بھارت، امریکی سرپرستی میں

عبدالقادر حسن  بدھ 8 جون 2016
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

بات بہت جلد ہی واضح ہو گئی اگرچہ اس کی طرف بار بار اشارہ کیا جاتا رہا لیکن فریقین اپنی روایتی منافقت کی وجہ سے گول مول بات کرتے رہے۔ امریکا نے اب اعلان کر دیا ہے کہ وہ بھارت کی ایٹمی ترقی میں رکاوٹ نہیں بنے گا اور بھارت نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شامل کر لیا جائے گا۔ بھارت میں چھ ایٹمی ری ایکٹروں پر کام شروع ہونے کا خیرمقدم۔ بھارت کے وزیراعظم امریکی صدر سے ملنے گئے تو دونوں نے باہمی تعاون کا فیصلہ کیا۔

امریکی صدر اوباما نے صاف صاف کہا کہ بھارت کی ترقی امریکا کا ایک مقصد ہے اس ملک کو ایک ترقی یافتہ ملک ہونا چاہیے۔ بھارت اور امریکا کا یہ اتفاق رائے اور تعاون درحقیقت پاکستان کے خلاف ہے اور وجہ اس کی بڑی واضح ہے کہ پاکستان بڑے ملکوں کی مرضی کے خلاف ایٹمی طاقت بن گیا ہے اور وہ ابھی تک اپنے اساسی اسلامی نظریات سے انکار نہیں کر رہا اس طرح پاکستان ایک ناپسندیدہ ملک ہے اور اس کی اصلاح کی امید نہیں کی جا سکتی۔

پاکستان کے اسلامی نظریات ہی کیا کم تھے کہ اس نے ایٹم بم بھی حاصل کر لیا یعنی بنا لیا اب اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے اسی طرح نئی دنیا میں پاکستان اپنی امتیازی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے ایک اسلامی ملک بھی بن کر رہنا چاہتا ہے۔ یعنی یہ نظریات ہی کیا کم تھے کہ ان پر ایٹم بم کا اضافہ بھی ہو گیا۔ مشرقی دنیا میں بھارت جیسے بڑے ملک کے پڑوس میں ایسے پاکستان کا وجود قابل غور ہے جو تاریخی اعتبار سے بھارت کا ایک مخالف بلکہ دشمن ملک ہے اور بھارت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے چنانچہ بھارت کو تسلی دینے کے لیے امریکی صدر بار بار بھارت کے ساتھ تعاون اور اس کی مدد امداد کا اعادہ کرتے ہیں اس کا مقصد بھارت کو حوصلہ دلانے کے علاوہ پاکستان کو ڈرانا بھی ہو سکتا ہے لیکن پاکستان اور اس کے عوام کسی اور سے ڈریں یا نہ ڈریں وہ بھارت سے ہر گز نہیں ڈرتے۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف جنگیں لڑیں اور ان جنگوں میں امریکا وغیرہ جیسا کوئی ملک امدادی نہیں تھا لیکن اس بڑے بھارت کے خلاف پاکستانی ہمیشہ ڈٹ گئے۔

بھارت کو بھی اس کا بخوبی علم ہے اور وہ اسی خطرے سے بچنے کے لیے عالمی طاقتوں سے تعلقات قائم رکھتا ہے، بھارت نے پاکستان کو امریکا سے جہاز لینے میں رکاوٹ پیدا کر دی امریکا نے بھارت کی دلجوئی کے لیے اس کی بات مان بھی لی لیکن اس خصوصی مدد کے باوجود پاکستان پھر بھی بھارت سے ڈر نہیں رہا۔ اس کا کچھ بندوبست بہت ضروری ہے۔ دنیا کے لیے سب سے بڑا ڈراوا ایٹم بم ہے لیکن پاکستان نے یہ بم بنا کر اس کا ڈر بھی ختم کردیا، اب سوال یہ ہے کہ امریکا کے پاس اور کیا ہے جس سے وہ پاکستان کو ڈرا سکے۔ امریکا کسی بزدل اور لالچی پاکستانی کو تو ڈرا بھی سکتا ہے اور خرید بھی سکتا ہے لیکن پاکستانی قوم کا اس کے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔ یہ قوم باوجود اپنی کمزور خارجہ پالیسیوں کے اپنی آزادی اور مردانگی پر ڈٹی ہوئی ہے۔ امریکا بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی اکلوتی طاقت ہے لیکن دنیا کی تاریخ نے بتایا ہے کہ اصل طاقت کسی قوم کے اندر اس کے ایمان کی طاقت ہوتی ہے، امریکا کو اب تک پاکستان میں جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہ سب پاکستان کی متعلقہ کمزور قیادت کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

امریکا نے اپنے دشمن اسامہ کو پاکستان کی مہربانی یا سستی کی وجہ سے پکڑا ہے ورنہ امریکا کا یہ کھلا دشمن تو مزے کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ عرب کلچر کے مطابق ایک سے زیادہ بیویوں کے ساتھ اس کے دن رات گزر رہے تھے اور وہ بے فکر ہو کر پاکستان کی ایک بہتر آب و ہوا والے علاقے میں مقیم تھا اور ایک محفوظ اور چین کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ امریکا نے اپنے اس دشمن کو کیسے پکڑا، آپ اب یاد کیجیے کہ اس میں دنیا کی اس سپر پاور کا کتنا کمال تھا۔ بہرکیف پاکستان  رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ایک چھوٹا ملک ہونے کے باوجود چھوٹا نہیں ہے۔

کوئی پاکستانی حکمران چھوٹا ہو سکتا ہے نادان اور لالچی بھی لیکن پاکستانی قوم عظیم المرتبت مسلمانوں کی وارث اور انسانیت کے سب سے طاقت ور نظریے کی پیروکار ہے۔ پاکستان کی قومی تاریخ تیرہ سو برس سے ان تمام خرابیوں اور کمزوریوں سے محفوظ ہے جو اس کے بعض حکمرانوں میں موجود تھیں۔ یہ ایک کھلا سچ ہے کہ پاکستانی بھارت سے ڈرتے نہیں ہیں امریکا اپنے دارالحکومت کو بھی دلی کیوں نہ لے آئے پاکستانی غنیمت سمجھیں گے کہ اس کا شکار اس کے پاس خود ہی چل کر آ گیا۔

دنیا کے معاملات اور دشمنوں کی جنگیں طاقت اور عددی اکثریت کے بارے میں ہمارا نظریہ بالکل مختلف ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے خیمے میں تھکاوٹ اتار رہے تھے ذرا سی آنکھ لگی تھی کہ ایک جرنیل خیمے میں داخل ہوا کہ جناب دشمن کی فوج حد سے زیادہ تعداد میں میدان جنگ میں اتر آئی ہے آپ ایک جھلک دیکھ لیں اور جنگ کا پروگرام فی الوقت ملتوی کر دیں۔ سلطان نے کہا اچھا دیکھتے ہیں، سلطان نے خیمے سے نکل کر دشمن کی بے پناہ فوج کو یعنی جنگ کی حالت میں دیکھا جائزہ لیا اور اپنے جرنیلوں سے جو کہا وہ کوئی اللہ پر کامل یقین رکھنے والا ہی کہہ سکتا ہے۔

سلطان نے جذبات کی بلند کیفیت میں کہا کہ دیکھو دشمن اتنی بڑی تعداد میں کبھی نہیں ملے گا۔ کسی جنگ میں بھی دشمن اتنی فوج جمع نہیں کر سکتا یہ فوج تو پوری عیسائی دنیا کی فوج ہے اور قدرت نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم دشمن کی طاقت کو ملیامیٹ کر دیں۔ دشمن پھر کبھی اتنی تعداد میں نہیں ملے گا۔ یہ عکہ کا میدان تھا مورخ بتاتے ہیں کہ برسوں تک اس میدان سے انسانوں کی ہڈیاں برآمد ہوتی رہیں۔ مسلمانوں نے پوری عیسائی دنیا کے اس لشکر کو تہس نہس کر دیا۔

پوری دنیا کے لشکر فلسطین کو مسلمانوں سے آزاد کرانے میں لگے رہے لیکن انھیں کامیابی نہیں مل سکی۔ کئی بار عرض کی جا چکی ہے کہ مسلمان لشکر کا مقابلہ محض اسلحہ سے نہیں کیاجا سکتا کیونکہ ہر مسلمان سپاہی اللہ تعالیٰ پر بھروسے کی طاقت سے بھرا ہوا ملتا ہے۔ بھارت کے فوجی کہا کرتے ہیں کہ پاکستانی سپاہی کا مقابلہ آسان نہیں ہے وہ شکست کھانے پر تیار ہی نہیں ہوتا۔ ایک سکھ فوجی افسر نے ایک ملاقات میں بتایا کہ ہم سکھ اپنے آپ کو بہترین اور دلیر فوجی سمجھتے ہیں لیکن ہار جیت الگ بات ہے مسلمان سپاہی کو میدان جنگ سے بھگانا ممکن نہیں ہے وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا اور کسی اندرونی جذبے کی طاقت سے وہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ اب امریکا اس جوان کو شکست دینے کے لیے بھارت کی مدد کر رہا ہے اسے اس حماقت کا احساس ضرور ہوجائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔