی دوسرے کے عقیدے اور مذہبی رسومات کی آزادانہ ادائیگی میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ عدلیہ نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے تربیت یافتہ ٹاسک فورس قائم کرے، ان کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے پرامن ماحول مہیا کرے۔

اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ دو برس گزر جانے کے باوجود عدلیہ کے اس فیصلہ پر عمل کیوں نہیں ہو سکا؟ اس سوال کے کئی جوابات ہیں۔ اول، حکمران اشرافیہ مختلف نوعیت کی مصلحتوں کا شکار ہونے کی وجہ سے اس فیصلے پر عملدرآمد میں غیر سنجیدہ ہے۔ دوئم، وہ غیر ریاستی عوامل جن کا 5 فیصد سے بھی کم عوامی مینڈیٹ ہے، ریاستی منتظمہ کی زیر سرپرستی Nuisance قوت بن  کر سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ سوئم، لبرل تصورات کی دعویدار سیاسی جماعتیں بھی اس مسئلے پر دو ٹوک موقف اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ حالانکہ وہ غیر مسلموں کو مساوی حقوق دینے اور مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی دعویدار ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک سے مختلف طبقات کے ساتھ روا رکھا گیا امتیازی سلوک  ختم کیا جائے۔ حکومت دیگر عدالتی فیصلوں کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر مذہبی اقلیتوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے دو سال قبل دیے گئے فیصلے پر عملدر آمد کو یقینی بنا کر غیر مسلم اقلیتوں کو اس ملک کے مساوی شہری ہونے کا یقین دلائے۔ ان اقدامات کے بغیر ملک میں ترقی اور جمہوری اقدار کے فروغ کا تصور نامکمل رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔