کراچی : پانی کے عظیم منصوبے K4 کی منظوری

ایڈیٹوریل  جمعـء 10 جون 2016
امید ہے مذکورہ K-4 منصوبہ شہر قائد میں پانی کی قلت پر قابو پانے میں معاون ثابت ہو گا۔ نہروں کی بھل صفائی ہنگامی بنیادوں پر کرائی جائے۔ فوٹو : فائل

امید ہے مذکورہ K-4 منصوبہ شہر قائد میں پانی کی قلت پر قابو پانے میں معاون ثابت ہو گا۔ نہروں کی بھل صفائی ہنگامی بنیادوں پر کرائی جائے۔ فوٹو : فائل

اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے بالآخر 25 بلین روپے کے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم K-4 کی منظوری دے دی ہے اور محکمہ بلدیات کو ہدایت کہ ہے کہ وہ ایف ڈبلیو او کے ساتھ معاہدہ کریں اور ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کیا جائے۔ واضح رہے کہ 25.551 بلین روپے کے K-4 منصوبے میں وفاقی حکومت کا حصہ مجموعی لاگت کا 50 فیصد ہے۔ دنیا میں پینے کے صاف پانی کے ذخائر تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں جس کی جانب ہر ریاست اپنی توجہ مرکوز کر رہی ہے کیونکہ پانی زندگی کا لازمی جزو ہے۔

پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ پانچ بڑے دریاؤں کا مالک ہونے کے باوجود پڑوسی ملک کی شرانگیزی کے باعث یہاں کے دریا سوکھ رہے ہیں جب کہ ناقص حکمت عملی اور حکومتوں میں وژن کی کمی کے باعث پانی کے اہم مسئلے کو کبھی قابل غور سمجھا ہی نہیں گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پانی کی کمی کے مسئلے نے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا۔

زمینی حقائق یہ ہیں کہ شہر قائد کے رہائشی پانی کی کمی کے شدید مسئلے سے دوچار ہیں، زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے نیچے جا رہے ہیں جس کے باعث بورنگ کے پانی کا حصول بھی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے جب کہ ڈملوٹی کے عظیم کنویں جن سے شہر کو پانی کی ترسیل ہوتی تھی، عدم نگہداشت کے باعث ناکارہ ہو چکے ہیں، حب ڈیم سے پانی کی فراہمی جاری ہے لیکن وہ بھی ایک بڑے علاقے کو پانی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ امید ہے مذکورہ K-4 منصوبہ شہر قائد میں پانی کی قلت پر قابو پانے میں معاون ثابت ہو گا۔ نہروں کی بھل صفائی ہنگامی بنیادوں پر کرائی جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔