برادریوں کی سطح پر سیاست کا سلسلہ زوروں پر

اسماعیل ڈومکی  منگل 27 نومبر 2012
نواب شاہ کے مقامی سیاسی منظر نامے میں عبدالکریم آرائیں کی شخصیت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ فوٹو : فائل

نواب شاہ کے مقامی سیاسی منظر نامے میں عبدالکریم آرائیں کی شخصیت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ فوٹو : فائل

نواب شاہ:  نواب شاہ میں مختلف برادریاں آباد ہیں۔ عام انتخابات میں انہی برادریوں کی حمایت اور اپنے امیدوار کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے سیاسی جماعتیں متحرک ہو چکی ہیں۔

یہاں کی قاضی برادری کی اکثریت اپنا ووٹ ایم کیو ایم کے امیدوار کو دیتی ہے، لیکن یہاں کے معروف بلڈر قاضی رشید نے اپنی برادری کے افراد کو متحد کرنے کے بعد ان پر مشتمل تنظیم کے چیئرمین کا عہدہ حاصل کر لیا ہے، جس کے بعد پہلا عشائیہ پیپلز پارٹی کے مقامی راہ نما اور ایم این اے فریال تالپور کے کوآرڈی نیٹر ضیاء الحسن لنجار کے اعزاز میں دیا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ضیاء الحسن لنجار نے قاضی برادری کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے پر انھیں خراج تحسین پیش کیا اور پیپلز پارٹی کی جانب سے انھیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

قاضی برادری سرپرست نہ ہونے کی وجہ سے منتشر نظر آتی تھی، ان کی اکثریت محنت کش ہے اور بعض متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ قاضی برادری کی جانب سے پیپلز پارٹی کی بااثر شخصیت کے اعزاز میں عشائیہ ایم کیو ایم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، اگر ایم کیو ایم نے فوری طور پر قاضی برادری کا ہاتھ نہ تھاما تو اگلے عام انتخابات میں انھیں بھاری ووٹوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

پچھلے دنوں مغل برادری کو بھی منظم اور متحد کرنے کے لیے نواب شاہ کے ایک بلڈر محمد عظیم مغل نے ان کا اجلاس منعقد کیا۔ مغل برادری کے اجلاس میں سندھی، پنجابی اور اردو بولنے والے مغل برادری کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی، اس موقع پر عظیم مغل کو اپنی برادری کا سر پرست مان لیا، محمد عظیم بھی دیگر برادریوں کے سربراہوں کی طرح مغل برادری کو متحد اور مضبوط کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں آئے روز اجلاس منعقد کر رہے ہیں، جن میں اپنے لوگوں کے مسائل جان کر انھیں حل کرانے کی کوشش کی جاتی ہے، محمد عظیم مغل کو ڈاکٹر سرور مغل، اختر مغل ایڈووکیٹ جیسے باصلاحیت افراد کا ساتھ حاصل ہے۔ مغل برادری کے متحد ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلزپارٹی کو ہو گا، کیوں کہ محمد عظیم مغل پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں اور عام انتخابات میں وہ اپنی برادری کے ووٹ پیپلز پارٹی کو دلوانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ محمد عظیم مغل نواب شاہ شہر کی نشست پی ایس چوبیس کے لیے پی پی پی کا ٹکٹ چاہتے ہیں۔

نواب شاہ کے ایک اور بلڈر محمد صادق آرائیں المعروف چاچا صادق بھی الیکشن کے قریب آنے پر سرگرم نظر آرہے ہیں ، چاچا صادق آرائیں کو جوڑ توڑ کا ماہر تصور کیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی طارق مسعود آرائیں کو پیپلز پارٹی سے ٹکٹ دلوانے اور شہر سے امیدوار نام زد کرانے میں محمد صادق آرائیں کی کاوشیں بھی شامل ہیں، صادق آرائیں پہلے پپپلزپارٹی میں شامل تھے اور سابق ضلع ناظمہ فریال تالپور کے قریبی اور بااعتماد ساتھی مانے جاتے تھے، مگر بعد میں اختلافات کی وجہ سے انھوں نے پیپلزپارٹی کو چھوڑ دیا تھا۔ انھیں اس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی، چند ماہ قبل صادق آرائیں کو پولیس کے ہاتھوں دو بار گرفتار ہونا پڑا۔ آیندہ عام انتخابات میں چاچا صادق آرائیں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا حساب برابر کرنے کے لیے ابھی سے متحرک ہو گئے ہیں۔

نواب شاہ میں آرائیں برادری بھی نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے پچھلے الیکشن میں فتح اور پنجابی برادری کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے پنجابی امیدوار کو ٹکٹ دینے کی حکمت عملی اختیار کی تھی۔ ان کی فہرست میں معروف صنعت کار چوہدری غلام علی آرائیں، چوہدری عبدالقیوم آرائیں، چوہدری ظفر علی آرائیں اور ریٹائرڈ میجر افضل شامل تھے اور ان چار افراد میں سے میجر ریٹائرڈ افضل آرائیں اس وقت کی ضلعی ناظمہ فریال تالپور کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھے۔ چوہدری غلام علی اور چوہدری عبدالقیوم آرائیں اور ظفر آرائیں نے الیکشن لڑنے سے معذرت کرلی تھی جس کے بعد محمد افضل آرائیں مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے، مگر سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر چاچا صادق آرائیں نے انھیں پیچھے کرتے ہوئے طارق مسعود آرائیں کو پارٹی ٹکٹ دلوا دیا، جنھوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار کو شکست دے کر کام یابی حاصل کرلی۔

یاد رہے کہ یہی طارق مسعود آرائیں پرویز مشرف کے دور میں یو سی ناظم کے الیکشن میں ناکام رہے تھے۔ اب طارق مسعود آرائیں تیسری بار پھر انتخابی معرکے کے لیے امیدوار ہیں، مگر انھیں اپنی ہی برادری کی مخالفت کا سامنا ہے۔ عبدالقیوم آرائیں بھی اس بار الیکشن میں حصہ لینے کے لیے سرگرم ہیں اور آرائیں برادری کے سب سے مضبوط امیداوارکے طور پر سامنے آسکتے ہیں، جس سے طارق مسعود آرائیں پریشان نظر آرہے ہیں۔

گذشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے ضیاء الحسن لنجار کے ماموں مصطفیٰ عرف بابو انتقال کر گئے، جنھیں نواب شاہ کے ایک قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، مرحوم کی نماز جنازہ میں پی پی پی کے اراکین سندھ اسمبلی حاجی احمد علی جلبانی، سید فصیح احمد شاہ، غلام قادر چانڈیو، سردار جام تماچی انڑ، طارق مسعود آرائیں، پی پی پی کے راہ نما محمد ایوب خان رند، شاہ نواز رند، دوست علی رند، خالد چنا، صدر آفتاب زرداری، انجینئر میر محمد سیال و دیگر شریک ہوئے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔