حکومت فوجی یا مذہبی

03332257239@hotmail.com

[email protected]

سکندر اعظم کے باپ فلپ نے مقدونیہ کی فوج کو اعلیٰ جنگی طاقت میں بدل کر رکھ دیا تھا۔ فلپ کے قتل کے بعد سکندر بیس سال کی عمر میں تخت پر بیٹھا۔ ارسطو کے شاگرد نے طاقتور ایرانیوں اور پھر بابل کے بعد افغانستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو اکھاڑ پھینکا۔ سکندر کو یقین تھا کہ یونانی تمدن ہی صحیح معنوں میں حقیقی تہذیب ہے۔ منظم فوج، اہل سالار اور ذاتی شجاعت کی بدولت سکندر نے درجن بھر ممالک اور نصف کروڑ کلومیٹر کا رقبہ 33 سال کی عمر میں فتح کرلیا۔ جانشیں نہ ہونے کے سبب سکندر کی سلطنت اس کی موت کے بعد اس کے سپہ سالاروں میں تقسیم ہوگئی۔ غور کیجیے کہ حکومت کرنے کا پہلا طریقہ کیا رہا ہے؟ فوجی طاقت۔ جولیس سیزر بھی سکندر کی طرح قبل از مسیح کا جنرل تھا جس نے کبھی شکست کا منہ نہ دیکھا۔ سینیٹ کے اختیارات واپس نہ دینے پر اس کو گھیر لیا گیا۔ کئی افراد نے سیزر کی گردن پر وار کیے جن میں اس کا دوست بروٹس بھی شامل تھا۔ آخری سانس لیتے ہوئے سیزر نے حیرت سے کہا ’’بروٹس تم بھی‘‘۔

جس طرح سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اسی طرح وقت نے ثابت کیا ہے کہ دنیا بھر میں حکومت کرنے کا ایک ابتدائی طریقہ رہا ہے اور وہ ہے فوجی طاقت۔ جس خاندان، قبیلے، گروہ یا قوم کے پاس جب تک فوجی طاقت رہی اس وقت تک ان کی حکومت برقرار رہی۔ جب اسلحے کی یہ طاقت کسی دوسرے کے ہاتھ میں آگئی تو اس نے حکومت شروع کردی۔ دنیا بھر میں سکندر، سیزر، محمود غزنوی، چنگیز خان، امیر تیمور، نادر شاہ اور نپولین بونا پارٹ اسی لیے ہیروز رہے ہیں کہ ان کی بہادری اور جنگی صلاحیت ہی اس دور کی حکومتوں کا سبب رہی ہوتی ہے۔ جب وقت گزرنے کے ساتھ ایک برسر اقتدار طاقت کمزور ہوتی ہے تو دوسرا گروہ اس سے حکومت چھین لیتا ہے۔ اس کا سبب بھی نئے آنے والوں کی فوجی طاقت ہی ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں جمہوریت کی عمر تین سو سال سے زیادہ نہیں۔ اس سے قبل ہزاروں برسوں کی تاریخ میں حکومت کرنے کا ایک ہی طریقہ رائج رہا ہے۔ کون اقتدار پر بیٹھے گا؟ اس کا فیصلہ ہمیشہ میدان جنگ میں ہی ہوتا رہا ہے۔ جس کی تلوار کی کاٹ جتنی تیز ہوتی اس کی کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے۔ ہر فوجی حکومت اسی وقت تک قائم رہی جب تک اس کے سربراہ نے ’’شمشیر سناں اول‘‘ کا نعرہ اپنے سامنے رکھا۔ جب جب اور جہاں جہاں ’’طاؤس و رباب آخر‘‘ کا نظریہ بھلا کر حکومتیں عیش و عشرت کا شکار ہوگئیں تو ان کے دور عروج کو وقت آخر بنانے سے کوئی نہ روک سکا۔ فوجی طاقت کے ساتھ ایک نظریہ بھی ہوتا ہے جس کی بدولت حکومت قائم رہتی ہے اور کمانڈ کرنے والے اپنا فلسفہ نافذ کرتے ہیں۔

دس ہزار سالہ تاریخ کا ابتدائی سبق یہی ہے کہ فوجی طاقت کے بغیر کبھی کسی کی حکومت قائم نہیں رہ سکی۔ قوم، برادری، مذہب، علاقہ، تہذیب، خاندان اور کبھی کبھی معاشی خوشحالی بھی کسی فوج کو ایک جذبہ عطا کرتی ہے جس کی بنیاد پر وہ متحد ہوکر دشمن کو شکست سے دوچار کرتے ہیں۔ سپاہی اپنی جان کیوں دے؟ یوں ہر فوجی طاقت کے پیچھے کوئی نہ کوئی فلسفہ ہوتا ہے۔ سکندر کا خیال تھا کہ یونانی تہذیب سب سے برتر ہے اور اسے پوری دنیا پر حاوی ہونا چاہیے۔ یہی بات ہٹلر کہا کرتا تھا کہ ’’جرمن قوم دنیا پر حکومت کرنے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے‘‘۔ دماغ میں تہذیبی برتری کا خمار ہو اور ہاتھ میں تلوار ہو تو ہر فوجی اپنا نظریہ لاگو کرنے کی خاطر جان دینے کو تیار ہوجاتا ہے۔

حکومت کرنے کا دوسرا طریقہ جمہوری ہے۔ اس کی عمر تین سو سال کے لگ بھگ ہے۔ سکندر کی حکومت جانشیں نہ ہونے اور سیزر کا قتل اختیارات کی کشمکش کے سبب ہوا۔ بے شمار سلطنتیں اس لیے بکھر گئیں کہ اقتدار دوسرے کے حوالے کرنے کا کوئی پرامن طریقہ نہ تھا۔ بادشاہ کے بیٹوں اور جنرلوں کی جنگ ہزاروں لوگوں کو موت کے منہ میں لے جاتی۔ غوری، غزنوی، خاندان غلامان اور لودھی آپس کی کشمکش کے بعد کمزور ہوکر اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مغلوں میں کوئی بادشاہ ایسا نہیں جو اپنے خاندان، باپ یا بھائی سے اقتدار کے لیے نہ لڑا ہو۔

ہمایوں کو شروع میں اپنے پھوپھا مہدی خواجہ سے الجھنا پڑا تو آخر میں شیر شاہ سوری سے۔ اکبر اکلوتا تھا لیکن انارکلی کی خاطر اپنے بیٹے شہزادہ سلیم سے جنگ پر مجبور ہوا۔ جہانگیر کے خلاف اس کے بھائی خسرو نے علم بغاوت بلند کیا۔ شاہجہان نے اپنے کئی بھائیوں اور بھتیجوں کا قلع قمع کردیا۔ اورنگزیب نے اپنے بھائیوں دارا شکوہ، شجاع اور مراد کو قتل کردیا اور شاہجہان کو نظر بند۔ انگریزوں نے مغلوں سے کس بل بوتے پر حکومت چھینی؟ فوجی طاقت کی بنیاد پر۔ گورا کیوں کر برصغیر سے بھاگنے پر مجبور ہوا؟ ہٹلر کی فوجی طاقت نے برطانیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اسے کمزور کردیا تھا۔ اب وہ اپنی سورج نہ ڈوبنے والی سلطنت کو قائم رکھنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔

رومن امپائر اور سلطنت عثمانیہ فوجی طاقت کے بل بوتے پر صدیوں تک دنیا پر حکومت کر گئیں۔ جب اسلحے زنگ آلود ہونے لگے اور شراب و شباب کی مستی حاوی ہوگئی یا کوئی دوسرا گروہ زیادہ طاقتور ہو گیا تو ان کا خاتمہ ہوگیا۔ پچھلی صدی کے آخر میں امریکا و روس کیوں کر سپر پاور بن کر سامنے آئے؟ صرف اور صرف فوجی طاقت کی بدولت۔ آج چین سپر پاور بننے جا رہا ہے تو اس کا ایک سبب فوجی طاقت بھی ہے۔ برتر تہذیب یا اعلیٰ قوم یا بہترین مذہب یا معاشی خوشحالی ایسے جذبات ہیں جو فوجی طاقت میں توانائی بھر دیتے ہیں۔

اگر واقعی حکومت کرنے کا دوسرا طریقہ جمہوری یا سیکولر نظام ہے تو کیا اس طریقے کے بعد دنیا میں امن قائم ہوگیا؟ پہلی اور دوسری عظیم جنگوں میں کروڑوں لوگ جان سے گئے۔ یہ جنگ مذہب کے نام پر نہ تھی کہ سب لڑنے والے عیسائی تھے۔ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد بھی دنیا بھر میں سیکڑوں بڑی اور ہزاروں چھوٹی جنگیں ہوئی ہیں جن میں کروڑوں لوگ قتل ہوچکے ہیں۔ پھر کیا کیا جائے؟ اب تین سوالات رہ جاتے ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر حکومتیں کامیاب رہیں؟ اصل خرابی کہاں ہے؟ حل کیا ہے؟

مذہب کی بنیاد پر قائم حکومتیں کامیاب رہی ہوں یا ناکام، کیا خاندان، قبیلے، زبان، تہذیب، ثقافت، قوم، جمہوریت، سیکولرزم، آمریت یا کمیونزم کی بنیاد پر قائم حکومتیں کامیاب رہی ہیں؟ کیا سیکولر بھارت میں کوئی دن ایسا گزرا ہے جب اقلیتوں کا قتل نہ ہوا ہو؟ کیا بنگلہ دیش میں ایک زبان، ایک تہذیب، ایک کلچر اور ایک مذہب کے ماننے والے ایک دوسرے کو قتل نہیں کرتے؟ ہندوؤں میں اپنے ہی ہم مذہب نچلی ذات کے لوگوں سے نفرت نہیں کی جاتی؟ دنیا بھر میں پانی کے ایک گلاس اور روٹی کے ایک ٹکڑے کی خاطر قتل نہیں ہوتے؟ افغانستان میں ایک ہی مذہب کے ماننے والے زمین کے ٹکڑے کے لیے نہیں لڑ رہے؟ غریب ملازم اپنے خوشحال مالک کو پیسے کی خاطر قتل نہیں کردیتا؟

اصل خرابی اور حل؟ اصل بات یہ ہے کہ انسان کے اندر خیر سے زیادہ شر ہے۔ وہ کسی نہ کسی بہانے سے دوسرے سے لڑنا چاہتا ہے اور اس پر اپنی مرضی تھوپنا چاہتا ہے۔ اسی کو حکومت کرنا کہتے ہیں۔ پہلے صرف فوجی طاقت سے حکومت ہوتی تھی اب اس میں عوامی طاقت بھی شامل ہوگئی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ انصاف کا بول بالا ہو۔ انسان خیر کی قوت سے شر کی قوت کو شکست دے۔

جہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیتے ہوں۔ جہاں کے حکمرانوں اور عوام میں زیادہ فرق محسوس نہ ہو۔ ان کی خوراک، رہائش، سواریوں اور علاج معالجے میں زمین آسمان کا خلا نظر نہ آئے۔ جہاں بڑے سے بڑا حکمران اپنے آپ کو قانون کی نظر میں عام شہری کے برابر سمجھے۔ اگر حکومتوں کے یہ انداز ہوں تو وہ چاہے فوجی حکومتیں ہوں یا مذہبی، سیکولر ہوں، کمیونزم کی علمبردار، جمہوری ہوں یا آمرانہ، اگر انصاف کا بول بالا ہے تو وہ کامیاب ہیں ورنہ ناکام۔ یقین جانیے کہ یہ شرپسند انسان پہلے صرف تلوار یا بلٹ کے ذریعے دوسروں پر حکومت کرتا تھا۔ اب بیلٹ کے ذریعے اس نے بظاہر مہذب طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ انصاف کا نظام ہو تو ہر حکومت میں عوام راضی ہوتے ہیں چاہے وہ حکومت فوجی ہو یا مذہبی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔