شف شف مت کرو شفتالو بولو

اوریا مقبول جان  پير 4 جولائ 2016
theharferaz@yahoo.com

[email protected]

کوئٹہ سے تقریباً ستر کلو میٹر دور افغانستان کی سرحد کے پاس ایک سرسبز و شاداب علاقہ گلستان ہے جس کا گاؤں عنائت اللہ کاریز خان عبدالصمد اچکزئی کے خاندان کا مسکن ہے۔ کوئٹہ سے چمن جانے والی شاہراہ پر ایک مقام قلعہ عبداللہ ہے جہاں سے سڑک گلستان کی جانب مڑتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 1980ء کے بعد افغان مہاجرین آکر آباد ہونا شروع ہوئے اور جنگل پیر علی زئی کا بہت بڑا افغان مہاجرین کیمپ وجود میں آگیا۔ محمود خان اچکزئی جو خان عبدالصمد اچکزئی کا فرزند اور سیاسی روایت کا وارث ہے، اس زمانے میں افغانستان میں خودساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے تھا۔ لیکن اس کی پارٹی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی بلوچستان کے پشتون علاقے میں سرگرم عمل تھی۔ یہ پارٹی ایک سیاسی تسلسل کا نام ہے۔

جب بلوچی گاندھی کہلانے والے عبدالصمد اچکزئی کے سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان کے بیٹے عبدالولی خان سے اس بنیاد پر اختلاف شروع ہوا کہ وہ بلوچستان میں پشتون علاقوں پر مشتمل ایک علیحدہ انتظامی و سیاسی شناخت چاہتا تھا بلکہ اس دور کے صوبہ سرحد کے پشتونوں اور بلوچستان کے پشتونوں کو بھی ایک وحدت میں اکٹھا کرنے کا علمبردار تھا۔ عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی میں چونکہ بلوچ قوم پرستوں کا ایک طاقتور گروہ خیربخش مری، عطاء اللہ مینگل اور غوث بخش بزنجو کی صورت موجود تھا اور یہ گروہ بلوچستان کی تقسیم کے حق میں نہیں تھا۔

اس لیے نتیجہ یہ نکلا کہ عبدالصمد خان نے اپنی راہیں علیحدہ کرلیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یحییٰ خان نے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ون یونٹ توڑ کر بلوچستان صوبہ بحال کیا تھا۔ 1970ء کے الیکشن کا زور شور تھا۔ بلوچستان قوم پرست سیاست کا مرکز و محور تھا۔ بلوچستان سے اس وقت قومی اسمبلی کی چار نشستیں تھیں۔ تین بلوچ علاقوں میں اور ایک پشتون علاقے میں۔ بلوچ علاقوں میں قوم پرست قیادت  نے حیران کن نتائج دکھائے۔ خان آف قلات جو بلوچ وحدت کی علامت سمجھا جاتا تھا اس کے دونوں بیٹے شکست کھاگئے۔ ایک مرحوم غوث بخش بزنجو سے اور دوسرا اس زمانے میں میڈیکل کالج کے طالب علم ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ سے، جب کہ تیسری نشست خیر بخش مری کے حصے میں آئی۔ پشتون علاقے کی نشست پر عبدالصمد اچکزئی امیدوار تھے۔ ان کے مقابلے میں جمعیت العلماء اسلام کے مولانا عبدالحق الیکشن لڑرہے تھے۔

مولانا مفتی محمود کی یہ پارٹی ایک ایسے منشور کے ساتھ الیکشن میں اتری تھی جس کا بنیادی نکتہ علماء کرام کے بائیس نکات کی بنیاد پر شریعت کا نفاذ تھا۔ عبدالصمد خان کی پشتون قومیت کا نعرہ ایک بے وسیلہ اور سادہ سے مولوی عبدالحق کے ہاتھوں شکست کھاگیا۔ عزت بچانے کے لیے اب صرف صوبائی اسمبلی کی نشست رہ گئی تھی۔ الیکشن میں تین دن باقی تھے۔ اچکزئی قبیلے کے سرکردہ رہنما یعنی ’’مشران‘‘ توبہ اچکزئی کے حاجی بہرام خان کی سربراہی میں قبیلے کی ناموس کا واسطہ لے کر نکلے اور عبدالصمد خان اچکزئی بمشکل تمام صوبائی اسمبلی کی نشست جیت سکے۔ جمعیت العلمائے اسلام نے بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور شریعت کے نفاذ کا نعرہ منشور کی کتاب میں دفن ہوگیا۔ دوسری جانب عبدالصمد خان اچکزئی کی سیاست میں اس شکست نے مستقل ایک ملّا دشمنی کی شکل اختیار کرلی جو آج تک قائم ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب افغانستان میں نور محمد ترکئی کا ثور انقلاب آیا تو اس پارٹی کی محبتوں کا محور اور مرکز بن گیا۔ عبدالصمد اچکزئی اور خان عبدالغفار خان اور ان کی نسلوں نے افغانستان میں ہر اس حکومت سے محبت کی جو پاکستان مخالف اور بھارت کی ہمنوا رہی۔ وجہ صاف ظاہر ہے دونوں سرحدی اور بلوچی گاندھی تھے۔ سرحدی اور بلوچی جناح نہیں تھے۔ افغانستان میں روس کی افواج داخل ہوئیں تو ان کے خلاف علم جہاد مذہبی قوتوں نے بلند کیا۔ بلوچستان میں جب افغان مہاجرین نے آنا شروع کیا تو ان کے فطری میزبان بھی یہاں کی مذہبی قوتیں بن گئیں۔ اس دوران  پشتونخواہ پارٹی نے پورے صوبے کی دیواریں دو نعروں سے رنگین کردیں۔

ایک ’’افغان بھگوڑوں کو واپس کرو‘‘ اور دوسرا ’’پنجابی استعمار مردہ باد‘‘ افغان سرحد کی دوسری جانب محمود اچکزئی کا خود ساختہ جلاوطنی کا ٹھکانہ تھا۔ لیکن اطلاعات یہی تھیں کہ وہ پاکستان میں ہی خاموشی سے گھومتا ہے، کیونکہ افغانستان میں تو خود حکومت والے بھی محفوظ نہ تھے، اس بیچارے کی کون حفاظت کرتا۔ 1980ء سے روسی فوج کے شکست خوردہ حالت میں لوٹنے تک پاکستان کا ہر کمیونسٹ اور موجودہ دور میں سیکولرازم میں پناہ لینے والا سیاست دان اور دانشور پاکستان کی مذہبی قوتوں کو خوفزدہ کرتا تھا۔ دیکھو چند دنوں بعد روس تورخم اور چمن سے داخل ہوگا، پھر دیکھیں گے تمہیں اور تمہارے نظریے کو۔ روس نے ذلت آمیز شکست کھائی تو محمود خاں اچکزئی کو گھر کی یاد ستانے لگی۔ ضیاء الحق کی وفات کے بعد پہلے الیکشن ہوئے۔ پشتون علاقوں میں مولویوں نے قوم پستوں کو بدترین شکست دی۔

ابھی تک محمود خان اچکزئی کے نزدیک افغان مہاجرین افغان بھگوڑے ہی تھے۔ مولویوں نے اکبربگٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔ حکومت بنتے ہی رمضان کا  مہینہ آگیا۔ محمود خان اچکزئی کی پارٹی کے کارکن  اس مقدس مہینے میں کوئٹہ کی جناح روڈ پر پوری رات  موجود رہتے تھے۔ میں اس وقت اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ تھا۔ مولویوں نے وزیراعلیٰ اکبربگٹی سے سب سے پہلے اس  پر  پابندی لگوائی۔ پورا رمضان کوئٹہ کی انتظامیہ  کارکنوں کی سرگرمیوں کو روکنے میں مصروف رہتی۔ پشتونخوا پارٹی کی دشمنی مولوی سے بھی لیکن مقابلہ اسلام سے۔ پشتون ثقافت بمقابلہ اسلام کہ ہم تیس ہزار سال سے پشتون ہیں، مسلمان تو چودہ سو سال سے ہیں۔ ۔ افغان مہاجرین ابھی تک افغان بھگوڑے ہی تھے ان کے نزدیک، لیکن 1988ء کے الیکشن میں محمود خان اچکزئی کی سیاست نے بلوچ قوم پرستی کے خلاف محاذ بنایا۔ ایک نعرہ بلند کیا گیا۔ ’’دہ بولانہ تاچترالہ پشتونستان دی‘‘ بولان سے چترال تک پشتونستان ہے‘‘۔

دوسری جانب اکبر بگٹی اپنے ناراض بلوچ قوم پرستوں کو ساتھ لے کر میدان میں آگئے اور کہا ’’چترال ٹھیک ہے لیکن بولان کی جانب نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھنا‘‘۔ کوئٹہ میں بلوچ پشتون فسادات نے دونوں جانب لاشیں گرانا شروع کر دیں۔ کوئٹہ کا پہلا طویل کرفیو یکم اگست 1988ء کو مجھے ہی لگانا پڑا۔ درمیان میں ضیاء الحق کا طیارہ تباہ ہو گیا۔ اب کوئی ڈر کے مارے کرفیو اٹھاتا نہیں تھا۔ ایک مہینہ چلتا رہا۔ الیکشن ہوئے، محمود خان کی سیاست پشتون علاقوں میں ہار گئی اور ملا جیت گیا۔ شکست کے بعد محمود خان اچکزئی کو دو لوگ شدت سے یاد آئے۔

ایک افغان مہاجرین اور دوسرے کوئٹہ میں بسنے والے پنجابی۔ اگلے الیکشنوں میں اسی پنجابی سے محبت کی پینگیں بڑھائی گئیں جس کو پچاس سال تک جلسوں اور جلوسوں میں گالی دی گئی۔ نواز شریف کے جلسے نے کوئٹہ کی قومی اسمبلی کی نشست پر محمود خان اچکزئی کی جیت کو یقینی بنا دیا۔ بلوچستان کی دیواروں سے پنجابی استعمار کے نعرے بھی ختم ہو گئے اور افغان بھگوڑوں کے طعنے بھی۔ لیکن محمود خان اچکزئی کا دل ابھی بھی کابل  کا طواف کرتا تھا۔ اس کی ایک وجہ سیاست کی مجبوری تھی جب کہ دوسری وجہ اچکزئی کی قوم کی اکثریت کا مخصوص کاروبار پر حاوی ہونا تھا۔ سرحد کے دونوں جانب یہ قبیلہ آباد ہے اور  کاروبار کرتا ہے۔ افغان مجاہدین کی آپس کی خانہ جنگی نے مذہبی طبقے کو رسوائی تحفے میں دی اور محمود خان اچکزئی کو تنقید کا بہانہ۔ وجہ صرف یہ تھی کہ محمود خان اس وقت بھی اور آج بھی تخت کابل پر ایک پشتون دوست چاہے وہ  پاکستان دشمن حکومت  ہی کیوں نہ ہو کو اپنے لیے نعمت سمجھتا ہے۔ اس کی سیاست ہی اسی سے گرم بازاری آتی ہے۔

1995ء میں ملا محمد عمر نے افغانستان میں حکومت قائم کی تو تقریباً گزشتہ تین صدیوں میں ایسی حکومت تھی جس نے امن قائم کیا۔ امن و امان کا یہ عالم افغانوں سے ہتھیار واپس لے لیے اور انھوں نے بخوشی دے دیے کہ اب ہماری جان اور مال کے محافظ آ گئے ہیں۔ افغان جس پوست کی وجہ سے پوری دنیا میں بدنام تھے اسے ایک حکم نامے سے ختم کر دیا گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب محمود خان اچکزئی سے لے کر عبدالولی خان تک سب کے سب خاموش ہو گئے۔ پنجابی میں کہتے ہیں ’’ماں مر جانا‘‘۔ بالکل یہی عالم دونوں پارٹیوں پر طاری تھا۔ اس لیے کہ اب پاکستان کو گالی  دے کر  افغانستان میں پناہ لینا مشکل ہو گیا تھا۔ پشتونوں کے یہ دونوں عظیم خیرخواہ جو اس بات پر راضی تھے کہ روس پشتونوں کا خون بہائے۔

گیارہ ستمبر کے بعد امریکا کو بھی انھوں نے  خوش آمدید کہہ دیا۔ انھیں بخوبی علم ہے کہ افغان مہاجرین کی اکثریت نے اپنے وطن واپسی صرف اور صرف ملا محمد عمر کے زمانے میں اختیار کی تھی۔ محمود خان کے علاقے میں جنگل پیر علی زئی اور گلستان کے کیمپ بالکل اجڑ گئے تھے۔ محمود خان کو علم ہے کہ اب افغانستان میں امن نہیں اور نہ ہی نزدیک مستقبل میں قائم ہو سکتا ہے۔ کوئی مہاجر بدامنی میں واپس نہیں جائے گا۔ اسی لیے وہ افغان مہاجرین کو حمایت کا لولی پاپ دے کر یہ موقع کھونا نہیں چاہتا۔ وہ ان کی ہمدردی پر سیاست کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ دو، ضرور دو کہ تمہاری سیاست ہے لیکن تاریخ کا غلط سہارا مت لو۔ تاریخ بہت ظالم ہے، وہ کسی علاقے پر کسی قوم کا حق تسلیم نہیں کرتی۔پوری انسانیت ہجرت کی داستان ہے۔ صاف بولو مجھے مہاجرین کی ضرورت ہے۔ پشتو میں کہتے ہیں شف شف مت کرو، شفتالو بولو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔