احسن سلیم بھی چلے گئے…!

رئیس فاطمہ  ہفتہ 2 جولائ 2016
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

یکم دسمبر 2015 سے میرا رابطہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ سے ایسا ٹوٹا کہ ادھر رخ کرنے کو جی ہی نہی چاہا۔ زندگی کتنی ظالم ہے اور آپ کے چاروں طرف کس طرح مفادات کے بھیڑیے دانت، پنجے اور ناخن تیز کیے لمحہ لمحہ بڑھتے ہیں۔ اس کا ادراک خوب خوب ہوا، لیکن انھی خونخوار بھیڑیوں میں کوئی امن کی فاختہ یا محبت کا نغمہ گانے والی بلبل چپکے سے نمودار ہوکر کس طرح ہمدردی اور بے لوث خدمت سے کٹھن دنوں کو برداشت کرنے کا درس دیتی تھی۔ اس کا بھی تجربہ خوب خوب ہوا۔

جمعہ 24 جون کو دانیال راشد کے کہنے پر ان کے گھر جا کر اپنے موبائل پہ ای میل چیک کی تو پتا چلا کہ انڈیا سے نندکشور وکرم جی کی کئی ای میل موجود ہیں۔ میں نے اسی وقت ان کا جواب دیا کہ اس میل میں وکرم جی کا یہ شکوہ بھی تھا کہ راولپنڈی سے شایع ہونے والے ’’چہار سو‘‘ کے مدیر  گلزار جاوید نے پرانے پتے پرکئی پرچے بھیجے، لیکن وہ مجھے نہیں مل سکے۔ ساتھ ہی وکرم جی نے بار بار اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں قاضی اختر جوناگڑھی پرکوئی تازہ مضمون انھیں بھیجوں تاکہ وہ اسے آئندہ آنے والے ’’عالمی اردو ادب‘‘ میں شامل کرسکیں۔

اس میل کا جواب بھی میں نے فوراً دیا اور ایک دن کے وقفے کے بعد اتوار 26 جون کی شام جب دوبارہ دانیال راشد کے گھر پہنچی اور موبائل چیک کیا تو ’’فیس بک‘‘ پر سب سے پہلے جو چہرہ سامنے آیا وہ احسن سلیم کا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ انھیں ٹی بی کا مرض لاحق ہے، لیکن جس طرح وہ تصویر لگی تھی اس سے میں نے یہ سمجھا کہ ہفتہ واری ادبی نشست کی ہے، لیکن اگلے ہی لمحے ایک ہولناک انکشاف عقیل عباس جعفری اور طارق رئیس فروغ کی لگائی گئی خبر سے ہوا۔ ایک عجیب سا سناٹا میرے وجود میں اتر گیا۔

احسن سلیم مدیر سہ ماہی ’’اجرا‘‘ صرف ایک فرد نہیں تھے۔ ان کی ذات میں ایک ذمے دار شوہر، مشفق باپ، مخلص دوست، جفا کش محنتی اور جینوئن ادیب و شاعر تھے۔ وہ ایک وسیع حلقہ احباب رکھتے تھے۔ نیشنل بینک کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کل وقتی مدیر بن گئے تھے۔ ممتاز رفیق کے توسط سے پہلے وہ ’’سخن زار‘‘ سے وابستہ ہوئے اور ایک نئے پرچے کو سامنے لانے کے لیے ہمہ تن مصروف ہوگئے۔ ادیبوں اور شاعروں کو بلاتخصیص خطوط ارسال کیے کہ ان کا مطمع نظر صرف اور صرف ’’اچھی اور معیاری‘‘ تخلیق تھا۔

قاضی اختر سے ان کا دیرینہ واسطہ تھا، لیکن میری ملاقات ’’سخن زار‘‘ کی اشاعت کے بعد ہوئی کہ انھیں میرا ایک افسانہ ’’چاندی کی پازیب‘‘ اور بھارت کا پہلا سفرنامہ ’’میرے خوابوں کی سرزمین‘‘ بہت پسند تھا۔ ایک موقعے پر ہمارے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے کہنے لگے ’’آپ کے افسانے کے سارے کردار ہمارے آس پاس ہی موجود ہیں اور انھیں باآسانی پہچانا بھی جاسکتا ہے، لیکن آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اس طرح قلم کو شمشیر برہنہ بنانے سے آپ اکیلی رہ جائیں گی، لوگ آپ کے دشمن بن جائیں گے۔‘‘

تب قاضی صاحب نے کہا تھا کہ ’’بھائی! میں تو سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا ہوں، لیکن ان پر تو سچائی سامنے لانے کا بھوت سوار ہے۔ یہ نہیں جانتیں کہ کیا سچ بولنے والے کا مقدر صرف زہرکا پیالہ ہوتا ہے۔‘‘ میں مصلحتاً وہاں سے اٹھ گئی کہ موضوع بدل جائے۔ تھوڑی دیر بعد کھانا لگا کر دونوں کو آواز دی۔ اس دن مٹرپلاؤ اور مٹن فرائی بنا ہوا تھا۔ احسن بھائی نے صرف مٹن فرائی اور شلجم کا پانی والا اچار رغبت سے کھایا۔

تب میں نے بصد اصرارکیا کہ تھوڑا سا تو مٹر پلاؤ بھی چکھ لیجیے کہ شلجم کا اچار اسی کے ساتھ مزہ دیتا ہے۔ انھوں نے ڈش کا ڈھکنا اٹھایا، پلاؤ کو غور سے دیکھا ، تھوڑا سا پلیٹ میں نکالا، پہلا نوالا لیا اور پھر مزید پلاؤ پلیٹ میں نکالنے کے ساتھ ہی بولے ’’بھئی! مجھے کیا پتا تھا کہ آپ چاول اتنے اچھے پکاتی ہیں، ایک ایک دانہ الگ، ورنہ ہم نے تو زیادہ ترگلتھی کھائے ہیں۔ اگر پہلے چکھ لیتا تو صرف یہی کھاتا۔‘‘ اکثر و بیشتر جب ہمارے گھر پہ احباب جمع ہوتے تھے تو ان میں ہمیشہ پروفیسر سحر انصاری، احسن سلیم، ندیم ہاشمی اور ان کی بیگم کی شمولیت لازمی تھی۔ بعض اوقات ناصر شمسی بھی تشریف لے آتے تھے۔

جب انھوں نے سہ ماہی ’’اجراء‘‘ نکالا تو بہت سے لوگوں نے ان سے کہا کہ وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ لیکن حالات نے ثابت کردیا کہ ’’اجراء‘‘ ایک منفرد اور وقت پہ آنے والا جریدہ ثابت ہوا۔ ہمارے ہاتھوں ’’اجراء‘‘ کی کاپیاں بھارت بھی پہنچیں۔ نندکشور وکرم بھی ان کے بڑے مداح تھے۔ چند برسوں کی اشاعت کے بعد احسن بھائی نے مجھے بھی ’’اجراء‘‘ کی مجلس ادارت میں شامل کرلیا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بقول قاضی اختر جونا گڑھی ’’یہ مکمل طور پر ون مین شو ہے۔‘‘

میں نے اکثر و بیشتر سوائے پروف ریڈنگ کے کچھ بھی نہ کیا سوائے اس حکم کی تعمیل کے کہ ’’آپ دونوں ہر شمارے کے لیے کچھ نہ کچھ دیں گے۔‘‘ اور ہم دونوں نے اس محبت بھرے حکم کوکبھی نہیں ٹالا۔ سن 2015 کی ابتدا میں انھوں نے ایک ’’عالمی اردو کانفرنس‘‘ کرنے کا ارادہ کیا۔ اختر کے پاس آئے اور ہم دونوں سے سہ روزہ ادبی کانفرنس کا پروگرام بنوایا۔ ہم نے یہ خیال رکھا کہ ریوڑیاں اپنوں اپنوں میں نہ بٹیں۔ پورا پروگرام ’’اجراء‘‘ کے نگران کی منظوری کے بعد فائنل ہوگیا۔ بہت سے لوگوں نے مالی مدد کی پیشکش اس طرح کی کہ پاکستان کے باہر سے آنے والے مہمانوں کو وہ ٹھہرانے کی ذمے داری اٹھائیں گے۔

اختر نے احسن بھائی سے کہا یہ پروگرام ان کے خیال میں ناقابل عمل ہے۔ پہلے آپ صرف کراچی شہرکی سطح پر ایک کانفرنس رکھیں اور ان کو بلائیں جنھیں سفارش نہ ہونے کی وجہ سے کوئی دوسرا ادارہ نہیں بلاتا کہ منتظمین کو جس مہمان سے کسی قسم کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ اس کا نام قلم زد کردیتے ہیں۔ دوسری دفعہ میں آپ کل پاکستان ادبی کانفرنس کیجیے اور اس کے بعد عالمی کانفرنس کی طرف دیکھیے۔ لیکن احسن بھائی کو کچھ موقع پرست لوگوں نے امید تو دلادی اور اسی امید کے نتیجے میں انھوں نے انڈیا سے نندکشور وکرم کو میرے ذریعے دعوت دلوائی۔ لیکن میں بوجوہ چپ رہی۔ پھر ایک دن ای میل کے ذریعے وکرم جی نے انکشاف کیا کہ انھیں سہ ماہی ’’ اجراء‘‘ کی طرف سے اکتوبر میں ہونے والی کانفرنس کا زبانی بلاوا مل گیا ہے تاکہ وہ اپنی تیاری مکمل کرسکیں۔

وکرم جی انھی دنوں ترکی کانفرنس میں شرکت کے لیے جانے والے تھے۔ انھوں نے مجھ سے جب تفصیل پوچھی تو میں حقیقت نہ بتا سکی۔ پھر ہوا یوں کہ ایک شام احسن بھائی آئے، مغرب کا وقت تھا، بہت اداس تھے۔ کہنے لگے ’’اختر بھائی! لوگ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ جنھوں نے ادیبوں کے لیے ہوائی جہاز کے ٹکٹ اور ٹھہرانے کا انتظام کیا تھا۔ دونوں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔‘‘

اختر بولے ’’احسن سلیم! تم بہت معصوم ہو۔ اگر تم پہلے ہی کسی سرمایہ دار، صنعت کار، سیاسی یا کاروباری شخصیت سے معاملات طے کرلیتے کہ کون صدارت کرے گا؟ کون مہمان خصوصی ہوگا؟ کون کون لوگ اسٹیج پہ بیٹھیں گے اور اس کے عوض کتنی اور کون سی خدمت انجام دیں گے تو تم ضرور کامیاب ہوتے۔‘‘ احسن سلیم نے مسکرا کر دیکھا اور بولے ’’پھر مجھ میں اور وہ جو دربار سجاتے ہیں۔ تاتا تھیا کرواتے ہیں، عالموں اور جینوئن ادیبوں کو کھڈے لائن لگاتے ہیں۔ جی حضوری کو پسند کرتے ہیں، موقع پرستوں، متعصبوں اور منافقوں کے بیج راجہ اندر بنے بیٹھے ہیں۔ ان میں اور مجھ میں اور ’’اجراء‘‘ کی ٹیم میں کیا فرق رہ جائے گا۔‘‘ وہ بہت بد دل ہوکر تقریباً ساڑھے گیارہ بجے شب رخصت ہوئے تو شکستگی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔

فروری 2016 میں ایک دن انھوں نے فون کیا اور بولے ’’تین چار دفعہ گھر آچکا ہوں، تالا پڑا ملتا ہے، آپ کہاں ہیں؟‘‘ پھر میرا جواب سن کر کہنے لگے ’’تارک الدنیا ہوکر آپ جیتے جی مرجائیں گی، گوشہ نشینی ختم کیجیے اور ہر اتوار کو ہونے والی ’’اجراء‘‘ کی نشستوں میں آنا جانا شروع کیجیے۔ آپ کو گھر سے لینے اور واپس گھر چھوڑنے کی ذمے داری ہماری ہے۔ بس آپ ہمت پکڑیے۔‘‘ پھر کچھ عرصے بعد اقبال خورشید سے بات ہوئی تو انھوں نے یہ ہولناک انکشاف کیا کہ احسن بھائی ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اوجھا سینی ٹوریم میں علاج ہو رہا ہے۔

یہ تکلیف دہ انکشاف سن کر میں نے فوراً احسن بھائی سے بات کی اور ان کی ہمت بندھائی کہ ٹی بی تو ایسا مرض نہیں جو لاعلاج ہو۔ پھر دو تین بار مزید بات ہوئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ احسن سلیم ہمیشہ سے اپنی صحت کی طرف سے بہت لاپرواہ تھے۔ انھیں کھانسی بہت آتی تھی۔ ہم نے کہا بھی کہ وہ دن بدن کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی اچھے ڈاکٹر سے مشورہ لیں لیکن وہ ’’محض کھانسی ہے‘‘ کہہ کر بات ختم کردیتے تھے اور 26 جون کو بات ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی۔

وہ اپنے گھر کے واحد کفیل تھے۔ گھر بھی کرایے کا ہے۔ ایسے میں اکادمی ادبیات پاکستان اور نیشنل بک فاؤنڈیشن جیسے بڑے اداروں کو ان کی بیوہ کی مدد کرنی چاہیے جو خود بھی ہیپاٹائٹس C کی مریضہ ہیں لیکن کمال کی باہمت خاتون ہیں۔ خدا انھیں صبر دے اور حکومتی اداروں کو توفیق دے کہ وہ ایک ادیب، شاعر اور مدیر کی رحلت کے بعد اس کے لواحقین کی ماہانہ مالی مدد کے لیے کچھ اقدام کرے۔ ہم سب کو احسن سلیم کی فیملی کا ساتھ دینا چاہیے، انھیں ہماری ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔