اُمت مسلمہ دہشت گردی کے نشانے پر۔۔۔ اسلامی فکری اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے !!

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 11 جولائ 2016
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

دہشت گردی دنیا کے کسی بھی ملک میں ہو ، قابل مذمت ہے اور کوئی بھی ملک اس کی حمایت نہیں کرتا۔ اس وقت پورا عالم اسلام دہشت گردی، بد امنی اور افراتفری کی زد میں ہے۔ فلسطین، کشمیر، عراق، شام، یمن ، پاکستان اور اب سعودی عرب بھی دہشت گردوں کے مذموم عزائم کا نشانہ بن رہا ہے۔

مسلمان، دنیا کے کسی بھی کونے میں درد میں مبتلا ہو یہ درد پورے عالم اسلام میں محسوس کیا جاتا ہے لیکن اب تو باطل قوتوں نے تمام حدیں پار کردی ہیں۔ سعودی عرب اسلامی دنیا کا مرکز ہے اور مدینہ منورہ میں حملہ عالم اسلام کے دل پر حملہ ہے۔ اس حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے مگر یہ سلسلہ مذمت سے آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ اب باطل قوتو ں کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں اور ان کا ایجنڈہ اسلام دشمنی ہے۔ آج مسلمان اگر پوری دنیا میں مسائل کا شکار ہیں تو اس کی بڑی وجہ آپس کا انتشار ہے۔

اب وقت کی ضرورت یہ ہے کہ تمام مسلمان متحد ہوجائیں اوراللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں کیونکہ صرف اس میں ہی ہماری بقاء ہے۔ ’’ امت مسلمہ کو درپیش مسائل‘‘ کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ’’پاکستان علماء کونسل‘‘ کے مرکزی رہنماؤں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

مولانا طاہر محمود اشرفی
(چیئرمین پاکستان علماء کونسل)
اس وقت پورے عالم اسلام اور پوری دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی بڑھ رہی ہے جس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کے مسائل حل نہ ہونا ہے۔ فلسطین سے کشمیر تک اور کشمیر سے شام، عراق اور یمن تک ، تمام اسلامی ممالک کے اندر بد امنی اور افراتفری ہے۔ مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا جارہا ہے اور ہمارے مقدس مقامات کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے ۔

اس کے علاوہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے پورا عالم اسلام اضطراب میں ہے۔ اس ساری صورتحال میں ایسے گروہ اور جماعتیں وجود میں آئی ہیں جنہوں نے اپنے مذموم عزائم کے لیے مسلم نوجوانوں کے ذہنوں کو یرغمال بنا لیا ہے اور وہ ان نوجوانوں کو مسلمان ممالک میں مسلمانوں کے خلاف استعمال کررہی ہیں جو افسوسناک ہے۔ مدینہ منورہ میں خود کش حملہ اسلام دشمنوں کا آخری اقدام ہے۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی عسکری اتحاد کی قیادت مل بیٹھے اور یہ فیصلہ کرے کہ ان مسائل کا حل کیسے کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اس حوالے سے بھی حکمت عملی تیار کی جائے کہ عالمی دہشت گرد تنظیموں ، ان کے سرپرستوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے ممالک سے کس طرح نمٹنا ہے اور کس طرح ان کا راستہ بند ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم نوجوانوں کی قرآن و سنت کے مطابق تعلیم و تربیت، انہیں اسلام کی طرف راغب کرنے اور دہشت گردی سے بچانے کے لیے بھی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔اسلام دشمن قوتوں نے عراق، شام، لیبیا اور یمن کو تباہ کردیا ہے جبکہ اب انہوں نے حرمین شریفین پر حملہ کی جسارت کی ہے۔ حرمین شریفین مسلمانوں کی وحدت کی علامت ہیںاوراس حملہ نے مسلمانوں کے دل توڑ کر رکھ دیے ہیں۔

حرمین شریفین اور مدینہ منورہ پر ہر مسلمان کی جان قربان ہے اور سب خون کے آنسو رورہے ہیں۔ ملت اسلامیہ کے دشمنوں کی حکمت عملی اب واضح ہوچکی ہے، جس طرح انہوں نے شام، عراق اور لیبیا کو تباہ کیا اسی طرح اب وہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کو دیکھنا چاہتے ہیں۔میرے نزدیک اس واقعہ سے مسلم امہ کو وحدت اور اتحاد کی طرف لے جایا جاسکتا ہے اور اس کے لیے ہمیں سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے۔مسلم امہ کے مسائل کے حل کے لیے قطر کی قیادت اہمیت رکھتی ہے۔

قطر، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کی قیادت آپس میں مل بیٹھے اور متحدہ عرب امارات سمیت تمام اسلامی ممالک ان کے ساتھ تعاون کریں تو ملت اسلامیہ کو بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔ اس وقت بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘پاکستان کے پڑوسی اسلامی ممالک میں بیٹھ کر ہمارے ملک کے خلاف سازشیں کررہی ہے ، ہمارے ملک میں بد امنی اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو بھی ناکام بنانا چاہتے ہیں اور ہمارے ایٹمی منصوبے سے بھی خائف ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں پاکستان صرف ایک ایٹمی طاقت ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کی بھی طاقت ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان دشمنی اور اسلام دشمنی میں پاکستان کو نقصان پہنچارہے ہیں۔

اس کے علاوہ اسلام دشمن قوتوں کی جانب سے یمن اور بحرین کے امن کو خراب کرکے سعودی عرب پر حملے کیے جارہے ہیں تاکہ وہاں کا امن خراب ہوسکے اور افراتفری پھیل جائے۔ سعودی عرب تمام اسلامی ممالک کا مرکز ہے، یہاں صورتحال خراب ہونے سے پوری اسلامی دنیا اضطراب میں آجائے گی۔ پاکستان اور سعودی عرب میں حالات خراب کرنے کی سازشوں کی طرح شام میں خانہ جنگی شروع کروا کر ترکی میں دھماکے کیے جارہے ہیں۔ میرے نزدیک اسلام دشمن قوتیں اسلامی دنیا کی تین بڑی طاقتوں، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کو تباہ کرنے کی سازش کررہی ہیں۔ ہمیں ملکر ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور ان کے دانت کھٹے کرنے ہیں۔

پہلے الاقصیٰ اور کشمیر، ملت اسلامیہ کے دو مسائل تھے لیکن آج شام سے عراق تک اور یمن سے فلسطین ، کشمیر تک ہر جگہ مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے لہٰذا ضرورت یہ ہے کہ جہاں ہم الاقصیٰ کی آزادی کی بات کریں، وہاں ہم اپنے مقدسات، بیت اللہ اور روضۂ رسولﷺ کی حرمت اور تقدس کی بات بھی کریں اور وہ قوتیں جو ارض حرمین شریفین میں فساد پیدا کرنا چاہتی ہیں انہیں واضح پیغام دیں کہ ہم الاقصیٰ کی آزادی بھی لیں گے،حرمین شریفین کا تحفظ اور دفاع بھی کریں گے اور اب کسی اسلامی ملک کو شام اور عراق نہیں بننے دیں گے۔

پاکستان علماء کونسل اس حوالے سے بھرپور کردارا ادا کررہی ہے کہ پوری امت مسلمہ کو متحد کیا جائے۔ اس کے لیے ہم نے گزشتہ سال جمعتہ الوداع کا نام یوم تحفظ ارض حرمین شریفین والاقصیٰ رکھا کیونکہ یہ مسلمانوں کی وحدت کی علامت ہے اور کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جو حرمین شریفین پر جان قربان کرنا نہ چاہتا ہو بلکہ ہم ارض حرمین شریفین کے دفاع اور استحکام کیلئے ہروقت تیار ہیں۔اس سال جمعتہ الوداع کے موقع پر پاکستان علماء کونسل کے تحت قائم وفاق المساجد پاکستان کی 74ہزار سے زائد مساجد میں شام، عراق، فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین کے تحفظ ،الاقصیٰ کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے اور ملک کے اندر سے فرقہ وارانہ تشدد، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کی جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزم بھی کیاگیا۔ داعش ایک فتنا ہے، مسلمان نہ صرف اس فتنے کا خاتمہ کریں گے بلکہ اس طرح کی دیگر تنظیمیں جو مسلم نوجوانوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کررہی ہیں ان کا مقابلہ بھی کریں گے۔ہم جمعیت علماء پاکستان، جمعیت علماء امامیہ اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اور جمعیت علماء اسلام سمیت تمام مذہبی جماعتوں سے رابطے میں ہیں ، تحفظ ارض حرمین شریفین والاقصیٰ ایک مقدس کام ہے لہٰذا جو ہمارے ساتھ رابطے میں نہیں ہوگا وہ بھی اس کی تائید کرے گا۔کون ہوگا جو حرمین شریفین والاقصیٰ کی آزادی، فرقہ واریت، دہشت گردی اور خوارج کے نظریات کے خاتمے کے لیے تیار نہیں ہوگا؟

ہماری اپیل پر تمام مکاتب فکر کے علماء نے جمعتہ الوداع کو یوم تحفظ ارض حرمین شریفین والاقصیٰ کے عزم کے طور پر منایااور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جس سے پوری دنیا کو پاکستان سے وحدت کا پیغام ملا اور یہ واضح ہوگیا کہ پاکستان کسی بھی صورت امت مسلمہ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر خاموش نہیں رہے گا ۔جمعتہ الوداع کے روز پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام 70کے قریب کانفرنسیں ، ریلیاں اور جلسے منعقد ہوئے، 74ہزار سے زائد مساجد میں قراردادیں پیش کی گئیںاور اس طرح پورے ملک میں امن یکجہتی اور اتحاد کی فضا نظر آئی جو خوش آئند ہے۔ پاکستان علماء کونسل امت مسلمہ کی وحدت کے لیے بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔

پاکستان علماء کونسل کے تحت قائم قومی مصالحتی کونسل میں سنی، شیعہ سمیت تمام مسلمان اور غیر مسلم موجود ہیں، جب بھی ملک میں انتشار پیدا کرنے یا بین المذاہب یا بین المسالک تصادم کی کوشش کی گئی تو ہم نے میدان میں نکل کر اس صورتحال کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ پوری قوم کو متحد کیا۔ ہم نے ہر مشکل صورتحال میں آگے بڑھ کر کردار ادا کیا۔ سانحہ راولپنڈی ہو یا سانحہ یوحنا آباد، پاکستان علماء کونسل نے تمام مکاتب فکر اور مذاہب کے لوگوں کو ایک میز پر لاکر مصالحتی کردار ادا کیا اور ملک کو کسی بڑے انتشار سے بچایا۔

عالمی سطح پر ہم چاہتے ہیں کہ جس طرح مسلم ممالک کے درمیان اسلامی عسکری اتحاد قائم ہوا ہے، اسی طرح مسلم دنیا اسلامی اقتصادی اتحاد اور اسلامی فکری اتحاد بھی قائم کرے۔ اس کے لیے ترکی، سعودی عرب، قطر اور پاکستان کے قائدین کو آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا۔اسلامی دنیا میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ ہم اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہیں جس کی وجہ سے ہمارے گرد خطرات بڑھ رہے ہیں جبکہ ہمارا ایٹمی پروگرام نشانے پر ہے لہٰذا ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔ دفاعی امور میں عرب ممالک نے ہماری بہت مدد کی اور ہمارا ایٹمی پروگرام تکمیل کو پہنچا لہٰذا اب ہمیں آگے بڑھ کر اسلامی دنیا کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو خارجہ پالیسی کو آزاد بنانا ہوگا جبکہ ہمیں دوست اور دشمن ممالک میں تمیز کرنا ہوگی اور دیگر ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی اسی کے پیش نظر ہونے چاہئیں۔

مولانا زاہد قاسمی
(مرکزی رہنما پاکستان علماء کونسل )
ترکی کے بعد سعودی عرب میں حملہ تمام مسلمانوں کے دلوں پر حملہ کے مترادف ہے۔ سعودی عرب ہمارا مرکز ہے، مدینہ منورہ کی حرمت پر ہماری جان قربان ہے اور ہم اس پر کوئی آنچ نہیںآنے دیں گے۔ اس وقت اسلام دشمن طاقتیں کھل کر سامنے آگئی ہیں اور ان کا مقصد اسلامی ممالک میں افراتفری اور بد امنی پھیلانا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلمان متحد ہوجائیں اور ملکر دشمن عناصر کا مقابلہ کریں۔ پاکستان علماء کونسل دنیا بھر میں وحدت کا پیغام پھیلا رہی ہے۔

رواں ماہ یکم جولائی کو پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں بڑے مقامات پر تحفظ ارض حرمین شریفین و الاقصیٰ کانفرنسیں منعقد ہوئیں اور جمعہ کے خطبات میں حرمین شریفین کا تحفظ، مکہ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت اور امت مسلمہ میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینے کے حوالے سے عوام میں شعور پیدا کیا گیا۔جمعتہ الوداع کو ہم نے پاکستان میں فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے عوام سے عزم لیا ۔ ہمارے اجتماعات میں آئمہ، خطباء، علماء اور طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اس میں نہ صرف پاکستان علماء کونسل بلکہ تمام مکاتب فکر کی مقامی قیادت نے بھی شرکت کی۔ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں صرف جمعتہ الوداع کو الاقصیٰ کے لیے ہی منایا جاتا تھا مگر پاکستان علماء کونسل نے دو، تین سالوں سے اس میں وسعت پیدا کی ہے۔

مسجد اقصیٰ ہو، بیت الحرام ہو یا مسجد نبویؐ ہو، ان کی عزت کرنا اور ان مقامات کا تحفظ ہر مومن پر فرض ہے۔ ہمارا یہ پیغام ہے کہ مسجد اقصیٰ کے احترام کے ساتھ ساتھ بیت اللہ کی حفاظت اور تحفظ بھی ضروری ہے اور اس سے امت مسلمہ کے اندر وحدت کا پیغام آئے گا۔بعض قوتیں اسلامی دنیا میں فرقہ وارانہ فسادات کروانا چاہتی ہیں، اس کے علاوہ کبھی لسانی فسادات کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کا بنیادی مقصد مسلم ممالک میں انتشار اور بد امنی پھیلانا ہے۔ ہم نے اس حوالے سے قدم اٹھایا ہے، اب ملک میں فرقہ واریت اور انتہاپسندی میں کمی آئے گی اور جو قوتیں دہشت گردی کو فروغ دینا چاہتی ہیں انہیں ناکامی ہوگی۔

پاکستان علماء کونسل گزشتہ ما ہ کراچی میں معروف قوال امجد صابری کے قتل کی مذمت کرتی ہے کیونکہ اسلام کسی کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہیںجبکہ ظالموں کیخلاف ہیں کیونکہ اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا۔پاکستان علماء کونسل مسلسل پانچ سال سے اتحاد و امن کے حوالے سے صف اول میں کردار ادا کررہی ہے، کبھی ہم اتحاد بین المسلمین کے نام پر ، کبھی استحکام پاکستان اور کبھی وحدت امت کے نام پر کانفرنسیں کررہے ہیں جس سے وحدت کا پیغام جاتا ہے۔ یہ اعزاز پاکستان علماء کونسل کے پاس ہے کہ ہم پورا سال تمام مکاتب فکر اور مذاہب کے لوگوں کو ایک میز پر جمع کرتے ہیں اور ہر مشکل صورتحال میں آگے بڑھ کر کردار ادا کرتے ہیں ۔ مسلم امہ کے مسائل کے حل کے لیے ہماری جدوجہد ہمیشہ جاری رہے گی۔

مولانا ایوب صفدر
(مرکزی رہنما پاکستان علماء کونسل )
مدینہ منورہ میںخودکش حملہ سے دہشت گردوں نے اسلام کے دل کو نشانہ بنایا ہے، باطل قوتیں مسلمانوں کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور دیگر اسلامی ممالک میں تباہی پھیلاتے ہوئے اب وہ سعودی عرب میں پہنچ گئی ہیں جو افسوسناک ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور اب ہمیں مل کر ان قوتوں کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ بیت اللہ شریف ، نبیؐ کا روضہ اطہر اور مسجد اقصیٰ، تینوں ہمارے لیے مقدس ہیں اور ان کی تعظیم اور حرمت کا خیال کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستان علماء کونسل نے اسی بناء پر یہ طے کیا ہے کہ ہم نہ صرف علماء کو، بلکہ تمام طبقا ت کو تحفظ حرمین شریفین والاقصیٰ پر جمع کریں کیونکہ ان مقامات کا تحفظ اور دفاع جتنا علماء کی ذمہ داری ہے اتنی ہی ہر مسلمان کی ہے۔

جب تک پوری امت متحد ہوکرکوشش نہیں کرے گی، اس وقت تک نہ صرف ہمارے مقامات مقدسہ بلکہ امت کا وجود ہی خطرے میں ہے۔اس وقت مسلم امہ کے خلاف عالمی سازشیں ہورہی ہیں اور قتل و غارت، فسادات، بمباری صرف اسلامی ممالک میں ہورہی ہے۔ اب یہ واضح نظر آرہا ہے کہ بعض غیر مسلم قوتوں نے اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کا تہیہ کرلیا ہے لہٰذا ہم نے بھی تہیہ کرلیا ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت کے مسلمانوں کو اکٹھا کریں گے اور اس کفر ، ظلم اور جبر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔

پیر خالد محمود قاسمی
(مرکزی رہنما پاکستان علماء کونسل )
مدینہ امن کا شہر ہے، اس شہر کو نقصان پہنچانا انتہائی افسوسناک ہے، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس وقت اسلام دشمن قوتوں کی سازشیں بے نقاب ہورہی ہیں، دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے لیے اسلامی ممالک میں انارکی پھیلارہے ہیں لہٰذا اب سب کو متحد ہوکر ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا ہوگا۔ ہم خانقاہی نظام کا حصہ ہیں لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان علماء کونسل نے تحفظ ارض حرمین شریفین و الاقصیٰ کے نام سے امت کو متحد کرنے کاقدم اٹھایا ہے تو میں نے انہیں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ ایک مقدس کام ہے لہٰذامیں نے بالخصوص سیال شریف اور پاکپتن شریف میں ان کے گدی نشینوں اور مشائخ سے رابطہ کیا ہے ،ہم اس مشن میں ساتھ ہیں کیونکہ یہاں سے فرقہ واریت کی چنگاری نکل سکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔