غبار خاطر کے باب سارے

جاوید قاضی  ہفتہ 2 جولائ 2016
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ کیا ہوا، دنیا ہل گئی، جس کے اثرات ابھی کچھ اس طرح سے آئے ہیں کہ جیسے 9/11 کے بعد آئے۔ سرد جنگ کو جب شکست ہوئی اور فوکی ہاما نے جب اس کی تشریح کچھ اس طرح کی تھی کہ ’’تاریخ دفن ہو گئی‘‘ اتنا بڑا واقعہ جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد بنے ہوئے ورلڈ آرڈر میں دراڑیں پڑ گئی ہوں۔ یوں تو جس ریفرنڈم کے ذریعے برطانیہ یورپی یونین سے جدا ہوا اس میں 52 فیصد نے جدا ہونے کی حمایت کی اور 48 فیصد نے نا کی۔ اب اس تفصیل میں تو نہیں جاتے لیکن یہ میرا کامل یقین ہے کہ برطانیہ اک دن یورپی یونین میں واپس آئے گا۔

لیکن برطانیہ کی اکثریت ان ووٹ دینے والوں ہی سے ہے، جنھوں نے جدا ہونے کی حمایت کی تھی، وہ مزدور یا ورکر تھے جن کو باہر سے آنے والے لوگوں نے دنیا کے سنگل مارکیٹ ہونے نے بے روزگار کیا یا ان کی آمدنیاں کم ہوئیں اور ویسے بھی یورپی یونین میں برطانیہ شروع سے اتنا سرگرم نہ تھا جتنا جرمنی اور فرانس تھے۔ اس کا ماضی، جب وہ دنیا پہ حکومت کرتے رہے اس کو ڈستا رہا۔ اس کا غرور پن اس کی نفسیات کا حصہ تھا۔ اور مغرب کی بنائی مشرق وسطیٰ کی پالیسی اور اتحاد جب بری طرح ناکام ہوا، خاص کر کہ شام سے آئے مہاجرین نے یورپ کو ہلادیا، برطانیہ کو یہ احساس ہوا کہ اب اس کی شناخت تحلیل ہو رہی ہے۔

یہ وہی کچھ ہے جس نے امریکا کے اندر ٹرمپ جیسے شخص کو زہر اگلنے کے لیے موقع دیا ہے۔ ہلیری کلنٹن کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار بننے والے برنی سینڈرز یہی کچھ یوں کہہ رہے تھے مگر تعمیری انداز میں۔

یوں کہیے کہ دنیا ہل گئی ہے۔ ایک تھا کارل مارکس جس نے انٹرنیشنل ہونے کی بات کی، پھر آیا انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کمال اور ساتھ ساتھ یہ مفہوم کہ سب کچھ مارٹن پر چھوڑ دو یا یہ کہ آزاد تجارت کی بات، اور اب اس پر بھی سوالیہ نشان آگئے کہ امیر، امیر تر ہوتا گیا، غریب غریب تر۔

جس طرح برنی سینڈرز کہتے ہیں کہ دنیا کے 62 امیر ترین لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے کہ جتنی کل ملا کے دنیا کی آدھی آبادی، یعنی 3.6 ارب لوگوں کے پاس ہوگی۔ دنیا کے ایک فیصد لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے جتنی دنیا کے 90 فیصد لوگوں کے پاس ہوگی۔

یہ پاکستان صرف شرفا کا پاکستان نہیں بلکہ اب یہ گلوبل دنیا شرفا کی دنیا ہے یا شرفا کی، کی ہوئی تشریح ہے۔

ایک لحاظ سے برطانیہ کا یورپی یونین سے جدا ہونا، خود سرمایہ داری نظام کی شکست تھی۔ یہ اور بات ہے کہ اس بحران میں وہ انٹرنیشنل موسینٹ تھی جس طرح سرد جنگ کے زمانے میں سوشلسٹ ہوا کرتے تھے۔ ایک طرف فرانس کے میٹرانڈ صدر تھے جنھوں نے پبلک سیکٹر کو پروان چڑھایا، دوسری طرف مارگریٹ تھیچر یا ریگن تھے، جنھوں نے فری مارکیٹ کی بات کی۔ پرائیویٹ سیکٹر کی بات کی۔

مغرب کو جان مینارڈ کینس کے فلسفے سے دور جانا پڑا، وہ فلاحی ریاست والا فلسفہ کہ مارکیٹ کو اپنے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، اسے ریگولیٹ کرنا پڑے گا۔

آج پھر سے مارکیٹ کی ناانصافی نے امریکا کے اندر ٹرمپ جیسے شخص کو جنم دیا ہے۔ خود یورپ اس کی لپیٹ میں آگیا ہے تو اسلام کے نام پر خود مشرق میں طرح طرح کی تباہی پھیلانے والے فسادات پھیلانے والے مسلح جتھے بن رہے ہیں۔

دوسری طرف برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے نے یہ ثابت کردیا کہ اب مغرب دنیا کی قیادت نہیں کرسکتا، وہ خود اپنے آپ سے ڈس گیا۔ آزاد تجارت سے بڑھنے والا چائنا اب دنیا کا سب سے بڑا لیڈر بن کر ابھر چکا۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی ناکامی کی وجہ اب وہ ایسے ہی ادارے بنا چکا۔ اب مغرب کی خارجہ پالیسی کا محور مشرق وسطیٰ نہیں بلکہ ایشیا ہوگا۔

یقینا ایک طرف ہمیں مذہبی انتہاپرستی سے تشویش ہے، لیکن چائنا کے ابھرنے سے اور اس کا ہمارے ساتھ اسٹرٹیجک اتحاد کو سی پیک سے نئی راہیں کھلیں گی۔ پاکستان اگر رواداری کو اپنے پلو سے نہیں باندھے گا تو آنے والے زمانے پاکستان کے زمانے ہیں۔

برطانیہ کا یورپی یونین سے جدا ہونا خود محمود اچکزئی کے لیے بھی ایک پیغام تھا تو انھوں نے بھی بالآخر کہہ ڈالا اور اس طرح دنیا میں علیحدگی پرست تحریکیں اور زور پکڑیں گی، ان کو کمزور کرنے کے لیے وفاق کی بنیادوں کو اور مضبوط کرنا پڑے گا۔

یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا، جس طرح حادثے اچانک جنم نہیں لیتے، وقت کرتا ہے پرورش ان کی زمانوں سے۔

دنیا انصاف کی تلاش میں ہے، دنیا انصاف کی تلاش میں رہے گی، اس لیے اب کی بار سب سے بڑا چیلنج غربت کو ختم کرنا ہے۔ یہ شرفا کا پاکستان ہو یا شرفا کی دنیا۔ اسے بدلنا ہے۔ برطانیہ کیا جدا ہوا، ہمارے لیے غبار خاطر کے سارے باب کھل گئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔