کراچی میں شدید ٹریفک دباؤ کے باعث امتیازسپرمارکیٹ جزوی بند رکھنے کا حکم

ویب ڈیسک  جمعرات 9 جون 2016
 اگر مارکیٹ انتطامیہ نے احکامات کی خلاف ورزی کی تو پھر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی، اسسٹنٹ کمشنر۔ فوٹو: فیس بک

اگر مارکیٹ انتطامیہ نے احکامات کی خلاف ورزی کی تو پھر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی، اسسٹنٹ کمشنر۔ فوٹو: فیس بک

 کراچی: عدالت نے پارکنگ کی جگہ نہ ہونے اور شدید ٹریفک جام کے باعث گلشن چورنگی کے قریب واقع امتیاز سپر مارکیٹ دوپہر ساڑھے 3 بجے سے رات ساڑھے 9 بجے تک بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی شرقی نے ایک درخواست پر حکم دیا ہے کہ امتیاز سپر مارکیٹ کی  چند روز قبل گلشن اقبال میں موتی محل کے قریب کھلنے والی شاخ کی انتظامیہ ڈپٹی کمشنر شرقی کے ساتھ پارکنگ کے حوالے سے ہونے والے معاہدے پر عمل درآ مد میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، لہذا سپر مارکیٹ نئے احکامات آنے تک دوپہر ساڑھے 3 بجے سے رات ساڑھے 9 بجے تک بند رکھی جائے۔

عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جن اوقات میں سپر مارکیٹ کھلی رہے گی ان میں بھی علاقے کی نگرانی کی جائے گی اور اگر اس دوران بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی تو پھر سپر اسٹور کو مکمل طور پر بند کرنے کے احکامات بھی جاری کئے جا سکتے ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر شوکت علی نے امتیاز سپر مارکیٹ کو بند کرنے کے عدالتی احکامات کی تصدیق کرتے ہوئے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ اگر مارکیٹ انتطامیہ نے احکامات کی خلاف ورزی کی تو پھر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عام طور پر سپر مارکیٹ میں خریداری کے لئے آنے والوں کی 700 سے 800 گاڑیاں ایک وقت میں موجود ہوتی ہیں جب کہ مارکیٹ انتظامیہ کے پاس اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کے پارک کرنے کی گنجائش نہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی رک جاتی ہے اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں بھی طے نہیں ہوپاتا۔ مارکیٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس 300 گاڑیوں کی پارکنگ کی جگہ موجود ہے جب کہ صارفین کی سہولت کے لئے مزید پارکنگ کا بندوبست بھی جلد کرلیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔