ہر شجر مینار خوں، ہر پھول خونیں دیدہ ہے

رئیس فاطمہ  اتوار 10 جولائ 2016
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

ہمیشہ کی طرح رمضان فیسٹیول بھی گزر گیا، اور عید بھی۔ ہمیشہ ہی کی طرح رمضان کی آمد سے پہلے گراں فروشوں کے خلاف حکام بالا کی تنبیہ کہ کسی چیز کی قیمت نہیں بڑھنے دی جائے گی، ذخیرہ اندوزوں اور زیادہ نرخ پر اشیائے خور و نوش بیچنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا حکم۔ بالکل وہی 60 سالہ پرانے بیانات۔ صرف بیان دینے والوں کے نام بدل گئے یا حکومتیں بدل گئیں۔ سب کچھ وہی پرانا۔ صرف لیڈر نئے۔ لیکن اب تو لیڈر بھی وہی ہیں کہ کئی کئی بار اقتدار کے ہنڈولے میں بیٹھ چکے ہیں۔

کبھی ہنڈولا اوپر جاتا ہے اور کبھی نیچے آ جاتا ہے۔ ہنڈولا چلانے والا بھی وہی 60 سال پرانا، مشینری بھی وہی۔ مہنگائی مہنگائی کا رونا روتے روتے عید بھی گزر گئی۔ کسی کو اداس کر گئی، کسی کا کلیجہ چھلنی کر گئی، کسی ماں کو اس کے بیٹے سے جدا کر گئی، کسی کے سر کا تاج چھن گیا، تو کوئی سب کو روتا چھوڑ کر خود آرام سے قبر میں جا سویا۔ کہتے ہیں مرنے والے کے ساتھ مرا تو نہیں جاتا۔ بالکل صحیح۔ لیکن جو پیچھے رہ جاتے ہیں وہ مرتے تو نہیں، البتہ زندہ درگور ضرور ہو جاتے ہیں۔ تنہائی، اداسی، خود غرضی اور بے رحمی کے ناگوں کے درمیان زندہ رہنا، زندہ درگور ہونا ہی ہے۔ کتنے ہیں جو اس عذاب سے گزر رہے ہیں۔

تو بتائیے کہ گزرنے والی عید (بہت سوں کے لیے اب بھی عید ہے کہ ان کے لخت جگر ان کے ساتھ ہیں) کا نوحہ کیونکر نہ لکھوں؟ کیا امجد صابری جیسے منکسرالمزاج مقبول، ہمدرد اور اپنے فن کے بے تاج بادشاہ کے قتل کو بھول جاؤں۔ جسے دن دہاڑے خود اس کے محلے کے سامنے بیچ سڑک پر مار دیا گیا، امن بحال کرنے کی لایعنی بے سروپا محض ہوائی بیانات کا نوحہ کیوں نہ لکھوں؟ کیا سندھ کے نایاب نسل کے وزیراعلیٰ کے بیانات کی خوشیاں مناؤں کہ سائیں صرف گفتار کے غازی اور نیند کے بادشاہ ہیں۔

کیا میں اس نوجوان لڑکی کے قتل کو بھول جاؤں جس کو اپنی پسند کی شادی کرنے پر سگی ماں نے جلا کر مار ڈالا، یا گجرات کے زمیندار کی اس بیٹی کا نوحہ لکھوں جسے اس کے باپ نے غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یا اس لڑکی کا نوحہ لکھوں جس کو پسند کی شادی کرنے پر تین سال بعد بھی اس کے رشتے داروں نے معاف نہ کیا اور خونی رشتوں نے اسے موت کی نیند سلا دیا۔ یا ان بے گناہ عورتوں کا نوحہ لکھوں جنھیں تیزاب پھینک کر جھلسا دیا گیا اور یہ سب غیرت کے نام پر؟ یا پھر اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی ڈائریکٹر غلام ربانی کی بدنصیب ماں کا نوحہ لکھوں جو اپنے ہی سگے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہو گئی، مجرم نے چھریوں کے پے در پے وار کر کے ماں کو قتل کر دیا اور مزے سے 10 لاکھ کی ضمانت پہ رہا بھی ہو گیا؟ یا پھر مفتی عبدالقوی اور قندیل بلوچ نامی سوسائٹی گرل کی شان میں قصیدہ لکھوں؟ کہ جو مفتی ہونے کے ناطے کسی بھی عورت کے سر سے دوپٹہ سرک جانے پر جہنم کے عذاب سے ڈراتے ہیں اور کسی کو بھی کافر اور مرتد ٹھہرانے کے فتوے جاری کرنے کے ٹھیکیدار ہیں، وہ اندر سے کتنے کریہہ ہیں۔ بہتر ہوتا کہ وہ اپنی ٹوپی قندیل بلوچ کو پہنانے کے بجائے اس سے نکاح کر لیتے کہ مولوی سب سے پہلے ’’اسلام میں بیک وقت چار شادیاں جائز ہیں‘‘ کا حوالہ دینے سے نہیں چوکتا، لیکن انھیں خبر ہی نہ ہوئی کہ قندیل بلوچ جسے کل تک کوئی نہیں جانتا تھا، اس کے قرب اور عشق نے ’’عزت سادات‘‘ داؤ پر لگا دی۔ میر تقی میرؔ تو اگلے وقتوں کے لوگ تھے، نہ اس وقت ٹی وی تھا نہ انٹرنیٹ، نہ موبائل فون اور جان کا عذاب سوشل میڈیا۔ پھر بھی وہ ’’عزت‘‘ کے مفہوم سے اچھی طرح واقف تھے۔ تبھی گو کہہ گئے کہ:

میرؔ صاحب زمانہ نازک ہے
دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار

لیکن یہاں ایک مذہبی ٹھیکیدار کا جنون اور دل کے ہاتھوں مجبوری کا پردہ ایک گمنام عورت کی وجہ سے جس طرح چاک ہوا ہے اسے اب وہ دوبارہ کسی سوئی دھاگے سے سی نہیں سکتے۔ البتہ قندیل بلوچ نامی عورت نے جس طرح اپنے مقاصد حاصل کیے، اس کی داد اسے اپنے طبقے سے ضرور مل رہی ہو گی۔ لیکن ہر غلط بات کی طرح عبدالقوی بھی دوبارہ میدان میں آ جائیں گے کہ وہ مرد ہیں، مفتی ہیں اور مولوی ہیں۔ بالادست طبقے کے فرد ہیں۔

یہ رمضان جس طرح گزرا ہے اور عید کرب کے ساتھ منائی گئی ہے۔ میں کیوں نہ گریہ کروں؟ اخبارات ایک طرف سحری و افطار کے فوڈ اسٹریٹ اور ہوٹلوں کے رمضان پیکیج سے بھرے پڑے ہیں اور اسی صفحے پر بھوک، غربت اور گھریلو پریشانی سے تنگ ایک 13 سالہ لڑکے کی چوری کی خبر چھپی ہے، جس نے ایک موبائل فون چرا لیا تھا، تا کہ اسے بیچ کر ماں باپ اور گھر والوں کے لیے روٹی کا بندوبست کر سکے کہ باپ گھر میں بیمار پڑا اور 13 سالہ بچے کو کراچی کی جونائیل جیل بھیج دیا گیا ہے۔

دوسری طرف قومی خزانوں کو مع اپنی آل اولاد کے لوٹنے والوں کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔ چاہیں تو اربوں روپے کی گھڑیاں تنومند کلائیوں کی زینت بنائیں، ہیروں کے کف لنکس کی چکاچوند سے عوام کو مرعوب کریں، کروڑوں ڈالرز کے فلیٹ خریدیں، محلات اور شاطو بنائیں اور ببانگ دہل آزاد پھریں۔ جھوٹے امراض میں مبتلا ہونے کی ’’پیکیج ڈیل‘‘ بیرون ملک کے ڈاکٹروں سے کریں۔

گھروں سے بوروں میں بند، پاؤنڈ، اسٹرلنگ، سونا اور دیگر کرنسی برآمد ہو، پلاٹ قبضے میں لیے جائیں، ایک ایک پارلیمنٹ کے ممبر کو کئی کئی گاڑیاں اور بینکوں کے قرضے بطور رشوت دیے جائیں، اور دوسری طرف بھوک سے مجبور ایک معصوم بچے رشید کو صرف ایک موبائل چوری کرنے کے جرم میں جیل میں ڈال دیا جائے۔ یہ ہے ناکام ریاست پہ ایک اور دھبہ۔

توانا و تندرست قائم علی شاہ اس واقعے کی رپورٹ طلب کر کے رشید کے مالی حالات معلوم کر کے اس کے گھر خود اپنی جیب سے نہیں بلکہ کسی خیراتی ادارے سے کہہ کر اس کے گھر راشن پانی تو ڈلوا سکتے تھے۔ لیکن انھیں ایسی باتوں کی سمجھ نہیں ہے۔ وہ صرف پیادے ہیں۔ شطرنج کا بادشاہ جو چاہتا ہے وہ اس کی تعمیل میں سر بسجود رہتے ہیں۔ سوتے ہیں، ہنستے ہیں اور ’’جی سائیں‘‘ کی گردان کرنے کا پھل مسلسل پا رہے ہیں۔

کیا پھر میں بھی اس عید کو ’’نوحوں‘‘ کی عید نہ کہوں؟ جب عید سے چند دن قبل سانگھڑ میں کھیت سے گھاس کاٹنے پر زمیندار نے آٹھ سالہ بچی کو قتل کر دیا۔ یا ان تنہا معمر والدین کی طرف دیکھوں جو صاحب اولاد ہونے کے باوجود اکیلے اور لاوارثوں کی زندگی گزار رہے ہیں؟ یا اس ماں کا نوحہ لکھوں جو اپنے لخت جگر کو دیکھنے کے لیے پل پل مر رہی ہے۔ پھر بھی دعا گو ہے کہ خدا اس کی اولاد کے درجات بلند کرے؟ یا ان بے حس لوگوں سے شکایت کروں جو ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ بن کر ظالموں کے ساتھی بن گئے؟

قاتل کو بھی عدالت ایک وکیل مہیا کرتی ہے جو قاتل کا موقف پیش کرتا ہے اور جج دونوں طرف کے دلائل سن کر فیصلہ دیتا ہے۔ لیکن جو ظالموں کے ساتھی بنے، مظلوم کی آہ لی، منفی پروپیگنڈے پہ ایمان لائے۔ ان کی نمازیں، روزے اور نفلی عبادتیں کیا قبول ہوں گی؟ خدا ایسا رمضان اور ایسی عید کم ازکم مجھے تو آیندہ نہ دکھائے کہ آنسوؤں کا سمندر ابھی سے ابلنے کو بے تاب ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔