پاکستان کا 30 لاکھ پناہ گزینوں کو بے دخل کرنے کا فیصلہ. مغربی میڈیا

ایکسپریس اردو  اتوار 22 جولائ 2012
مہاجرین امن ومعیشت کیلیے خطرہ بن گئے،عالمی برادری کوتشویش ہے تومہاجرین کویورپ لے جائے،انچارج برائے امورپناہ گزین

مہاجرین امن ومعیشت کیلیے خطرہ بن گئے،عالمی برادری کوتشویش ہے تومہاجرین کویورپ لے جائے،انچارج برائے امورپناہ گزین

کراچی: برطانوی میڈیاکے مطابق پاکستان رواںبرس کے اختتام تک افغان باشندوں کے پناہ گزینی کی حیثیت( اسٹیٹس)کومنسوخ کرنیکامنصوبہ بنارہا ہے، برطانوی اخبارگارجین کے مطابق دنیاکاسب سے بڑا افغان مہاجرین کاحامل ملک پاکستان اس وقت30لاکھ افغانیوںکوبے دخل کرنے جارہا ہے۔

اخبارکے مطابق ان پناہ گزینوںکوواپس بھیجنے سے افغانستان مزیدبحران کاشکارہوجائے گاجوپہلے ہی عسکریت پسندی کی وجہ سے تباہ ہے،اخبارکے مطابق مغربی ممالک اس پالیسی پرنظر ثانی کیلیے پاکستان پردبائوڈال رہے ہیں،اس پالیسی سے پاکستان کے تعلقات اقوام متحدہ اوردیگرعالمی شراکت داروںسے بگڑسکتے ہیں،بین الاقوامی برادری اورافغان حکومت نے پناہ گزینوںکی اتنی بھاری تعدادکی واپسی کی صورتحال سے نمٹنے کیلیے کوئی حکمت عملی تیارنہیں کی،

پاکستان میںافغان پناہ گزینوںکے امورکے انچارج حبیب اللہ خان نے اخبارکوبتایاکہ اسلام آباداس پالیسی پرنظرثانی کیلیے کوئی نرمی نہیںدکھائے گا،انھوںنے کہاکہ مہاجرین امن وامان،تحفظ،معیشت اورمقامی ثقافت کیلیے خطرہ بن چکے ہیں،

انھوںنے کہا کہ اگربین الاقوامی برادری کواس مسئلے پرزیادہ تشویش ہے تووہ افغان مہاجرین کیلیے اپنے ممالک کے دروازے کھول دے،افغان پناہ گزین یورپ،امریکا،کینیڈا، آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ خوش رہناپسندکریںگے،پاکستان نے 30سال سے زیادہ عرصہ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ہے۔اس وقت1.7 ملین افغان مہاجرین کا اندراج ہے اور ان میںسے نصف سے زیادہ18سال سے کم عمر ہیں اور کیمپوں میںرہتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔