رینجرز کا ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ، بغیرتلاشی لیے واپس چلے گئے

ویب ڈیسک  منگل 7 جون 2016
میرے گھر پر کوئی مطلوب شخص موجود نہیں جس کی مکمل طو پر ضمانت دیتا ہوں، ڈاکٹر فاروق ستار، فوٹو؛ ایکسپریس/ محمد نعمان

میرے گھر پر کوئی مطلوب شخص موجود نہیں جس کی مکمل طو پر ضمانت دیتا ہوں، ڈاکٹر فاروق ستار، فوٹو؛ ایکسپریس/ محمد نعمان

 کراچی: رینجرز نے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کی رہائشی گاہ کا محاصرہ کرکے ان کے گھر آنے جانے والے راستوں کو بند کردیا تاہم کچھ دیر بعد اہلکار واپس روانہ ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق رینجرز نے کراچی کے علاقے  پی آئی بی کالونی میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار کی رہائش گاہ کا محاصرہ کیا اوراس دوران رینجرز کی بھاری نفری نے فاروق ستار کی رہائش گاہ کے اطراف تمام گلیوں کو مکمل طور پر بند کردیا۔ ذرائع کے مطابق رینجرز اہلکاروں نے موقع پر موجود میڈیا کے نمائندوں کو بھی کارروائی کی فوٹیج بنانے سے روک دیا تاہم اہلکار رہائش گاہ کے باہر موجود رہنے کے تھوڑی دیر بعد واپس چلے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ رینجرز کی اس کارروائی کے نتیجے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

فاروق ستار کا کہنا ہے کہ میں نے کارروائی پر ڈی جی رینجرز کو فون کیا مگر ان سے رابطہ نہیں ہوسکا، میرے گھر پر موجودگی کے دوران گھر کا دروازہ بندوقوں سے پیٹا گیا، مجھے گھر سے باہر بلانے کا یہ طریقہ نہیں، اگر میرے گھر میں کوئی چھپا ہے تو مجھے بتایا جائے۔ انہوں نے کہا میرے گھر پر کوئی مطلوب شخص موجود نہیں جس کی مکمل ضمانت دیتا ہوں جب کہ رینجرز کی اس کارروائی کی فوٹیج بنانے کی میڈیا کو بھی اجازت دی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری اہلیہ نے رینجرز اہلکاروں سے بات کی اور کارروائی کی وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہوئے تعاون کا یقین دلایا تاہم اس دوران اہلکاروں کی جانب سے کچھ نہیں بتایا گیا۔

ترجمان ایم کیو ایم کی جانب سے فاروق ستارکے گھرکے باہررینجرز کے محاصرے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب رینجرز ذرائع کا کہنا ہےکہ پی آئی بی کالونی میں چھاپہ رکن سندھ اسمبلی کامران فاروقی کی گرفتاری کے لیے مارا گیا، علاقے میں کامران فاروقی کی موجودگی کی اطلاع تھی جو رینجرز کو مطلوب ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس سے قبل بھی قانونی تقاضے پورے کیے لیکن کامران فاروقی حاضر نہیں ہوئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔